دو جواب طلب سوال 02-10-2011

kal-ki-baatآج کا پاکستان جس طوفان خیز صورتحال سے گزررہا ہے اس میں دو اہم سوالوں کا ” مبنی برحقائق “ جواب تلاش کرنا ناگزیر ہوگیا ہے۔
پہلا سوال تو یہی ہے کہ ” کیا ہمارا موجودہ سیاسی ڈھانچہ ایک ایسی حکومت کے قیام کے لئے ساز گار بن سکتا ہے یا بنایاجاسکتا ہے جو ملک کو سنگین مسائل اور عمیق بحرانوں سے نکالنے کی صلاحیت رکھتی ہو اور جس پر عوام کی غالب اکثریت اپنا بھرپور اعتماد ظاہر کرنے میں کوئی جھجک یا مشکل محسوس نہ کرے۔؟“
دوسرا سوال یہ ہے کہ کیا پاکستان اپنی خارجہ پالیسی پر نظرثانی ` اور اپنے قومی و بین الاقوامی مفادات کا از سر نو تعین واضح طور پر کئے بغیر اپنی بقاءاورسلامتی کے تقاضے پورے کرسکتا ہے ؟
یہ دونوں سوالات بڑی جامع اور ” تفصیلات طلب“ نوعیت کے ہیں۔ مگر میں ان کا حاطہ اس مختصر کالم میں کرنے کی کوشش کروں گا۔
گزشتہ دنوں وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی نے پاکستان اور امریکہ کے درمیان پائی جانے والی کشیدہ صورتحال پر متفقہ قومی لائحہ عمل تلاش کرنے کے لئے جو آل پارٹیز کانفرنس بلائی اس کی تفصیلات آپکے علم میں آچکی ہیں۔ میں یہاں صرف یہ کہنا چاہتا ہوں کہ آل پارٹیز کانفرنس اور اس کے فیصلوں کو ایک مضبوط مستعد قابل اور مقبول حکومت کا نعم البدل کسی بھی طور پر قرار نہیں دیاجاسکتا۔ اس کانفرنس کے انعقاد یا اس کے فیصلوں کے اعلانات سے راتوں رات اس حکومت کے اخلاقی معیار ` اس کی منتظمانہ صلاحیت ` اس کی سیاسی ترجیحات ` اور اس کے اندازِ حکمرانی میں ایسی تبدیلی نہیں آسکتی کہ اس کے بارے میں جو عوامی تاثرات براہ راست تین سالہ مشاہدے اور تجربے کی بناءپر جڑیں پکڑ چکے ہیں وہ یکسر تبدیل ہوجائیں ۔
اگر موجودہ حکومت کے اکابرین اپنے بارے میں رائے عامہ کو تبدیل کراناچاہتے ہیں تو انہیں رضا کارانہ طور پر ” اقتدار اعلیٰ “ اپنے ہاتھوں سے کسی ایسے متفقہ سیٹ اپ کے سپرد کرنا ہوگا جسے قوم کی اکثریت اور ملک کے اہم اداروں کا اعتماد حاصل ہو۔
متذکرہ بالا تجویز سے ہٹ کر دو روایتی آپشن قوم اور حکومت کے سامنے موجودہیں۔
ایک آپشن تو وہی رہے جس پر حکومت عمل پیرا ہے۔ اور وہ آپشن ہر قیمت پر اپنی آئینی مدت کے پانچ سال پورے کرنا اور اس دوران آنے والی پانچ سالہ مدت میں اپنے اقتدار کے تسلسل کو یقینی بنانا ہے۔ یہ وہ آپشن ہے جو جنرل پرویز مشرف نے بھی اختیار کیا تھا۔
دوسرا آپشن یہ ہے کہ وسطی مدت کے انتخابات )یعنی ” مڈٹرم“(کا فیصلہ کیا جائے۔ یہ آپشن بظاہر بڑا اصولی اور آئینی نظر آتا ہے مگر اس کے اندر جو قباحتیںپوشیدہ ہیںانہیں نظر انداز کرنا ملک و قوم کے لئے سنگین نتائج کا سبب بن سکتا ہے۔
