برہان وانی کی شہادت اور کشمیر کی تحریکِ آزادی

زین العابدین


بھارتی قابض افواج کی مقبوضہ جموں و کشمیرمےںانسانی حقوق کی انسانیت سوز پامالیوں کا سلسلہ جاری ہے۔ سال 2016سے شروع ہونیوالی آزادی کی تازہ لہر نے پوری وادی کو اپنی لپےٹ مےںلے رکھا ہے ۔ مقبوضہ کشمیرسے ملنے والے اعداد شمار یہ بتانے ہےں کہ کس طرح بھارت آزادی اور اپنے پےدائشی حق خود ارادیت کےلئے آواز اٹھانے والے نہتّے کشمیریوں پر اپنی فوجی طاقت کا استعمال کر کے انکی آوازوں کو خاموش کرنے کی کوشش کررہا ہے۔ کشمیر میڈیا سروس کے جاری کردہ اعداد وشمار کےمطابق 8جولائی 2016سے لےکرجب بھارتی قابض افواج کے ہاتھوں نوجوان حریت رہنما برہان مظفر وانی کی شہادت ہوئی، 30اپرےل2017تک مظاہروں کے دوران بھارتی افواج کی فائرنگ اور آنسو گےس کی شےلنگ سے شہید ہونےوالے کشمیریوں کی تعداد 140 ہو چکی ہے جبکہ زخمی ہونےوالوں کی تعداد 16840تک پہنچ چکی ہے۔ بھارت نے کشمیری مظاہرین پر پےلٹ گن کا بے تحاشا استعمال کیا اسلئے پےلٹ گن کے فائر سے زخمی ہونےوالوں کی تعداد7760ہے۔ 67 زخمی اپنی دونوں آنکھوں کی بینائی سے مکمل طور محروم ہو گئے جبکہ 193زخمیوں کی اےک آنکھ ضائع ہوئی۔ اسی طرح 910 زخمیوںکی آنکھوں کی بینائی کے ختم ہونے کا اندےشہ ہے۔ جبکہ1760کشمیری نوجوانوں کی بینائی جزوی طور پر متاثر ہوئی ۔ اس عرصے مےں بھارتی قابض افواج نے590خواتین کےساتھ بدسلوکی گئی ۔ کشمیریوں کی65195 املاک کو، جن مےں گھر، دوکانےں اور دیگر عمارتیں شامل ہےں، بھارتی افواج کی کارروائیوں سے شدید نقصان پہنچا۔ ان کارروائیوں کے دوران 52 سکولوں کوبھی نشانہ بناےا گےا۔ کشمیری نوجوانوں کی پکڑ دھکڑ بھی عروج پررہی اور اس مدت مےں 15320کشمیری نوجوانوں کو گرفتار کیا گےا جن مےںسے775 کو پبلک سےفٹی اےکٹ کے بدنامِ زمانہ کالے قانون کے تحت زےرِ حراست رکھا گےا۔ صرف جون 2017 کے دوران37کشمیریوں کو شہید کیا گےا جن مےں 6کشمیری نوجوانوں کو زےرِ حراست تشدد کرکے قتل کیاگےا۔بھارتی پولیس اور قابض افواج کے ہاتھوں شدید زخمی ہونےوالوںکی تعداد775ہے۔ 196 شہریوں کو گرفتار کیا گےا ۔ مزید برآںکشمیریوں کی 117املاک کو تباہ کر دیا گےا ےا انہیں شدید نقصان پہنچا۔اسی دوران56کشمیری خواتین کےساتھ بدسلوکی کی گئی۔
یہ بھیانک اعداد وشمارجہاں اےک طرف بھارت کی ریاستی دہشتگردی کا منہ بولتا ثبوت ہےں وہیں ان سے یہ اندازہ بھی لگاےا جاسکتا ہے کہ نوجوان شہیدِ آزادی برہان مظفر وانی کی شہادت نے کس طرح مقبوضہ جموں و کشمیر مےں بسنے والے ہر نوجوان ، مردو عورت ، بچوں اور بوڑھوں کو اس تحریک کا حصہ بنا دیا ہے کہ وہ بھارتی ظلم و ستم کے سامنے سر جھکانے کو تےار نہیں۔ جس انداز سے سکول و کالج کے نوجوان طلباءو طالبات نے اس تحریک مےںشمولیت اختیار کر کے اس مےں نئی جان ڈال دی اس سے خودبھارتی صاحبِ اختیار حلقے شدید پرےشانی اور بوکھلاہٹ کا شکار ہوگئے اور خود کئی بھارتی حلقے بھی بھارتی حکومت کی کشمیر پالیسی کو شدید تنقید کا نشانہ بنارہے ہےں۔
