ایک اور خودکش حملہ

zaheer-babar-logoصوبائی درالحکومت میں خودکش حملے میںایف سی کے میجر سمیت دو اہلکاروں کی شہادت کا واقعہ ایسے موقعہ پر سامنے آیا جب سیکورٹی فورسز کی جانب سے خبیر ایجسنی کے دشوار گزار علاقے راجگال میںآپریشن شروع کیا گیا۔یاد رہے کہ ہفتہ کے روز آئی ایس پی آر کی جا نب سے کہا گیا کہ آپریشن کامقصد اس علاقے میں دولت اسلامیہ کا اثرنفوزکم کرناہے۔
وطن عزیز میں حالیہ دنوں میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کونشانہ بنانے کے واقعات میں تیزی آئی ہے۔ چند روز قبل بلوچستان میں دہشت گردی کے دوواقعات میں پولیس کے دواعلی افسران کو نشانہ بنایا گیا۔ یہ بتانے کی ضرورت نہیں کہ جب شہریوں کی جان ومال کے رکھوالے خود ہی نشانہ پر ہونگے تو پھر عام آدمی کو کیا پیغام ملے گا۔اب تک کئی دہائیوںسے جاری دہشت گردی کی کاروائیاں کئی شکلیں بدل چکی ہیں۔ ایسا بھی ہوا کہ بھرے بازار میںنہتے اور معصوم لوگوں کو نشانہ بنایاگیا۔ سیاست دان، علماءکرام، پولیس ، مسلح افواج ، خفیہ ادارے، طلبہ ، استاد ، تاجر غرض شائد ہی کوئی طبقہ ہو جو اس عفریت سے بچ گیا ہو۔یقینا ضرب عضب اور اب ضرب ردالفساد کی شکل میں قیام امن میں بڑی حد تک بہتری آئی ہے مگر مکمل طور پر اطمنیان کا اظہار کرنا بہرکیف مشکل ہے۔
اہل پاکستان کے عز م وہمت کو داد نہ دینا زیادتی ہوگی جنھوں نے اپنے ہزاروں ہم وطنوں کی قربانی دینے کے باوجو د کسی طور پر ظالم وجابر ٹولہ کے سامنے ہتھیار نہیںپھینکے۔ دراصل ملک میں انتہاپسندی کے خلاف لڑی جانے والی لڑائی کو اعصاب شکن جنگ کہنا غلط نہ ہوگا۔ بلاشبہ بھارت سمیت کئی علاقائی اور عالمی طاقتیں ان پرتشدد گروہوں کی کامیابی سے سرپرستی کررہیں جو مملکت خداداد پاکستان میں آگ وخون کا کھیل جاری رکھے ہوئے ہیں۔
درست کہا گیا کہ نائن الیون کے بعد سے کر اب تک قومی منظر نامہ پر ابھرنی والی سیاسی قیادت پوری یکسوئی سے کام لیتی تو آج بڑی حد تک اس عفریت پر قابو پایا جاچکا ہوتا۔ اگر مگر چونکہ چنانچہ کا کھیل جاری وساری رکھنے والے اہل اقتدار دراصل اس سنگین مسلہ میں بھی اپنے مفادات ڈھونڈتے رہے چنانچہ نتیجہ یہ نکلا کہ اس چیلنج پر اس طرح سے قابو نہ پایا جاسکا جس کی بجا طور پر ضرورت تھی۔ اس ضمن میں حزب اقتدار اور حزب اختلاف میں مثالی تعاون نہیں، حد تو یہ ہے کہ بعض حلقے یہاں تک دعوی کرتے ہیں ۔ بادی النظر میں اہل سیاست قومی اداروں کو الجھائے رکھنے کی حکمت عملی پر کاربند ہیں تاکہ ان کے ”مفادات “کو کسی قسم کا کوئی خطرہ نہ رہے۔مثلا قومی ایکشن پلان پر سالوں گزرنے کے باوجود مکمل طور پر عمل درآمد نہیں ہورہا اگرچہ حکومتی حلقے اعلانیہ یہ تسلیم کرنے کو تیار نہیں مگر حقیقت یہ ہے کہ سانحہ پشاور کے بعد سے لے کر اب تک صرف زبانی جمع خرچ پر اکتفا کیا جارہا ہے۔
