ہمیں غلامی منظور نہیں 25-09-2011

kal-ki-baatزمینی حقائق سے واقفیت اور بین الاقوامی امور کی سوجھ بوجھ رکھنے والا کوئی بھی شخص اس بات سے اختلاف نہیں کرے گا کہ دنیا کی سب سے بڑی طاقت اور واحد سپر پاور یعنی امریکہ کے ساتھ براہ راست تصادم کا راستہ اختیار کرنا دنیا کے کسی بھی ملک کا پسندیدہ آپشن نہیں ہوسکتا۔ اور پاکستان کا پسندیدہ آپشن تو یہ بالکل ہی نہیں ہوسکتا کیوں کہ ہمارا معاشی ` مفاداتی ` سیاسی اور عسکری سٹرکچر کئی دہائیوں سے امریکہ کے ساتھ جڑا رہا ہے۔
مگر یہ بھی تاریخ کی ایک بہت بڑی سچائی ہے کہ قوموں کی زندگی میں ایسے موڑ آجایا کرتے ہیں جب پسندیدہ آپشن اختیارکرنے کا راستہ ان کے لئے بندگلی بن جایاکرتا ہے اور وہ مجبور ہو جایا کرتی ہیں کہ ایسا آپشن تلاش کریں جو پسندیدہ اگر نہ بھی ہو تو بھی قابل عمل ہو ` زمینی حقائق سے مطابقت رکھتا ہو اور قومی مفادات کے تحفظ اور بقاءکی ضمانت دیتا ہو۔
پاکستان کو ایک آزاد مملکت کے طور پر اور اہل ِپاکستان کو من حیث القوم آج ایسے ہی ایک موڑ کا سامنا ہے۔
امریکہ نے ہمیں ایک ایسے موڑ پر لاکھڑا کیا ہے جہاں ہم نے اپنے وسیع ترقومی مفادات اور اپنی آزادنہ قومی حیثیت کے تحفظ کے حوالے سے بڑے نتیجہ خیز اور تاریخ ساز نوعیت کے فیصلے کرنے ہیں۔
اگر میں یہ کہوں تو زیادہ مناسب ہوگا کہ جو متعدد نتیجہ خیز اور تاریخ ساز نوعیت کے فیصلے ہم نے کرنے ہیں وہ دراصل ایک ہی بڑے فیصلے کی کوکھ سے جنم لیں گے۔
میں سمجھتا ہوں کہ ایک بڑا فیصلہ پاکستان نے دس برس قبل تب کے امریکی صدر جارج بش کے اس انتباہ آمیز الٹی میٹم کے جواب میں کیا تھا۔ کہ ” جو ہمارے ساتھ نہیں اسے ہم اپنے خلاف سمجھیں گے۔“
کچھ لوگ کہیں گے کہ یہ پاکستان کا نہیں اس کے صدر جنرل پرویز مشرف کا فیصلہ تھا مگر اس تلخ حقیقت کو جھٹلانا بڑا مشکل ہے کہ جب کسی فرد کے ہاتھوں میںملک و قوم کے مقدر کے فیصلے کرنے کا اختیار ہو اور وہ اپنے اس اختیار کو آزادی کے ساتھ استعمال کرے تو اس کے فیصلوں کی ” اونر شپ “ قبول کرنا ملک و قوم کی ناگزیر ذمہ داری بن جاتی ہے۔
ستم ظریفی کی بات یہاں صرف یہ ہے کہ جنرل پرویز مشرف خود تو آج کبھی لندن تو کبھی متحدہ عرب امارات میں بڑی شاہانہ زندگی بسر کررہے ہیں۔ اور جس پاکستان کو ” پتھر کے زمانے میں بھیجے جانے سے بچانے کے لئے “ انہوں نے جارج بش اور ان کے حواریوں کی ” ذاتی جنگ “ میں الجھایا وہ آج پوری دنیا کے لئے عبرت کا نشان اور تمسخر کا نشانہ بنا ہوا ہے۔
میری اس رائے سے اختلاف کیا جاسکتا ہے مگر میں اپنی اس رائے کو ٹھوس تاریخی حقائق پر مبنی سمجھتا ہوں کہ جنرل پرویز مشرف نے ” برس ہا برس سے اختیار کردہ سٹرٹیجک لائحہ عمل “ پر مبنی دور رس قومی پالیسیوں سے بیک جبنشِ قلم و زبان ” یُوٹرن “ اختیار کرکے پاکستان کے عوام اور اس کی آنے والی نسلوں کے ساتھ بڑا ظلم کیا ۔
اگر جنرل پرویز مشرف نے امریکہ کی ” نیو کون لابی “ کی سوچ کا مطالعہ کیا ہوتا تو انہیں اس نتیجے پر پہنچنے میں زیادہ دیر نہ لگتی کہ جس حکمت عملی کے تحت ” دہشت گردی کے خلاف جنگ “ کا منظر نامہ تحریر کیا گیا تھا اس کا ہدف صرف افغانستان نہیں پاکستان بھی تھا۔
