دوسری چوریاں پکڑنے کا مینڈیٹ جے آئی ٹی کو کس نے دیا ؟

aaj-ki-baat-new-21-aprilمیاں نوازشریف اور اُن کی ذہین و باتدبیر ٹیم نے عدلیہ کی قائم کردہ جے آئی ٹی پر اعتراضات کی بھرمار کرکے فاضل جج صاحبان کو حیران ششدر اور بے بس کرکے رکھ دیا ہے۔۔۔
سب سے بڑا اعتراض میاں صاحب کا یہ ہے کہ جے آئی ٹی نے اپنی تحقیقاتی سرگرمیوں کو اُس مینڈیٹ تک محدود نہیں رکھا جو اسے دیا گیا تھا۔۔۔ اس کی وجہ یوں بیان کی جاسکتی ہے کہ جے آئی ٹی سے کہا گیا کہ پتہ لگاﺅ کہ چور نے گلی نمبر گیارہ کے گھر نمبر ستانوے میں چوری کی یا نہیں۔۔۔ جے آئی ٹی نے تحقیقات کرکے یہ رپورٹ دے ڈالی ہے کہ چور نے گلی نمبر گیارہ کے گھر نمبر ستانوے میں ہی نہیں گلی نمبر بارہ کے گھر نمبر ستاسی اور گلی نمبر سترہ کے گھر نمبر باسٹھ میں بھی چوریاں کیں۔۔۔میاں صاحب نے عدلیہ سے پوچھا ہے کہ جے آئی ٹی کو ان دوسری چوریوں کے بارے میں تحقیقات کا مینڈیٹ کس نے دیا تھا۔۔۔
اس قسم کا ایک اعتراض میاں صاحب کو یہ ہے کہ جے آئی ٹی کا ایک رُکن آئی ایس آئی کا حاضر سروس ملازم نہیں ۔۔۔ اگر وہ حاضر سروس ملازم ہوتا تو ممکن ہے کہ ملک کے وزیراعظم کو چورثابت کرنے والے شواہد پر خود بھی پردہ ڈالتا اور اپنے ساتھیوں کو بھی پردہ ڈالنے پر مجبور کرتا۔۔۔
باخبر ذرائع کا کہنا ہے کہ وزیراعظم یہ اعتراض بھی کرنے والے تھے کہ جے آئی ٹی کے ارکان امام ضامن باندھ کر کام کرنے کے لئے گھر سے نکلتے تھے ¾ اس کی وجہ سے ان پر نہال ہاشمی وغیرہ کی گولہ باری کا کوئی اثر نہیں ہوتاتھا۔۔۔اگر جے آئی ٹی کے اراکین اپنے اندر سے حکومت کا ڈر اور خوف نکال نہ پھینکتے تو ان کی تحقیقات متوازن ہوتی۔۔۔
آخری لمحات میں وزیراعظم کو ان کے بعض مشیروں نے یہ اعتراض کرنے سے روک دیا کیوں کہ اس سے یہ تاثر بھی پیدا ہوسکتا تھا کہ جو امام ضامن میاں صاحب باندھتے ہیں وہ ایک مستند شیر کا امام ضامن نہیں۔۔۔
یہ اعتراض میاں صاحب نے ضرور کیا ہے کہ جے آئی ٹی نے جتنا زور چور کو چورثابت کرنے پر لگایا ہے اگر اس سے آدھا زور بھی چور کو بے قصور ثابت کرنے پر لگاتی تو انصاف کے تقاضے زیادہ احسن طریقے سے پورے ہوتے۔۔۔جے آئی ٹی نے اس حقیقت کی دھجیاں اڑا ڈالی ہیں کہ چوروں کے بھی بنیادی حقوق ہوتے ہیں۔۔۔
میاں صاحب کو ایک اعتراض یہ بھی ہے کہ جے آئی ٹی کے ارکان مسلم لیگ )ن(سے تعلق نہیں رکھتے اس لئے ان کی ہمدردیاں دوسری جماعتوں سے ہیں جو تمام کی تمام قومی ترقی کے اس برق رفتار سفر کے سامنے دیوار بن کر کھڑی ہوگئی ہیں جو میاں صاحب کی حکومت نے شروع کررکھا ہے۔۔۔ میاں صاحب کا کہنا ہے کہ یہ وقت چوروں کو پکڑنے کا نہیں ترقی کے سفر کو آسان بنانے کے لئے سڑکیں تعمیر کرنے کا ہے۔۔۔
فاضل جج صاحبان کے بارے میں کہا جارہا ہے کہ وہ سر پکڑ کر بیٹھ گئے ہیں۔۔۔ ان کا خیال یہ تھا کہ میاں صاحب جے آئی ٹی کے سنسنی خیز انکشافات کو غلط ثابت کرنے کے لئے کوئی ٹھوس دستاویزی ثبوت سامنے لائیں گے لیکن میاں صاحب نے تو یہ اعتراض بھی داغ دیا ہے کہ جے آئی ٹی بنانے سے پہلے اس کے اراکین کے قدوقامت وزن اور لباس وغیرہ کے بارے میں تصدیق شدہ تفصیلات ریکارڈ کا حصہ نہیں بنائی گئیں۔۔۔

Scroll To Top