مغرب سے درآمد شدہ روشن خیالی اور جمہوریت کو پھانسی کا ایک ہی تختہ نصیب ہوگا ` شاید پھندا بھی ایک ہی ہو! 18-10-2011

kal-ki-baatجنرل مشرف قوم کے گلے پر ” روشن خیالی “ کی کند چھری پھیرتے رہے۔
اور اس وقت جو کند چھری قوم کے گلے پر پھر رہی ہے وہ ” جمہوریت “ کی ہے۔
دیکھنے اور سننے میں دونوں اصطلاحیں بے حد پرُکشش اور قابل تحسین ہیں۔ روشن خیالی کا مطلب ہے خیالات میں روشنی۔ ایسی کیفیت جس میں دل و ماغ پر اندھیرے نہ چھائے ہوں۔
مگر روشن خیالی کے عنوان کے تحت ہم نے دیکھا کیا ہے ۔؟ اور دیکھ کیا رہے ہیں ۔؟
مرد عورت کا صارف بن گیا ہے۔ عورت اپنے خریدار کا دل لبھانے کے لئے اپنے کپڑے اتارتی چلی جارہی ہے۔ کل کی ” سوسائٹی گرلز“ کے طور طریقوں کو آج کی شریف زادیوں نے اپنا لیا ہے۔ جس عورت کو خدا نے ماں کے روپ میں عظمتوں کی یہ معراج بخشی کہ کہہ دیا کہ جس شخص نے بھی میری اور اپنی ماں کی لاج رکھی وہ جنّتی ہے۔ وہ عورت مٹک مٹک کر ` لچک لچک کر ` بے لباسی کے لباس میں آدم کے حریص بیٹوں کو دعوت نظارہ دے رہی ہے۔
جب میں ٹی وی چینلز پر اس کلچر کی جھلک دیکھتا ہوں جو ہم بڑے اشتیاق کے ساتھ اختیار کرتے جارہے ہیں تو یہ سوچے بغیر نہیں رہ سکتا کہ دنیا کتنی تیزی سے تبدیل ہوئی ہے۔ کل کی فحاشی آج کا فیشن بن گئی ہے۔
اور یہ جو جمہوریت ہے۔ اس کا لفظی مفہوم تو ہے جمہوریعنی عوام کی حکومت۔ مگر حقیقت کس قدر تلخ ہے!جمہوریت کی آڑ میں دولت کے پجاری اپنی دولت کی طاقت سے اقتدار پر قابض ہو کر لوٹ مار کا ایسا بازار گرم کرتے ہیں کہ خدا کی پناہ۔
دنیا بھر میں سرمایہ دارانہ نظام کی اس کنیز (جمہوریت)کی چیرہ دستیوں کے خلاف تحریک اٹھ کھڑی ہوئی ہے۔ پہلا نعرہ ” وال سٹریٹ پرقبضہ کرو“ لگا ہے۔ اور اب عوام معاشی جبر کی دوسری علامتوں کے خلاف بھی صف آراءہوتے نظر آرہے ہیں۔
کیا اہل ِپاکستان کی امنگوں کو بے دردی کے ساتھ ذبح کرنے والے ڈاکو اور لٹیرے اس عالمی تحریک کے بڑھتے ہوئے اثرات سے محفوظ رہ سکیں گے ۔؟
مجھے لگتا ہے کہ مغرب سے درآمدکی گئی روشن خیالی اور مغرب سے ہی درآمد شدہ جمہوریت کو پھانسی کا ایک ہی تختہ نصیب ہوگا۔ شاید پھندا بھی ایک ہی ہو۔

Scroll To Top