الحمد للہ ۔۔۔۔

kuch-khabroun-ke-bary-me-2ججوں کی آراءنہیں بولا کرتیں۔۔۔ ججوں کے فیصلے بولا کرتے ہیں۔۔۔ یہ بات میں تب سے سن رہا ہوںجب سے پاناما کیس سپریم کورٹ میں گیا ہے۔۔۔ اور قارئین جانتے ہیں کہ پاناما کیس گزشتہ برس کے اختتامی ہفتوں کے دوران تب کے چیف جسٹس ظہیر جمالی کی سربراہی میں قائم پانچ رکنی بنچ بھی سن رہا تھا۔۔۔
10جولائی 2017ءتک کا سفر پاناما کیس کے حوالے سے قوم کے لئے نہایت تکلیف دہ اور صبر آزما رہا ہے۔۔۔ تکلیف دہ اس لئے کہ کسی بھی غیرتمندقوم کے لئے یہ احساس خوفناک ہوتا ہے کہ اس کی حکمرانی ایسے ہاتھوں میں ہے جن پر چوری اور بدیانتی میں رنگے ہونے کا الزام ہے۔۔۔ صبر آزما اس لئے کہ اگر ہمارے وزیراعظم کو اپنی بے گناہی اور دیانت داری کا یقین ہوتا اور وہ اس یقین کے تحت اقتدار سے کچھ مدت کی جدائی برداشت کرلیتے تو اب تک قوم بے یقینی کے کرب سے نکل چکی ہوتی۔۔۔
بہرحال اب قوم کا تکلیف دہ اور صبر آزما انتظار اختتام کے قریب پہنچ چکا ہے۔۔۔
جے آئی ٹی نے اپناکام مکمل کرکے اپنی رپورٹ عدلیہ کے سامنے رکھ دی ہے۔۔۔
عدلیہ نے بولنا شروع کردیا ہے۔۔۔ اب عدلیہ کی صرف آراءنہیںعدلیہ کے فیصلے بھی بول رہے ہیں۔۔۔
وزیراعظم آج بھی فیصلہ کرلیں کہ ان کا اقتدار ملک کے مستقبل سے زیادہ قیمتی نہیں تو وہ خطرناک صورتحال جو آنے والے دنوں میں پیدا ہونے والی ہے اس سے بچا جاسکتاہے۔۔۔
مگر وزیراعظم کے لئے معاملہ صرف اقتدار میں رہنے یا نہ رہنے کا نہیں ` ان” فیوض اور برکات “سے ہاتھ دھونے کے خطرے کا بھی ہے جو اقتدار کی بدولت انہیں اور ان کے خاندان کو حاصل ہوئے ہیں اور جن کے اعتراف میں وزیراعظم کے بڑے صاحبزادے کے منہ سے ” الحمد للہ “ نکلا تھا۔۔۔
وہ دن اب مجھے زیادہ دور نظر نہیں آتا جب پوری قوم سپریم کورٹ کی طرف تشکّر بھری نظروں سے دیکھ کر کہے گی۔۔۔”الحمدللہ“۔۔۔

Scroll To Top