کشتیاں جلا ڈالنے کا فیصلہ 17-10-2011

kal-ki-baatآ ج میں اپنے منتشر خیالات کو اس کالم کا موضوع بنا رہا ہوں کیوں کہ اکثر منتشر خیالات میں سے ہی سوچ کی ایسی چنگاریاں پھوٹتی ہیں جن سے دانش جنم لیتی ہے۔
دانش ایک ایسی چیز ہے جسے حاصل کرنے کے لئے غیروں سے بھی رجوع کرنا پڑے تو کرنا چاہئے۔ کون نہیںجانتا کہ آٹھویں نویں دسویں گیارہویں اور بارہویں صدیاں مسلمانوں کے لئے دانش کی صدیاں تھیں۔ اُس دور میں علم و تحقیق کے شعبوں میں فارابی ` ابن رشد ` جابربن حیاں ` ابن سینا `اور دیگر”اکابرین ِدانش“ نے جو کمال حاصل کیا اس کا اعتراف گبن ` ٹائن بی ` ایچ جی ویلز اور نیال فرگوسن جیسے متعصب مغربی مفکرین نے بھی کیا ہے۔ ہمارے اپنے جو ” دانشور “ اسلامی تاریخ کا ذکر تضحیک و تمسخر کے ساتھ کرنے کے عادی ہیں انہیں یہ بات ضرور یادرکھنی چاہئے کہ فزکس کیمسٹری اور ریاضی کے شعبوں میں حقیقی ” بریک تھرو“ حاصل کرنے کا اعزاز مسلمانوں نے ایک ہزار سال قبل حاصل کرلیا تھا ۔ کون نہیں جانتا کہ الجبرا مسلمانوں نے اِیجادکیا ؟ کون نہیں جانتاکہ علم فلکیات میں ” گردش “ کا اصول مسلمانوں نے دریافت کیا ؟ کون نہیں جانتا کہ جدید کیلنڈر کا بانی عمر خیام تھا؟
جو بات میں یہاں کہنا چاہتا ہوں وہ بڑی سیدھی سادی ہے۔ اپنی تاریخ پر فخر کرنے میں کوئی ہرج نہیں۔ یقینی طور پر ہماری تاریخ نے نیوٹن پیدا نہیں کیا۔ ہماری تاریخ میں آئنسٹائن بھی پیدا نہیں ہوا۔ مگر تحقیق کے جس جاری عمل کے نتیجے میں انسانی تاریخ کا سفر نیو ٹن اور آئنسٹائن تک پہنچا ہے اسے ” ایندھن “ اور ” ولولہءسفر“ ان پانچ صدیوں میں مہیا کیا گیا تھا جن کا ذکر میں نے اوپر کیا ہے۔ خلیفہ ماموں الرشید کے دور میں بغداد میں ایک ایسی لیبارٹری قائم تھی جسے ہم آج کے ناسا(NASA)کی پیشرو قرار دے سکتے ہیں۔
مگر یہ کہنا درست نہیں ہوگا کہ مسلمان محقّق ہی ” تصورِ تحقیق “ کے خالق تھے۔ مسلمان محقّقین کا کمال یہ تھا کہ انہوںنے علم و تحقیق کے گمشدہ یونانی خزانوں کو دریافت کیا اور انہیں علم و تحقیق کے رکے ہوئے عمل کو متحرک کرنے کے لئے بڑی مہارت اور کامیابی کے ساتھ استعمال کیا۔
علم و تحقیق پر کسی قوم یا کسی تہذیب کی اجارہ داری نہیں ہوتی۔ یہ وہ ” خاصیت“ ہے جو قادر ِمطلق نے آدم ؑ کے اندر روز اول ہی ڈال دی تھی۔ خدا نے فرشتوں سے کہا تھا کہ ” مٹی سے بنا یہ آدم وہ کچھ جانتا ہے جو تم نہیں جانتے ۔ میں نے اس میں اپنی روح پھونکی ہے۔“
آج ہم دانش کے لئے مغرب کے محتاج ضرور ہیں لیکن اگر ” دانش “ کو مغرب اپنی قید میں رکھ سکتا تو امریکہ کو آج اس تشویش ناک صورتحال کا سامنا نہ ہوتا کہ فزکس اور متیھس کے گریجویٹ پیدا کرنے کی شرح کے لحاظ سے دُنیا میں اس کا نمبر اب پہلا نہیں 51واں ہے!
