قیصر و کسریٰ دونوں کی تباہی بے سروساماں بدﺅوں کے ہاتھوں ہوئی تھی ! 28-09-2011

kal-ki-baat
پاکستان پیپلزپارٹی سے تعلق رکھنے والے مبصرین اور پاکستان کے ” روشن مستقبل “ کو امریکی سرپرستی سے نتھی کرنے والے تجزیہ کار واضح طور پر یہ امید باندھے دکھائی دے رہے ہیں کہ امریکہ کے موجودہ جارحانہ رویے اور اس کے جواب میں پاک فوج کے دلیرانہ ردعمل کے نتیجے میں جو شدید تناﺅ پیدا ہوا ہے ` وہ چند روز میں خود بخود” تحلیل “ ہو جائے گا۔سوموار کی شب کو جناب نجم سیٹھی شدید بدحواسی اور بوکھلاہٹ کا نمونہ بنے دکھائی دیئے۔ اسی شب ایک دوسرے پروگرام میں پی پی پی کی فوزیہ وہاب یہ کہتے سنائی دیں کہ یہ سب کچھ پیالی میں طوفان والی بات ہے ` سب ٹھیک ہوجائے گا۔
ظاہر ہے کہ یہ تناﺅ ” پانی پت کی جنگ “ کی صورت اختیار نہیں کرسکتا۔ آج کے دور میں ” جنگ “ صرف جنوینوں اور پاگل حضرات کا اولین آپشن ہوسکتا ہے ۔ اور ایک سپرُپاور کے ساتھ جنگ کے بارے میں سوچنا بھی پاکستان کے کسی ذی شعور اور ذمہ دار شخص کے ساتھ منسوب نہیں کیا جاسکتا۔
جنگ کا شوق آج کے دور میں صرف واشنگٹن کی فضاﺅں میں پروان چڑھنے والوں کو ہے۔ انہوں نے پوری ایک صدی سے دنیا پر جنگ نازل کر رکھی ہے۔ کبھی کرہ ارض کے ایک کونے میں ان کی ہلاکت خیز طاقت تباہ کاریاں برساتی ہے تو کبھی دوسرے کونے میں۔ دو عظیم جنگوں اور ان میں ہلاک ہونے والے کروڑوں انسانوں سے بھی ” اہل جنون“ کا پیٹ نہ بھرا۔ فوراً ہی کوریا کا محاذ تلاش کیا گیا۔ پھر ویت نام کی باری آئی۔ خیال تھا کہ سوویت یونین کے زوال کے بعد واشنگٹن کا ” شوقِ جنگ جوئی “ ٹھنڈا پڑے جائے گا ۔ مگر نت نئے حریف نشانے اور میدان ہائے جنگ تلاش کرنے کا چسکہ ان ” جنوینوں“ کو شاہد سرزمینِ پاک پر بھی لے آئے۔
ہم بڑے کمزور ہیں۔ جنگ کے بارے میں سوچ بھی نہیں سکتے۔ مگر ہم امریکہ کو تاریخ پڑھنے کا مشورہ ضرور دیں گے۔ قصر و کسریٰ دونوں کی تباہی بے سروساماں بدﺅوں کے ہاتھوں ہوئی تھی !
موجودہ تناﺅ کم پڑتا ہے یا بڑھتا ہے ` اس کا انحصار امریکی رویوں پر ہے۔
جہاں تک ہمارا تعلق ہے` ہم نے ” اللہ اکبر“ کا نعرہ بلند کرنے کی ٹھان لی ہے۔ ہمیں آزادی چاہئے۔

Scroll To Top