وزیر اعظم اور قریب ترین رفقاءکا متفقہ فیصلہ: نواز شریف کی نا اہلی پر کلثوم نواز اور وزیراعظم بنیں گی

  • جے آئی ٹی رپورٹ کی اہمیت اور سپریم کورٹ کے ممکنہ ناخوشگوار فیصلے کے پیش نظر اور کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نبردآزما ہونے کے لئے کلثوم نواز کو مخصوص نشست پر رکن قومی اسمبلی منتخب کراکے وزیراعظم بنانے کی تجویز ، آئینی ماہرین کاتجویز سے اتفاق
  • اگرچہ لیگی رہنماﺅں کا جھگڑالو دھڑا اس بات پر دن رات ایک کئے ہوئے ہے کہ وزیر اعظم مستعفی نہیں ہونگے لیکن در حقیقت وزیر اعظم اور ان کے رفقاءکو معاملے کی حساسیت کا بخوبی علم ہے ، جس کے باعث حفظ ماتقدم کے طور پر پلان بی پر عملدرآمد کی تیاریاں جاری ہیں، تجزیہ نگار

نواز شریف کی نا اہلی پر کلثوم نواز اور وزیراعظم بنیں گیاسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) پاناما جے آئی ٹی کی رپورٹ منظر عام پر آنے اور سیاسی صورتحال میں کشیدگی پیدا ہونے کے بعد نوازشریف کی ممکنہ نا اہلی کے پیش نظر کلثوم نواز کو وزیراعظم بنانے کی تجویز سامنے آئی ہے۔ذرائع کے مطابق کلثوم نواز کو مخصوص نشست پر رکن قومی اسمبلی منتخب کراکے وزیراعظم بنایا جا رہا ہے ۔ کلثوم نواز کو مخصوص نشست پر منتخب کر کے قائد ایوان بنانے کے حوالے سے اسمبلی سیکریٹریٹ سے رائے طلب بھی کی گئی ۔ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ کلثوم نواز کو منتخب کروانے کے لیے قومی اسمبلی کی مخصوص نشست پر موجود کسی ایک لیگی رکن اسمبلی سے استعفے طلب کیا جائے گا جس کے بعد پارٹی صدر کی سفارش پر کلثوم نواز کی اسمبلی رکنیت کا نوٹی فکیشن جاری ہوگا۔ تجزیہ نگاروں کے مطابق بظاہر پاکستان مسلم لیگ کا جھگڑالو دھڑا اس بات پر دن رات ایک کئے ہوئے ہے کہ وزیر اعظم مستعفی نہیں ہونگے اور عدالت میں اپنے اوپر لگائے گئے الزامات کا دفاع کریں گے لیکن یہ حقیقت ہے کہ وزیر اعظم اور ان کے رفقاءکو اس معاملے کی حساسیت کا بخوبی علم ہے ، یہی وجہ ہے کہ حفظ ماتقدم کے طور پر پلان بھی پر عملدرآمد کی تیاریاں جاری ہیں، جس کے مطابق کلثوم نواز کو مخصوص نشست پر انتخاب جتوا کر قائد ایوان بنایا جائیگا ، آئینی ماہر عرفان قادر کے مطابق اگر ایسا کیا جاتا ہے تو اس میں کوئی امر مانع نہیں کیونکہ کلثوم نواز کے خلاف کسی قسم کا کوئی الزام نہیں دوسری جانب اطلاعات ہیں کہ وزیراعظم کی زیرصدارت اجلاس میں پاناما جے آئی ٹی رپورٹ کو سپریم کورٹ میں چیلنج کرنے اور قانونی جنگ لڑنے کا بھی فیصلہ کیا گیا ہے۔

Scroll To Top