پانامہ لیکس کا معاملہ انجام تک پہنچانا ہوگا

وزیراعظم نوازشریف نے پانامہ لیکس پر اپنے موقف میں کہا ہے کہ الیکشن کمیشن کو بغیر ثبوتوں کے دائر کی گی دراخواستوں پر سماعت کا اختیار ہی نہیں۔ سابق اٹارنی جنرل سلمان اسلم بٹ کی وساطت سے وزیراعظم پاکستان کا کہنا تھا کہ جن سیاسی جماعتوںنے الزامات عائدکیے ہیں ثبوت فراہم کرنا بھی ان ہی کی زمہ داری ہے لیکن درخواستوں کے ساتھ کوئی ثبوت لف نہیں کیے گے۔ الیکشن کمیشن میں سماعت کے دوران وزیراعظم نوازشریف کے وکیل سلمان اسلم بٹ کا موقف تھا کہ وہ اپنے موکل کی طرف سے اعتراضات کا جواب دینے کے لیے تیار ہیںجس پر تحریک انصاف کے وکیل حامد خان نے کہا کہ انھیں تیاری کے لیے وقت چاہے جس پر الیکش کمیشن نے دونومبر تک سماعت ملتوی کردی۔
قومی سیاست میں پاکستان تحریک انصاف کے تیس اکتوبر کو اسلام آباد میں احتجاج کو بڑی اہمیت دی جارہی ۔ عمران خان کاکہنا ہے کہ پانامہ لیکس الزمات نہیں بلکہ ثبوت ہیں جس کے بعد وزیراعظم نوازشریف اور ان کے خاندان کے خلاف کاروائی لازم ہوچکی۔پی ٹی آئی کے چیرمین کا یہ کہنا اہم ہے کہ پانامہ لیکس سامنے آئے ہوئے چھ ماہ کا عرصہ گزر چکا مگر کسی بھی متعلقہ سرکاری ادارے نے اس میگا کرپشن کی تحقیقات کرنے کا قومی فریضہ سرانجام نہیںدیا۔
ناقدین کا یہ دعوی غلط نہیں کہ حکمران خاندان بدعنوانی کے اس تاریخی سکینڈل کو صرف اور صرف طول دینے کی حکمت عملی پر کاربند ہے۔ قومی سیاست کا ہر طالب علم باخوبی آگاہ ہے کہ یہاں مسائل حل کرنے کی بجائے انھیں التواءمیں رکھنے کا رجحان کئی دہائیوں سے جاری ہے ۔ عوام کو بے وقوف بنا کر اہل اقتدار اپنے ذاتی مفادات کی تکمیل کے لیے تو پوری قوت سے متحرک رہتے ہیں مگر قومی معاملات پر توجہ دینے کی انھیں کبھی فرصت نہ ملی۔ یقینا اس پس منظر میں ہاں کرپشن کا خاتمہ ہمارے ہاں معجزہ تصور ہوگا۔ سیاست دان ، مذہبی رہنما، بیوروکریسی ، برنس مین ، نظام عدل ، محکمہ پولیس، تعلیم، صحت غرض جس شبعہ کا نام لیا جائے وہاں بدعنوان عناصر پوری قوت سے موجود ہیں۔ دراصل چینی کہاوت ہمارے ہاں پورے طرح سچ ثابت ہوچکی کہ ”مچھلی سر سے سٹرنا شروع ہوتی ہے“۔
بادی النظر میں مملکت خداداد میں سیاست ایسا کاروبار بن چکا جس میں خسارے کا امکان نہ ہونے کے برابر ہے۔ کیا ہم اس تلخ سچائی کو نظر انداز کرسکتے ہیں کہ محض چند دہائیوں قبل تک ملکی سیاست میں آنے والی شخصیات آج اربوں نہیں کھربوں میں کھیل رہی ہیں۔برسر اقتدار آنے والے افراد ایک نسل نہیں بلکہ کئی نسلوں کو سنوار چکے ۔ ادب کی دنیا میں مال ودولت اکھٹا کرنے کو روحانی بیماری سے تشبیہ دی گی ۔ یہی وجہ ہے کہ ملکی سیاست دانوں کی اکثریت ملک کے اندار اور باہر بے پناہ پیسہ رکھنے کے باوجود کسی طور پر اس بدترین رجحان سے تائب ہونے کو تیار نہیں۔
