خدا ہمارے حال پر رحم کرے۔کہانی کرپشن کی 18-08-2011

kal-ki-baatبھارت میں کرپشن کے خلاف انا ہزارے کی تحریک پوری دنیا کی توجہ کا مرکز بن گئی ہے۔ گزشتہ کچھ عرصے سے بھارت میں کرپشن کے جتنے بڑے بڑے سکینڈل سامنے آرہے ہیں انہوں نے بھارت کی ” جمہوری ساکھ “ کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ جب یہ اطلاعات سامنے آئیں کہ صرف سوئس بینکوں میں بھارت کے سرمایہ داروں اور ان کے’ ’ شرکائے کار “ کا جو کالا دھن جمع ہے اس کی مالیت 1456ارب ڈالر ہے ¾ تو بھارتی عوام میں غم و غصے کی لہر دوڑ گئی۔ غم و غصے کی اسی لہر نے انا ہزارے کی تحریک کا روپ دھار لیا ہے۔
اب یہ بات کھل کر سامنے آگئی ہے کہ جمہوری حکومتوں میں کرپشن کا گراف آمریتوں کے مقابلے میں بہت اونچا ہوتا ہے۔ اس کی سیدھی سادی وجہ یہ ہے کہ آمریتوں میں صرف ایک مارکوس ہوتا ہے ’ اور صرف ایک ” مارکوس “ کے اقرباءاور حواری ہوتے ہیں جو ریاستی وسائل کی لوٹ کھسوٹ میں مصروف ہوتے ہیں ۔ لیکن جمہوریتوں میں ان گنت مارکوس بڑ ی ” لگن “ اور ” یکسوئی “ کے ساتھ یہ فریضہ انجام دے رہے ہوتے ہیں۔ اس دلچسپ صورتحال کی عکاسی بھارت بڑے جامع انداز میں کرتا ہے ۔ جہاں تک پاکستان کا تعلق ہے وہ بھارت سے اس میدان میں کافی آگے ہے۔ مجھے یقین ہے کہ پاکستان کا ” کالا دھن“ دونوں ملکوں کی معیشت کے تناسب کے لحاظ سے کہیں زیادہ ہوگا۔ یہ کالا دھن صرف سوئس بینکوں میں ہی نہیں دوسرے ممالک میں بھی پاکستان کی سرکاری معیشت کی ” قریب المرگی“ کا منہ چڑا رہا ہوگا۔
ہمارے سیاسی نظام میں کرپشن کی سرپرستی کس کس انداز میں کی جاتی ہے اس کا اندازہ ایک دلچسپ مثال سے لگایا جاسکتا ہے۔ آپ ہاﺅس بلڈنگ فنانس کارپوریشن کے بارے میں جانتے ہوں گے۔ یہ ادارہ مکانوں کی تعمیر کے لئے عوام کوقرضے فراہم کرتا ہے۔ قرضوں کی اس فراہمی کے پیچھے کرپشن کا ایک پورا نظام کام کررہا ہوتا ہے۔
آپ کو یاد ہوگا کہ بی بی صاحبہ کے دوسرے دور میں جب حسین حقانی وزارت اطلاعات کے سیٹ اپ میں اپنی افادیت کھو بیٹھے تو انہیں” نوازے“ کے لئے ایچ بی ایف سی کا سربراہ بنا دیا گیا تھا۔ یعنی وہ بیک جبنش قلم بینکر بن گئے۔ یہی کہانی میاںنوازشریف نے صدیق الفاروق کے معاملے میں دہرائی ۔ وہ بھی جب اپنی خود نوشت لکھیں گے تو اپنا تعارف ایک سابق بینکر کے طور پر بھی کرائیں گے۔
پاکستان میں اس نوعیت کی کرپشن اس قدر عام ہے کہ راتوں رات تقدیر یں تبدیل کردینے والے عہدوں پر فائز ” غیر متعلقہ “ لوگوں کی فہرست تیار کی جائے تو آپ کے قلم کی روشنائی خشک ہوجائے گی مگر فہرست مکمل نہیں ہوگی۔
اس صور تحال کا المناک پہلو یہ ہے کہ جمہوری نظام میں نوازے جانے والے خاندانوں اور ان کے حواریوں اور اقرباءکی تعداد ہزاروں میں ہوا کرتی ہے۔

Scroll To Top