ایک نتیجہ جو آج بھی نظروں سے پوشیدہ نہیں وہ یہ ہوگا کہ 2008ءوالے انتخابات کے ہنگامی انداز میں منعقد کئے جانے والے انتخابات ویسی ہی حکومت اور ویسے ہی سیاسی ڈھانچے کو جنم دیں گے جس کی دلدل میں ہم گزشتہ ساڑھے تین برس سے پھنسے ہوئے ہیں۔
جناب آصف علی زرداری لاکھ اس بات پر اقرار کریں کہ انکے ” فلسفہ ءمفاہمت “ نے حکومتی تسلسل کو ممکن بنا رکھا ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ اس ” مفاہمتی عمل “ کے نتیجے میں جنم لینے والی آنکھ مچولی نے ملک کو ایک ایسے سیاسی اور فکری انتشار میں مبتلا کر رکھا ہے جس کی موجودگی میں حکومتی عمل پر عوام کا اعتماد قائم ہونا ممکن ہی نہیں۔ میں یہاں اس ” مادر پدر آزاد“ کرپشن کا ذکر نہیں کروں گا جس کی بڑھتی ہوئی ” شہرت‘ ‘ نے قوم کو بین الاقوامی طور پر بھی اتنی ساری تضحیک اور بدنامی کا نشانہ بنارکھا ہے۔یہاں ہمیں یہ بات بھی نہیں بھولنی چاہئے کہ ساڑھے تین کروڑ بوگس ووٹوں کی نشان دہی اور انتخابی فہرستوں سے ان کے اخراج نے 18فروری 2008ءکے عام انتخابات کی legitimacyیا اخلاقی حیثیت کو صرف مشکوک ہی نہیں کیا ختم بھی کرڈالا ہے۔
اب موجودہ حکومت کے پاس اپنے تسلسل یا جاری رہنے کا آئینی جواز اس جواز سے زیادہ مضبوط نہیں جو جنرل پرویزمشرف پیش کیا کرتے تھے۔
اگر حکومتی اکابرین کو اس بات کا یقین ہے کہ پی پی پی آج بھی پاکستان کی سب سے بڑی اور مقبول سیاسی جماعت ہے تو ایک ایسے حکومتی ڈھانچے کی تلاش میں اسے جرا¿ت مندانہ اور مفادات سے آزاد اقدامات کرنے سے گریز نہیں کرناچاہئے جس پر عوام کی اکثریت کا اعتماد ہر قسم کے شک و شبہ سے بالا تر ہو۔
جمہوریت کا نعرہ لگانا زیادہ مشکل نہیں مگر جمہوریت کی روح کا احترام کرنا بے حد امتحان طلب ہے۔میرا خیال ہے گزشتہ عام انتخابات میں پی پی پی کو تقریباً ایک کروڑ سوا کروڑ ووٹ ملے ہوں گے۔ ان میں وہ بوگس ووٹ بھی تناسب سے موجود ہوں گے جنکی نشاندہی حال ہی میں ہوئی ہے۔ کیا ایک کروڑ یا اس سے بھی کم ووٹ حاصل کرنے والی جماعت اٹھارہ کروڑ عوام کے مقدر کا فیصلہ کرنے کا اخلاقی جواز یا حق رکھتی ہے۔۔۔؟
کہنا میں یہ چاہتا ہوں کہ ایک حقیقی نمائندہ حکومت کے قیام سے پہلے ہمیں ایک ایسے عبوری ڈھانچے کی ضرورت ہے جو سیاسی نظام میں ناگزیر اصلاحات لانے ` ایک قابل قبول آزاد اور غیر جانبدار الیکشن کمیشن قائم کرنے اور ملک میں تمام سیاسی جماعتوں اور لیڈروں کے لئے یکساں موزوں اور سازگار فضا قائم کرنے کا مینڈیٹ بھی رکھتا ہو۔ اولین ترجیح اس عبوری ڈھانچے کی تشکیل میں بہرحال یہ ہونی چاہئے اس کے اراکین اپنے اپنے شعبوں میں مستند مہارت رکھتے ہوں اور ان کی اخلاقی شہرت خود ان کے لئے کسی شرمندگی کا باعث نہ ہو۔