عصر حاضر میں جہاں جہاں دہشت گردی سے سراٹھایا اس کے لیے پولیس کو فعال کرنے کی پالیسی پر عمل درآمد کیا گیا۔ افسوس ہمارے ہاں تاحال یہ نہیں ہوسکا۔ ناقدین کے بعقول کم وبیش دس سال سے زائد عرصہ سے یہ پالیسی جاری ہے کہ ناکامیوں کابوجھ ایک دوسرے پر لاد کر سرخرو ہونے کی کوشش کی جائے۔ سابق صدر پرویز مشرف ملک بھر کی پولیس کو بہتر بنانے میں کامیاب نہ ہوئے تو دوسری جانب پی پی پیہ اور پی ایم ایل این کی حکومتیں بھی اس ضمن میں قابل رشک کارکردگی کا مظاہرہ نہ کرسکیں۔آج صورت حال یہ ہے کہ کراچی سے خبیر تک فوج ان گروہوں کے خلاف صف اول کا دستہ ہے جو مخصوص اہداف رکھتے ہیں۔
سانحہ پشاور کے بعد یہ بھی کہا گیا کہ انتہاپسندانہ خیالات کا مقابلہ کرنے کے لیے متبادل بیانیہ سامنے لایا جائیگا۔ اس بارے بھی زمہ داروں نے بلند وبانگ دعوے کیے مگر کوئی پیش رفت نہ ہوسکی۔ایک رائے یہ ہے کہ بعض لوگ جو اس جنگ میں کلیدی عہدوں پر براجمان ہیں کہ وہ اس لڑائی کے پس منظر اور پیش منظر کا پوری طرح ادارک ہی نہیں رکھتے۔ پرتشدد نظریات کے خلاف ہم ایسے دور میں برسر پیکار ہیں جب داعش عملا عراق وشام کے مختلف علاقوں میں اپنی حکومت کا اعلان کرچکی یعنی کہ یہ تشدد کے زریعہ حکومت حاصل کرنے کی حکمت عملی محض نظریہ تک محدود نہیں رہی ۔ حال ہی میں ایران میں داعش کی کاروائیاں اس امر کا ثبوت ہیں کہ دولت اسلامیہ دنیا بھر میں اپنا نیٹ ورک رکھتی ہے۔ تشویشناک پہلو یہ ہے کہ داعش مسلم وغیر مسلم دونوں ملکوںمیں اپنی موجودگی کا احساس دلاچکیں۔ پاکستانی حکام کے لیے بہت بہتر ہوگا کہ وہ عالمی سطح پر ان مسلح گروہوں کی حکمت عملی کا جائزہ لے جو دہشت گردی کی مختلف کاروائیوں میں ملوث ہونے کا اعتراف کررہیں۔
وسیع تناظر میں پاکستان جیسے اسلامی ملک میں مستقل امن وامان کا قیام آسان نہیں۔ اس کے لیے قلیل مدتی منصوبوں کے علاوہ طویل المدتی اقدمات اٹھانے ہونگے۔ اس پس منظر میں لفظ سازش کے تواتر سے استمال کرنے سے احتراز لازم ہے ۔ بھارت اور اس کے ہم خیال ملکوں سے خیر کی توقع نہیںلہذا اول وآکر ہمیں گھر کو درست کرنا چاہے۔ قیام امن کے لیے زمہ داروں کو رائج نظام میں موجود وہ خامیاں دور کرنا ہونگی جو طویل عرصہ سے موجود ہیں ۔ پشاور میںحالیہ خودکش حملے میں پاک فوج کے آفیسر کی شہادت ایک بار پھر غور وفکر کی دعو ت رہی تاکہ مستقبل میںمذید جانی نقصان سے بچا جاسکے۔

Scroll To Top