مسلم لیگ ن سیاسی شہید بننے کی خواہشمند

zaheer-babar-logoسپریم کورٹ کے حکم کے تحت بنے والی جے آئی ٹی رپورٹ میں ان تمام خدشات کو درست ثابت کردیا کہ جو اہل پاکستان کی اکثریت کے دل ودماغ میںشریف خاندان سے متعلق پائے جاتے تھے۔ مثلا مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کی رپورٹ میںاس بات کی تصدیق کی گی کہ وزیراعظم اور ان کے بچوں کے رہن سہن اور معلوم آمدن میں بہت فرق ہے۔ رپورٹ کے مطابق مدعا علیہان جے آئی ٹی کے سامنے رقوم کی ترسیل کے زرائع نہیں بتا سکے۔ مذید یہ کہ بھاری رقوم کو قرض یا تحائف میں دینے کی صورت میں بھی بے قائدگیاں پائی گئیں۔ جے آئی ٹی کے مطابق مدعا علیہان کیب برطانوی کپمنیاں بھی شدید نقصان میں ہونے کے باوجود بھاری رقوم کی ترسیل میںملوث پائی گئیں جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ اس لیے بنائی گئیں کہ یہ تاثر دیا جاسکے کہ ان ہی کمپنیوں کے منافع سے برطانیہ میں مہنگی جائیدایں خریدی گئیں۔ “
دوسری جانب توقعات کے مطابق حکمران جماعت نے جے آئی ٹی رپورٹ کو مسترد کرتے ہوئے اسے پی ٹی آئی رپورٹ قرار دے ڈالا۔ وفاقی وزراءنے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ رپورٹ کے مندرجات نہ ہمارے لیے نئے ہیں اور نہ ہی کسی اور کے لیے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہم اپنے آئینی اعتراضات پیر کو سپریم کورٹ کے سامنے رکھیں گے۔
اس میں شک نہیں رہا کہ حکمران جماعت کسی طور پر اپنی قیادت بارے سامنے آنے والے ان حقائق کو تسلیم کرنے کو تیار نہیں جو پورے طور پر سامنے آچکے۔ پی ایم ایل این اس سچائی کو دانستہ طور پر جھٹلانے کی مرتکب ہورہی ہے کہ پانامہ لیکس ملکی نہیں بین الاقوامی سکینڈل ہے جس کے نتیجے میں دنیا کے کئی ممالک میں تبدیلیاں رونما ہوئیں۔ یہاں یہ بتانے کی ضرورت نہیں کہ پانامہ لیکس کے سامنے آنے کے بعد وزیراعظم نوازشریف ایک سے زائد مرتبہ اس موقف کا اظہار کرتے رہے کہ وہ اپنے آپ کو ہر قسم کے احتساب کے لیے پیش کرنے کو تیار ہیں۔ اہل پاکستان گواہ ہیں کہ کس طرح وزیراعظم اور ان کے بچوں نے پانامہ میں آف شور کمپنیوں اور لندن میں جائیدادوں بارے متضاد موقف اختیار کیے۔ شریف فیملی تاحال اس حقیقت کو تسلیم کرنے کو تیار نہیں کہ ان کی لندن جائیداروں بارے برطانوی نشریاتی ادارہ بی بی سی بھی اپنی تحقیقاتی رپورٹ نشر کرچکا۔