اگر ہمارے سیاستدانوں کو جمہوریت واقعی عزیز ہے تو انہیں اپنے ذاتی مفادات اور حرص اقتدار سے بالاتر ہو کر ملک کے وسیع تر مفاد کے بارے میں سوچنا ہوگا۔ میں سمجھتا ہوں کہ جس نظام کے تحت جمہوریت یہاں اب تک چلی ہے وہ ناکام ہوچکا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ سچی جمہوریت کا اولین تقاضہ ہی یہ ہے کہ عوام کو اپنا قائد لیڈر یا حاکم خود اپنے ووٹوں سے براہ راست منتخب کرنے کا حق ہونا چاہئے۔ سچی جمہوریت کا دوسرا تقاضہ یہ ہے کہ مقننہ اور انتظامیہ کا ایک دوسرے سے کوئی تعلق نہ ہو۔ اور مقننہ یعنی پارلیمنٹ کا کام صرف اور صرف قانون سازی اور حکومتی عمل کی مانیٹرنگ ہو۔
یہاں یہ اعتراض کیا جائے گا کہ 1973ءکا آئین متذکرہ تقاضوں کو پورا کرنے کی اجازت نہیں دیتا۔تو اس کا جواب یہ ہے کہ آئینی اصلاحات کے لئے ریفرنڈم کا راستہ دنیا بھر میں اختیا ر کیا جاتا ہے۔ ہم پاکستان میں عوام سے فیصلے حاصل کرنے کا راستہ کیوں اختیار نہیں کرسکتے؟
اب میں دوسرے اہم سوال کی طرف آتا ہوں جس کا تعلق اس صورتحال سے ہے جس کا آج ملک و قوم کو براہ راست سامنا ہے۔
میں اس ضمن میں ” بلاخوفِ تردید“ یہ سٹیٹمنٹ دے سکتا ہوں کہ پاکستان اور امریکہ کے درمیان کوئی ایسا مشترکہ مفاد نہیں جو ان کے درمیان کسی بھی قسم کی سٹرٹیجک پارٹنرشپ کا جواز یا بنیاد بن سکے۔
ماضی میں سوویت یونین کا بین الاقوامی ایجنڈا پاکستان اور امریکہ کے درمیان ” دوستی “ کی بنیاد ضرور کہلا سکتا تھا ` مگر کیا اسلام کو سیاست سے خارج کرنے کے امریکی ایجنڈے میں پاکستان ایک سٹرٹیجک پارٹنر بن سکتا ہے۔؟ یہ وہ سوال ہے جس کا جواب ہمارے حکمران طبقے کو جلد یا بدیر دیانت داری کے ساتھ تلاش کرنا ہوگا۔
ہم حضرت محمد کی امت ہیں۔ کسی اسامہ بن لادن یا ایمن الظواہری وغیرہ کے پیروکار نہیں۔ یہ سارے نام سی آئی اے اور امریکہ کی بین الاقوامی حکمت عملیوں کے نتیجے میں سامنے آئے تھے۔ پہلے ان ناموں کو سوویت یونین کے خلاف استعمال کیا گیا۔ او ر اب” اسلامی نتہا پسندی “ یا ” دہشت گردی “ کی آڑ میں یہ نام حضرت محمد کی امت کو حضرت محمد کے آفاقی اور غیر فانی مشن سے دور رکھنے کے لئے استعمال کئے جارہے ہیں۔اپنی خارجہ پالیسی کی تشکیل اب ہمیں مندرجہ ذیل ” قدیم دانش“ کی بنیاد پر کرنی ہوگی۔
” ہمارے دوست کا دوست ہمارا فطری دوست ہے۔ ہمارے دوست کا دشمن ہمارا فطری دشمن ہے۔ ہمارے دشمن کا دوست بھی ہمارا فطری دشمن ہے۔ اور ہمارے دشمن کا دشمن ہمارا فطری دوست بن سکتا ہے۔“
میں سمجھتا ہوں کہ ہمیں دشمنوں کی نہیں دوستوں کی تلاش ہے ۔ اور دوستوں کی پہچان ہمیں کشمیر اور فلسطین کو سامنے رکھ کر کرنی چاہئے۔

Scroll To Top