عمران خان کا یہ کہنا غلط نہیں کہ نظام عدل ہو یا ملکی احتساب کے ادارے سب ہی بدعنوانی ختم کرنے میں ناکام ہوچکے ۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ کرپشن کی موجودگی کو نہ صرف دل وجان سے تسلیم کرلیا گیا ہے بلکہ بہتی گنگا میں ہاتھ دھونے کا عمل بھی پوری شدت سے جاری ہے۔ سوال یہ ہے کہ کرپشن کے خاتمہ کی امید کیونکر کی جائے جب ماضی یا حال میں کوئی ایک بھی ایسی مثال پیش نہیںکی جاسکتی جب کسی طاقت ور بدعنوان شخص نے سنگین سزا بھگتی ہو۔پاکستان مسلم لیگ ن اور پاکستان پیپلزپارٹی کے درمیان سیاسی مفاہمت کا مطلب یہ سمجھ لیا گیا ہے کہ ایک دوسرے کی لوٹ کھوسٹ سے متعلق کوئی پوچھ گچھ نہ کی جائے۔ نوے کے عشرے میں دونوں سیاسی قوتوں نے ایک دوسرے کے خلاف کرپشن کے نہ صرف سنگین الزمات عائد کئے بلکہ عدالتوں میں ثبوت بھی پیش کے گے۔ حال ہی میں پاکستان پیپلزپارٹی اور اس کی اتحادی جماعتوں نے دوہزار آٹھ سے لے کر دو ہزار تیرہ تک اپنی آئینی مدت پوری کی جس میں اس کے دووزیراعظم سمیت اہم وزراءکے خلاف بدعنوانی کے کئی مقدمات قائم ہوئے مگر کسی ایک میں بھی کسی کو بھی سزا نہ مل سکی۔
اس پس منظر میں عمران خان ایک بار پھر پوری قوت سے اپنے اس پرانے موقف کا اعادہ کررہے ہیں کہ دو نمایاں سیاسی جماعتوں کی اعلی قیادت نہ صرف کرپٹ ہے بلکہ ایک دوسرے کی بدعنوانی کو بچانے کے لیے پوری طرح متحرک بھی ۔ پی ٹی آئی سربراہ کا یہ موقف غلط نہیں کہ پانامہ لیکس کے معاملہ کو دانستہ طور پر طول دیا جارہا ہے تاکہ یہ عالمی مالیاتی سیکنڈل عوام اور میڈیا دونوں کی توجہ کھو دے۔ ملکی سیاست دانوں کی ترجیحات کا اندازہ اسی سے لگایا جاسکتا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف تن تنہا پانامہ لیکس کا معاملہ لے اجتجاج کررہی ہے۔ کئی ماہ سے اگر مگر چونکہ چنانچہ کی بحث کرتے ہوئے پاکستان پیلزپارٹی اور دیگر اپوزیشن جماعتیں پانامہ لیکس کے معاملے پر حکمران جماعت کو بچانے کا فریضہ سرانجام دے رہیں۔ میڈیا کا ایک بڑا حصہ بھی اس میگا سکینڈل کے خلاف ہونے والے احتجاج کو جمہوریت کے خلاف سازش قرار دے رہا مگر عمران خان کا کہنا ہے کہ قومی مسائل حل نہ ہونے کی بنیادی وجہ کرپشن ہے مطلب یہ جو پیسے عام آدمی کی فلاح وبہود پر خرچ ہونا چاہے وہ اہل اقتدار کی جبیوں میں جارہا۔
30 اکتوبر کو عمران خان اسلام آباد بند کرنے میں کامیاب ہوتے ہیں یا نہیں لیکن اس میں کوئی شک نہیں رہا کہ وفاقی دارلحکومت میں عوام کی بڑی تعداد بدعنوانی کے خلاف اپنی ناپسندیگی کا برملا اظہار ضرور کریگی ۔

Scroll To Top