اگر پاکستان ایک اے کیو خان پیدا کرسکتا ہے تو دس بھی پیدا کرسکتا ہے ۔ ضروری تو نہیں کہ یہاں ہمیشہ ایسے ہی نا اہل حکمران اقتدارپر قابض رہیں جیسے نظر آرہے ہیں۔ اگر پاکستان ایٹمی قوت بن سکتا ہے تو اقتصادی قوت کیوں نہیں بن سکتا؟ ضرورت صرف اقتصادیات اور مالیات کے شعبوں میں کسی اے کیو خان یا کسی ثمر مبارک مند کی ہی ہے ناں ؟
میرے پاس یہ پیشگوئی کرنے کا بڑا ٹھوس جواز موجود ہے کہ اس دہائی کا اختتام ایک ایسے پاکستان کے ظہور پر ہوگا جس پر سے مایوسی اور بے یقینی کے بادل چھٹ چکے ہوں گے اور جسے دُنیا رشک و تحسین کی نظروں سے دیکھے بغیر نہیں رہے گی۔ میں یہاں 1930ءکے جرمنی کی مثال دوں گا جب جرمن معیشت تباہی و بربادی کی تصویر بنی ہوئی تھی ` جرمن قوم معاہدہ وا¿رسیلز کی ذلت آمیز شرائط کی زنجیروں میں جکڑی نظر آرہی تھی اور ویانا کی منڈیوں میں جرمن مارکس سے بھری ہوئی بوریوں کے عوض ایک ڈالر مل رہا تھا ۔ کوئی سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ یہ تباہ حال جرمنی چند ہی برسوں میں اتنی عظیم طاقت بن جائے گا کہ اسے شکست دینے کے لئے باقی پوری دُنیا کو متحد ہو نا پڑے گا۔
یہ ا نقلاب کیسے آیا ؟ صرف ایک ولولہ آفرین قیادت اور ایک ناقابلِ شکست عزم کے سانچے میں ڈھلی سیاسی تحریک کی بدولت!میں ہٹلر اور نازی ازم کی خوبیوں اور خامیوں کی بحث میں نہیں جارہا۔ صرف اس حقیقت پر زور دینا چاہتا ہوں کہ ” نظریہ “ کس قدر قوت آفرین اثاثہ ہوا کرتا ہے۔
شاید یہاں صرف نازی جرمنی کی مثال دینا کافی نہیں۔ کیوں نہ آج کے دور کے ترکی کی مثال بھی دے دی جائے۔ صرف ایک دہائی قبل ترکی معاشی تباہی کے دہانے پر کھڑا نظر آرہا تھا۔ اس کے حالات ان حالات سے مختلف نہیں تھے جن میں ان دنوں یونان گھرا نظر آرہا ہے ` اور جن کی وجہ سے پوری یورپین یونین کا مستقبل مخدوش ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔
پھر ہوا یہ طیب اردگان اور عبداللہ گل کی جسٹس اینڈ ڈیوپلمنٹ پارٹی نے عام انتخابات میںعوام کا اعتمادحاصل کرلیا۔ ایک ایسی نئی قیادت ابھری جو ترک عوام کا رشتہ اپنی اس تاریخ سے دوبارہ جوڑنے کے عزم سے سرشار تھی جس کو اتاترک کے جانشینوں نے کباڑخانے میں پھینک دیا تھا۔
نظریاتی یکسوئی اور قوت آفرین قیادت نے آج ترکی کو کہاں سے کہاں پہنچا دیا ہے!