ڈک چینی ` پال وولفو وٹز اور رمسفیلڈ کی نگاہوں کے سامنے ایک ایسے مستقبل کا نقشہ تھا جس میں اسرائیل مشرق وسطیٰ کی بلاشرکت غیر سپر پاور ہو ` اور جنوبی ووسطی ایشیاءمیں چین کے چیلنج کو موثر طور پر روکنے کے لئے بھارت کو علاقائی سپر پاور کا درجہ حاصل ہوچکا ہو۔ اس نقشے میں ایک محفوظ اور طاقتور ایٹمی پاکستان کی کوئی جگہ نہیں تھی۔
یہ بڑی طویل بحث ہے اور میں یہاں اپنے اصل موضوع کو پھیلانا نہیں چاہتا۔
ایک سوال یہاں اٹھانا میں ضروری سمجھتا ہوں کہ کیا جنرل مشرف کے سامنے امریکہ کا آلہ کار اور ” خریدا ہوا اتحادی “ بننے کے سوا اور کوئی راستہ نہ تھا۔۔۔؟
کیا ہم ویسا ہی رویہ اختیار کرنے کی پوزیشن میں نہیں تھے جیسا رویہ تب ترکی نے اختیار کیا۔۔۔؟
کیا پورے پاکستان کو دہشت گردی کی آماج گاہ او ر ایک ایسی جنگ کا میدان بنا ڈالنے کے سوا ہمارے سامنے اور کوئی راستہ نہیں تھا جس کو پاکستان کا کوئی ” حقیقی شہری“ اپنی جنگ سمجھنے کے لئے تیار نہیں ۔۔۔؟ میں نے یہاں ” حقیقی شہری “ کی ترکیب ان لوگوں کے لئے استعمال کی ہے جو نظریہءپاکستان کو قیام پاکستان کی واحد و جہ سمجھتے ہیں ۔ وہ لوگ جو نظریہ ءپاکستان کے مخالف ہیں انہیں میں پاکستان کے حقیقی شہریوں میں شمار نہیں کرتا۔
مجھے یقین ہے کہ اگر جنرل مشرف کے دل میں اس جذبے کی رمق بھی موجود ہے جو مسلمان کو مسلمان بناتا ہے تو آج وہ اس فیصلے پر تھوڑی بہت ندامت ضرور محسوس کررہے ہوں گے جس نے مسلمانوں کو مسلمانوں کے خلاف صف آراءکردیا اور جس کی وجہ سے پاکستان کے لاکھوں گھرانوں میں صف ِماتم بچھی ہوئی ہے۔
کیا امریکہ واقعی پاکستان کو پتھر کے زمانے میں پہنچا دیتا۔۔۔؟
کیا پاکستان دنیا کی ساتویں ایٹمی طاقت نہیں ۔۔۔؟
کیا چین پاکستان کی تباہی کا خاموش تماشائی بنا رہتا۔۔۔؟
مجھے یقین ہے اس قسم کے سوالات جنرل پرویز مشرف کے ضمیر کو ضرور جھنجوڑتے ہوں گے۔
آج پھر پاکستان ایک ایسے موڑ پر کھڑا ہے جہاں اسے ایک تاریخ ساز فیصلہ کرنا ہے۔
واشنگٹن سے الٹی میٹم یہ آرہا ہے کہ اگر مال چاہئے ` جان چاہئے اور عافیت چاہئے تو اپنی توپوں کے دہانے شمالی وزیرستان پر کھول دو۔
ہماری خوش قسمتی آج یہ ہے کہ اس الٹم میٹم کا جواب دینے کا اختیار ان لوگوں کے پاس نہیں جن کا اقتدار واشنگٹن کی فیاضانہ سرپرستی کا مرہونِ منت ہے۔اگر یہ اختیار ان لوگوں کے پاس ہوتا تو پاکستان پر ایک ایسے مستقبل کے دروازے کھل چکے ہوتے جس میں دوربین نظروں کو تباہی اور بربادی کے سوا کچھ نظر نہ آتا۔
ہم امریکہ سے تصادم ہر گز نہیں چاہتے۔
لیکن امریکہ کے احکامات مان کر اجتماعی خودکشی کرنا بھی ہمیں منظور نہیں۔
جب پاکستان قائم ہوا تھا تو بہت سارے لوگوں کا خیال یہ تھا کہ یہ نوزائیدہ اور لاغر مملکت زیست کے ساتھ اپنا تعلق زیادہ عرصے تک قائم نہیں رکھ سکے گی۔
وقت نے ان کا یہ خیال غلط ثابت کردیا ۔
آج بھی بہت سارے لوگوں کا یہ خیال ہے کہ اگر امریکہ نے اپنا ” دست ِشفقت“ ہمارے سروں پر سے ہٹا لیا تو ہم کیسے زندہ رہیں گے ؟
کون اٹھ کر ان لوگوں کو یہ جواب دے گا کہ امریکہ کی غلامی میں زندگی بسر کرنا ہمارے ” مرض“ کا علاج نہیں ` خود ایک مرض ہے ۔۔۔؟
وہ وقت آگیا ہے کہ پوری قوم اٹھ کر ایک ہی نعرہ لگائے۔۔۔ ” ہمیں غلامی منظور نہیں۔۔۔“

Scroll To Top