ملک میں جوابدہی کا کلچر فروغ پارہا

zaheer-babar-logoسپریم کورٹ میں جے آئی ٹی کی رپورٹ میں پیش کیے جانے والے حقائق کے بعد بیشتر سیاسی قوتوںکی جانب سے وزیراعظم سے عہدہ چھوڈنے کا مطالبہ زور پکڑتا جارہا ہے۔ پاکستان تحریک انصاف، پاکستان پیپلزپارٹی ، مسلم لیگ ق ، متحدہ قومی موومنٹ پاکستان اور عوامی مسلم لیگ اس تقاضے کے ساتھ نمایاں ہوچکیں۔ دوسری جانب وفاقی وزراء کی نے ایک بار پھر اس عزم کا اظہار کیا کہ میاں نوازشریف کسی صورت استعفی نہیں دیں گے بلکہ قانونی اور سیاسی جنگ کو پوری قوت سے لڑا جائیگا ۔سیاسی پنڈتوں کا خیال ہے کہ آئندہ ہفتے سپریم کورٹ میں پانامہ لیکس کے مقدمہ کی سماعت کے بعد یقینا صورت حال واضح شکل اختیار کرسکتی ہے۔ ایک نقطہ نظر یہ ہے کہ ملکی سیاسی منظرنامہ میں واضح تقسیم دکھائی دے رہی۔ مسلم لیگ ن تادم تحریر اس موقف پر قائم ہے کہ نہ تو وزیراعظم اوران کا خاندانی کرپشن ، منی لائنڈرنگ اور ٹیکس چوری جیسے جرائم میں ملوث ہے اور نہ ہی وہ اپنا عہدہ چھوڈیں گے۔ اب تک وزیراعظم پاکستان کو جو سیاسی شخصیات اپنی ”غیر مشروط “حمایت کا یقین دلارہی ہیں ان میں محمود خان اچکزئی اور مولانا فضل الرحمن کے علاوہ کوئی اور نمایاں نہیں۔
مملکت خدادادپاکستان کے باسی اس لحاظ سے بدقسمت واقع ہوئے کہ یہاں کا طاقتور طبقہ کسی طور پر باز پرس کے لیے تیار نہیں۔ یہ کہنا بھی غلط نہیںکہ سیاسی اشرافیہ ہی احتساب سے بالاتر نہیں بلکہ اس کی اس روش متاثر ہوکر دیگر کئی دیگر طبقات بھی آئین اور قانون سے خود کو ماوراءسمجھتے ہیںمگر اب کم وبیش ایک دہائی سے اس بدترین طرزعمل میں تبدیلی آرہی۔ سابق صدر پرویز مشرف سیاسی اور عوامی حلقوں کی جانب سے ڈالے جانے والے دباو کے نتیجے میں جس طرح ایوان صدر سے رخصت ہوئے وہ اس بدلے پاکستان کی ابتدا تھی جس کا ظہور بتدریج ہورہا تھا۔ پرویز مشرف کی خاص بات یہ تھی کہ وہ کوئی عام شخصیت نہیں بلکہ سابق چیف آف آرمی سٹاف تھے۔فرد واحد کی رخصتی کا باریک بینی سے جائزہ لینے والے حلقوں نے اس وقت ہی یہ پیشنگوئی کردی کہ مملکت خداداد پاکستان میں اقتدار میں رہنا ہرگز آسان نہیں رہا۔ اس پس منظر میں متحرمہ بے نظیر بھٹو کی ناگہانی موت کے بعد پی پی پی کے اقتدار میں آنے کا راستہ ہموار تو ہوا مگر سابق صدر زرداری کسی طورپر عوامی توقعات پر پورا نہ اتر سکے ۔ پانچ سال گزرنے کے باوجود ایک طرف بی بی کے قاتل انجام کو نہ پہنچے تو دوسری جانب کروڈوں پاکستانیوں کی زندگی میں کسی صور ت بنیادی تبدیلی رونما نہ ہوئی۔ پرویز مشرف کے جانے کے بعد ملک کے طول وعرض میںایسے لوگوں کی کسی طور پر کمی نہ تھی جو امید لگائے تھے کہ ”عوامی راج“ ان کی مشکلات کو ہنگامی بنیادوں پر حل کرکے اپنی اہلیت اور اخلاص دونوں ثابت کردیگا۔
