میاں شہباز شریف حلم اور تدّبر کے حصول کے لئے خلافت ِفاروقی ؓ کا مطالعہ کریں 20-09-2011

kal-ki-baatحضرت عمر ؓ کو جب حضرت ابوبکر صدیق ؓ نے اپنے آخری لمحوں میں اپنا جانشین مقرر کیا تو کچھ صحابہ کرام کی طرف سے یہ اعتراض سامنے آیا کہ وہ اپنی سخت گیری اور بے لچک طبیعت کی وجہ سے قیادت کی ذمہ داریاں شاید حسن و خوبی کے ساتھ انجام نہ دے سکیں ۔ اس پر حضرت ابو بکرصدیق ؓ نے فرمایا کہ (حضرت) عمرؓ پر جب قیادت کا بوجھ پڑے گا تو ان کے مزاج میں خود بخود نرمی اور ہمدردی آجائے گی۔
تاریخ شاہد ہے کہ جب فاروق اعظمؓ امیر المومنین بنے تو انہوں نے اپنے مزاج اور انداز میں اتنی زبردست تبدیلی کی کہ لوگ حیران رہ گئے۔ وہ لوگ جوان سے خوف کھایا کرتے تھے وہ ان کے گرویدہ ہوگئے۔
میں نے حضرت عمر فاروق ؓ کی مثال یہاں میاں شہباز شریف کی رہنمائی کے لئے دی ہے جن کا غصہ اور طیش ضرب المثل کی حیثیت اختیار کر چکا ہے۔ بہت سارے فیصلے وہ سوچ بچار کی بجائے ”حالت غیظ و اشتعال“ میں کرنے کے عادی نظر آتے ہیں۔ اور اپنی انتظامیہ کے ساتھ ان کا رویہ کسی سوجھ بوجھ فہم و فراست اور حلم و اعتدال رکھنے والے لیڈر کا ہرگز نہیں ہوتا۔
یہ درست ہے کہ وہ ایک فعال اور متحرک وزیر اعلیٰ ہیں اور ان کے رویوں سے عمومی تاثر یہی پیدا ہوتا ہے کہ وہ بہتری کے خواہشمند ہیں۔ لیکن یا تو وہ اپنی تلخ مزاجی کو قابو میں رکھنے کی صلاحیت ہی نہیں رکھتے یا پھر انہوں نے ایک شعور ی کوشش کے ذریعے اپنے آپ پر سخت گیری طاری کر رکھی ہے کہ اس طرح انتظامیہ کی کارکردگی میں بہتری آئے گی۔ دونوں صورتوں میں وہ اپنی ناکامیوں کے ذمہ دار خود کہلائیں گے ۔
ان کے ”انداز حکمرانی “ کی تازہ ترین مثال ”ڈینگی“ کے ٹیسٹ کی مقررہ فیس سے زیادہ رقم وصول کرنے والی لیبارٹریوں کو سیل کر دینے اور ان کے مالکان اور اہلکاروں کے خلاف فوجداری مقدمات قائم کرنے کا اقدام ہے۔
عوام کو اپنی صالح حکمرانی سے مرعوب کرنے یا جذبات کو عقل کا نعم البدل بنانے کے شوق میں وہ بھول گئے کہ ڈینگی کی بیماری جتنی تیزی اور رفتار سے پھیل رہی ہے اس کے پیش نظر لیبارٹروں کو بند کرنے کا فیصلہ عوام کے لئے مزید مسائل پیدا کرنے کا باعث بنے گا۔
یہ خالصتاً آمرانہ اور فسطائی رویہ ہے کہ آپ کے مزاج یا سوچ میں جو بات آئے وہ بغیر سوچے سمجھے قانون کا درجہ دھار لے۔
ضرورت اس امر کی تھی کہ وہ منافع خوروں سے اپیل کرتے اور کم از کم یہ وقت ”صبر و تحمل“ کے ساتھ گزار لیتے۔
کاش کہ اس قسم کی سخت گیری کا مظاہرہ وہ پنجاب میں امن و امان کی صورتحال بہتر بنانے کے لئے کرتے۔
لیکن شاید انہیں کسی نے یہ مشورہ دے دیا ہو کہ یہ موقع عمران خان کا مزاج درست کرنے کےلئے بھی آئیڈیل ہے۔ چنانچہ انہوں نے اپنے دماغ کو استعمال کرنے کی ضرورت ہی محسوس نہ کی ہو!

Scroll To Top