نازی جرمنی خالص ڈکٹیٹر شپ تھی۔
طیب اردگان کا ترکی ایک جمہوریہ ہے۔
اگر کوئی چیز مشترک نظر آتی ہے تو ” نظریے اور قیادت“ کی کوکھ سے جنم لینے والی ” باعزم امنگ“
بات ” باعزم امنگ “ کی ہوئی ہے تو اس ضمن میں مجھے 1986ءکا زمانہ یاد آرہا ہے۔ میں ان دنوں امریکہ گیا ہوا تھا۔ گوربا چوف اور ریگن کے درمیان شروع ہونے والی ” گرمجوشی “ کے ایام تھے۔ شکاگو میں دُنیا کی سب سے بلند عمارت تعمیر ہوچکی تھی اور نیویارک کی ایمپائز سٹیٹ بلڈنگ سے یہ اعزاز چھن چکا تھا۔نیویارک کے عالمی شہرت یافتہ بزنس مین ٹرمپ نے اعلان کیا تھا کہ وہ ایک سوپچاس منزلہ عمارت بنا کر چھنا ہوا اعزاز دوبارہ ” اپنے “ شہر میں واپس لائیں گے۔ ان کے اس اعلان پر ماہرین ِماحولیات نے سخت تنقید کی تھی۔اس ضمن میں ایک ٹی وی چینل پر ٹرمپ کا انٹرویو نشر ہوا جسے میں نے دیکھا اور سنا۔
باتوں ہی باتوں میں سوال کرنے والے صحافی نے ٹرمپ سے پوچھا۔
” کیا ایسے منصوبے کو شروع کرنا پاگل پن نہیں ہے جس کی کوئی افادیت نظرنہیں آرہی سوائے اس کے کہ نیو یارک کو اس کا کھویا ہوا اعزاز واپس مل جائے گا۔؟“
ٹرمپ نے غصے سے ان صاحب کی طرف دیکھا اور بڑے خشمگیں لہجے میں جواب دیا۔” امریکہ کو ایک دشت اور ایک صحرا سے دُنیا کی عظیم ترین طاقت مجھ جیسے پاگلوں نے بنایا ہے ` آپ جیسے عقلمندوں نے نہیں۔ عقلمندی حکمران رہتی تو پیرا شوٹ سے پہلی چھلانگ کوئی نہیں لگاتا ۔ پہلی چھلانگ ہمیشہ کوئی پاگل ہی لگایا کرتا ہے۔ اور پھر دوسروں کو بھی پاگل پن سے پیار ہوجاتا ہے۔“
میرے ذہن پر ٹرمپ کے یہ الفاظ نقش ہو کر رہ گئے۔
تاریخ واقعی تبدیل ہونے کے لئے ” ایک “ ہی بڑی اور جرا¿ت مندانہ جست کی محتاج ہوا کرتی ہے۔
اور جرا¿ت ایک ایسی اصطلاح ہے جس کا ایک مفہوم ” پاگل پن “ بھی ہوتا ہے۔میں یہاں ایک ایسے ” پاگل “ کی مثال دیناچاہوں گا جس کے ” پاگل پن “ نے بارہ ہزار نفوس پر مشتمل ایک فوج کو ہسپانیہ کا حکمران بنا دیا۔
اس ” پاگل “ کا نام طارق بن زیاد تھا۔
بحرِاوقیانوس عبور کرنے کے بعد تاریخ اسلام کے اس بطلِ جلیل نے جب تمام کشتیاں جلا ڈالنے کا حکم دیا تو فوج میں ایک کھلبلی سی مچ گئی۔
” میرے بھائیو۔۔۔ ہم یہاں واپس جانے کے لئے نہیں آئے۔ اب ہمارا مرنا جینا اِسی سرزمین پر ہوگا جہاں ہم قدم رکھ چکے ہیں۔ “ طارق بن زیاد نے وضاحت کی۔
پاکستان کو اپنی عظیم تقدیر کے تقاضے پورے کرنے کے لئے بس ایک فیصلے کی ہی ضرورت ہے۔ یا پھر اس رجلِ عظیم کی جو یہ فیصلہ کرے گا۔
کشتیاں جلا ڈالنے کا فیصلہ !

Scroll To Top