مقام افسوس ہے کہ ایک طرف پی پی پی قیادت ملک کو درپیش اندرونی وبیرونی چیلجز سے نمٹنے میںکامیاب نہ ہوئی تو دوسری جانب پاکستان مسلم لیگ ن کے چار سال سے زائد کا عرصہ بھی بیڈ گورنس کا ثبوت دے گے۔ پی ایم ایل این بڑے بڑے دعووں اور وعدوں سے کام چلانے کی ناکام کوشش میں اس حقیقت کو فراموش کرگی کہ یہ نوے کی دہائی کا پاکستان نہیں۔ ایک طرف ملک کی مشکلات میں بے تحاشا اضافہ ہوچکا تو دوسری طرف اہل پاکستان کی اکثریت تیزی سے سیاسی شعور سے بہرمند ہورہی۔ یہ بتانے کی ضرورت نہیں کہ مسلم لیگ ن کے حصہ میں اب تک سوائے چند میگا پراجیکٹس کے کچھ بھی نہیں۔ میاں نوازشریف کم وبیش 35سال سے قومی سیاست میں متحرک ہیں ۔ پنجاب پی ایم ایل این کی طاقت کا بڑا مرکز رہا مگر افسوس کہ صوبے کا کوئی ایک شہر بھی ایسا نہیں جہاں بنیادی ضروریات زندگی دستیاب ہوں۔ میاں نوازشریف دو مرتبہ وزیراعلی پنجاب اور اب تیسری مرتبہ وزارت عظمی کے منصب پر فائز ہیں۔ کئی بار وزیراعلی رہنے والے شہباز شریف خود کو خادم اعلی کہلاتے ہیں مگر صوبے کے سرکاری ہسپتال اور تعلیمی ادارے کسی طور پر قابل فخر نہیں۔
دراصل پانامہ لیکس میں شریف فیملی کا نام آنا گرتی ہوئی دیوار کو ایک دھکا اور دو کے مترادف ثابت ہوا۔ پاکستان کا عام شہری یہ سمجھنے میں حق بجانب ہے کہ حکمران خاندان ایک طرف ملک کے مسائل حل کرنے میںناکام ثابت ہوا تو دوسری طرف اس کے مالی معاملات بھی ہرگز شفاف نہیں۔ پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان کا کمال یہ ہے کہ انھوں نے میاں نوازشریف اور ان کے بھائی میاںشہبازشریف کی حکومت کے ان ”کارناموں “کو بے نقاب کرکے رکھ دیا جو اس سے پہلے کبھی بے نقاب نہ ہوئے تھے۔ یہ کریڈٹ بھی عمران خان کو ہی جاتا ہے کہ پانامہ لیکس کے معاملہ میں وہ تن تنہا سیاسی میدان میںموجود رہے۔ آج ہر غیر جانبدار سیاسی تجزیہ نگار اس بات کا اقرار کرنے میںخود کو مجبور پاتا ہے کہ سپریم کورٹ کا پانامہ لیکس کے معاملہ پرایکشن لینا دراصل عمران خان کی بدولت ہی ممکن ہوا۔
وطن عزیز میں مایوسی پھیلانے والوں کو کھلی آنکھ سے دیکھ لینا چاہے کہ اس سرزمین پر بہتری کا عمل شروع ہوچکا۔ حالات میں جو تبدیلی رونما ہورہی وہ آنے والے دنوں میں شفاف طرزحکمرانی کی بنیاد بن سکتی ہے۔ یقینا ابھی بہت کچھ کرنے کی ضرورت ہے مگر یہ کم اہم نہیںکہ بطور قوم ہم بہتری کے راستہ کی جانب بتدریج گامزن ہیں۔ آئندہ ہفتے سپریم کورٹ پانامہ لیکس کے مقدمہ کی سماعت ایک بار پھر کرنے جارہی جو بلاشبہ فیصلہ کن لمحات کا باعث بن سکتی ہے۔

Scroll To Top