اقتدار زندہ باد 21-09-2011

kal-ki-baatپاکستان کے عوام اپنے سیاستدانوں یا لیڈروں کے بارے میں کیا رائے قائم کریں اور کیا نہ کریں اس کا فیصلہ کرنا ان کے لئے جس قدر آسان ہے اسی قدر مشکل بھی ہے۔
مشکل یہ اس لئے ہے کہ اپنی سیاسی وفاداریوں سے ہٹ کر کوئی رائے قائم کرنا کوئی آسان کام نہیں ہوتا۔ جو لوگ برسہا برس سے رضا کارانہ طور پر یا دباﺅ میں آکر ایم کیو ایم کو ووٹ دیتے چلے آرہے ہیں ان کے لئے اپنے لیڈروں کے تیزی سے تبدیل ہوتے ہوئے موقف خیالات اور نقطہ ہائے نظر ہضم کرنا صرف اس صورت میں آسان کہلا سکتا ہے کہ یہ بات تسلیم کرلی جائے کہ سیاست نام ہی جھوٹ فریب اور بے ضمیری کا ہے۔
9ستمبر 2011ءکو ایک زمانہ نہیں بیتا۔
بہت سارے لوگوں کے ذہنوں میں تو اب بھی الطاف بھائی کے یہ الفاظ گونج رہے ہوںگے کہ اسفندیار ولی خان نے 2008ءکے عام انتخابات جیتنے اور پاکستان توڑنے کی سازش میں شریک ہونے کے لئے امریکہ سے کئی کروڑ ڈالر وصول کئے تھے۔ دس گیارہ دن بعد ہی الطاف بھائی پر یہ حقیقت آشکار ہوئی ہے کہ اسفندیار ولی خان کا دامن پاک ہے۔ اور انہوں نے بلاثبوت خان صاحب پر اتنا بڑا الزام لگا کر غلطی کی ۔ اگر وہ ساتھ ہی یہ بھی کہہ دیتے کہ الزام لگاتے وقت وہ ” عالم ِ بالا“ میں تھے تو زیادہ مناسب ہوتا۔ الزام اسی کو سنجیدگی سے لیا جانا چاہئے جو حالتِ ہوش میں لگایا گیا ہو۔
اے این پی کے رہنما اسفندیار ولی خان نے الطاف بھائی کی معذرت قبول کرلی ہے۔ بات آئی گئی ہوگئی ہے۔ اقتدار میں شراکت کے لئے راستہ اب ہموار ہوگیا ہے۔
اے این پی کو اقتدار میں رہنے کے مزے تو حال ہی میں نصیب ہوئے ہیں۔ وہ بھی امریکہ بہادر کی سرپرستی اور زرداری صاحب کی مفاہمانہ سیاست کی بدولت ۔ لیکن ایم کیو ایم کو تو اب یاد ہی نہیں رہا ہوگا کہ اقتدار سے باہر کیسے رہا جاتا ہے۔
یہ بات ایم کیو ایم کے قائدین کو بھائی پرویز مشرف نے سمجھائی تھی کہ اگر عافیت سے رہنا ہے تو ہر قیمت پر اقتدار کے ساتھ چمٹے رہو۔
الطاف بھائی نے بھائی مشرف کی اس نصیحت پر عمل کرنے میں ذرا بھی کوتاہی نہیں برتی۔
وہ زرداری صاحب کے ساتھ آنکھ مچولی کا کھیل ضرور کھیلتے رہتے ہیں۔ مگر وہ جانتے ہیں کہ دونوں ایک دوسرے کی مجبوری ہیں۔ اقتدار سے باہر رہنا اب دونوں کے لئے سوہان ِروح ہوگا !
اقتدار زندہ باد

Scroll To Top