مسلم لیگ ن کم وبیش 35سال سے ملکی سیاست میں متحرک ہے۔ آبادی کے اعتبار سے ملک کے سب سے بڑے صوبے پر عملا شریف خاندان کا قبضہ ہے۔ میاں نوازشریف دو مرتبہ وزیر اعلی پنجاب اور اب تیسری بار وزارت عظمی کے منصب پر فائز ہیں۔ ان کے بھائی میاں شہبازشریف بھی تیسری مرتبہ وزارت اعلی کے منصب پر براجمان ہیں۔ بادی النظر میں تاثر یہی ہے کہ پی ایم ایل این پنجاب میںاپنی حاکمیت قائم رکھنے کے لیے ہر جائز وناجائز حربہ اختیار کرنے کا تہیہ کرچکی۔ اب میاں نوازشریف پارٹی قیادت اپنی بیٹی مریم صفدر کو سپرد کرنے کا فیصلہ کرچکے ۔ جے آئی ٹی میں پیشی کے وقت وزیراعظم کی صاحبزادی کو ملنے والا سرکاری پروٹوکول اس بات کا ثبوت ہے کہ حکمران جماعت میں وہ غیر اعلانیہ طورپر اس قدر اہمیت کی حامل سمجھی جاتی ہیں۔
جے آئی ٹی رپورٹ کے سامنے آنے کے بعد حکمران جماعت کے ردعمل سے یہ اندازہ لگانا مشکل نہیں کہ وہ کسی صورت اپنی آئینی اور قانونی شکست کو تسلیم نہیں کریں گے۔خوفناک حقیقت یہ ہے کہ مسلم لیگ ن خالصتا سیاسی مفادات کے لیے سپریم کورٹ کی ساکھ کو نشانہ بنانے کا فیصلہ کرچکی۔ ایک طرف اعلی عدلیہ پر طنز کے تیر برسائے جارہے تو دوسری طرف دفاعی اداروں کے خلاف بھی محاذ کھڑا کیا جارہا۔ مسلم لیگ ن کے ترجمان میڈیا میں آکر برملا طور پر کہتے رہے کہ وہ باخوبی جانتے ہیں کہ فیصلے کہیں اور لکھے جارہے۔ افسوس کا مقام یہ ہے کہ حکومت کی اس غیر آئینی ، غیر قانونی اور غیر اخلاقی مہم میں ملکی میڈیا کا ایک نمایاں نام پوری طرح تعاون کررہا۔ جے آئی ٹی کے علاوہ سپریم کورٹ کے فاضل ججز صاحبان سے متعلق بھی ایسی خبریں سامنے لائی جاتی رہیںجن کا حقائق سے دور کا بھی واسطہ نہ تھا یہی وجہ ہے کہ سپریم کورٹ کو برملا طور پر اس جنگ اور جیو گروپ کے غیر صحافیانہ کردار کو بے نقاب کرنا پڑا۔
بظاہر آنے والے دنوں میںسیاسی درجہ حرارت میں اضافے کا امکان کسی طور پر مسترد نہیں کیا جاسکتا۔ سیاسی مبصرین کا خیال یہ بھی ہے کہ پی ایم ایل این کی خواہش اورکوشش یہی ہے کہ کسی طرح غیر آئینی طور پر اس کی حکومت کا خاتمہ ہو اور وہ سیاسی شہید بن سکے۔ میں نہ مانوں کی رٹ کا مطلب اس کے سوا کچھ نہیں کہ حکمران جماعت کو باخوبی اندازہ ہوچکا کہ چار سال گزرنے کے باوجود وہ عوام کے ساتھ کیے گے وعدوں میں سے کسی ایک پر بھی پورا نہیں اتر سکے۔لوڈشیڈنگ کا جن آج بھی پوری طرح بے قابو ہے تو مہنگائی اور بیڈ گورنس کے مظاہرے بھی آئے روز دیکھنے کو مل رہے۔ مملکت خداداد پاکستان داخلہ اور خارجہ محاز پر کئی مشکلات سے دوچار ہے مگر حکومت آگے بڑھ کر اپنی زمہ داریاں ادا کرنے کو تیار نہیں۔ بادی النظر میں پانامہ لیکس نے حکومت کی صلاحیت کو عملا مفقود کرکے رکھ دیا ۔ افسوس وزیراعظم نوازشریف تاحال ایسے رہنما کی شکل میںسامنے نہیں آئے جو سیاسی طور پر پختہ کار ہونے کے علاوہ درپیش چیلجز سے کامیابی سے نبردآزما ہونے کی اہلیت سے مالا مال نظر آئے۔

Scroll To Top