شہیدِ آزادی برہان مظفر وانی 1994مےں پلوامہ ( مقبوضہ جموں و کشمیر) مےں اےک متوسط طبقے کے گھرانے مےں پےدا ہوئے۔ اسکے والد مقامی سکول کے رنسپل ہےں جبکہ اسکی والدہ سائنس کے مضمون مےں اعلیٰ تعلیم ےافتہ خاتون ہےں اور اپنے گاو¿ں مےں بچوں کو قرآن کی تعلیم دےتی ہےں۔بھارتی قابض افواج کی جانب سے ظلم و زیادتی اور ریاستی دہشتگردی کے واقعات نے برہان وانی کو بہت کم عمری مےں ہی بھارت اور وادی مےں اسکی کٹھ پتلی انتظامیہ سے متنفر کردیا اور وہ 2010 مےں محض 16سال کی عمر مےں آزادی کے متحرک کاررواں کا حصہ بن گئے۔ بھارتی افواج نے برہان وانی کے بڑے بھائی کو اسکے دیگر ساتھوں کے ہمراہ شدیدتشدد کا نشانہ بناےا۔ مزید برآں 13اپرےل 2015 کو برہان وانی کے بھائی کو بھارتی افواج نے تشدد کرکے شہید کردیا اور دعویٰ کیا کہ وہ عسکریت پسند تھا حالانکہ علاقہ مکین اس بات کی سختی کےساتھ تردید کررہے ہےں۔بھارت کا یہ دعویٰ بھی بالکل غلط تھا کہ اسے کسی فوجی مقابلے مےں قتل کیا گےا کیونکہ اسکے جسم پر گولی لگنے کا کوئی نشان نہیں تھا۔ اسے دورانِ حراست تشدد کر کے قتل کیا گےا ا اور صرف اسلئے قتل کیا گےا کہ وہ نوجوان حریت رہنما برہان وانی کا بھائی تھا۔ بھارتی قابض افواج نے 8جولائی 2016 کو کوکرناگ (مقبوضہ جموں و کشمیر )کے علاقے مےں اےک کارروائی کر کے برہان وانی اور اسکے دو ساتھیوں کو بھی شہید کردیا۔ برہان وانی 2011سے 2016تک حزب المجاہدین کے کمانڈر رہے ۔ کشمیری نوجوانوں مےں برہان وانی کی مقبولیت کا اندازہ اس بات سے لگاےا جاسکتا ہے کہ اسکے جنازے مےں کشمیر بھر سے اتنے لوگوں نے شرکت کی کہ اس سے پہلے وادی مےں اتنا بڑا جنازہ کسی کشمیری رہنما کا نہیں ہوا۔ برہان وانی شہید کو پاکستانی پرچم مےں دفن کیا گےا۔
برہان وانی کی شہادت نے کشمیر مےں جاری آزادی کی تحریک کو نئی زندگی عطا کرتے ہوئے کشمیر کے ہر نوجوان کو اسکا حصہ بنا دیا۔ برہان وانی کی شہادت کے بعد کشمیر بھر مےں احتجاج اور بھارت مخالف مظاہروں کا وہ سلسلہ شروع ہوا جو ہنوز جاری ہے اور بھارتی پولیس اور افواج کےلئے ان جلسے جلوسوں اور مظاہروں پر قابو پانا مشکل ہو گےا۔وادی بھر مےں کرفیو کا نفاذ اور ذرائع ابلاغ پر مکمل طور پر پابندی لگا کر وادی کا رابطہ دنیا بھر سے کاٹ دیا گےا ہے۔ پر امن مظاہرین پر فائرنگ کی گئی اور ان پر پےلٹ گن کا استعمال کیا گےا جس سے سےنکڑوں شہید اور ہزاروں کشمیری زخمی ہو گئے۔ سکولوں اور کالجوںپر بھارتی افواج نے حملے کئے اور طلباءو طالبات کو بلا امتےاززدوکوب کیا گےا۔ سکولوں اور کالجوں کو زبردستی بند کیا گےا جن سے مقبوضہ کشمیر مےں تعلیمی سرگرمیاں شدید متاثر ہوئیں۔
برہان وانی کشمیری نوجوانوں کےلئے آزادی کی تحریک کی علامت بن چکا ہے ۔برہان وانی کی شہادت کو اےک سال مکمل ہورہا ہے لےکن وادی مےں آزادی کی صدا اسی شدت کےساتھ گونج رہی ہے اوربھارت کسی طور اسے دبانے مےں کامیاب نہیں ہو رہا۔ بھارت کی کشمیریوں کےساتھامتیازی سلوک اور دشمنی کی انتہا یہ ہے کہ اپنے پےدائشی حقِ خود ارادیت کا مطالبہ کرنےوالے کشمیریوں کےخلاف بھارتی افواج خطرناک کییائی ہتھےاروں کا استعمال کرنے پر تل گئی ہے۔ وادی سے ملنے والی اطلاعات کےمطابق بھارتی قابض افواج نے کشمیریوں کو قتل کرنے اور انکی املاک کو تباہ کرنے کےلئے مہلک کیمیائی مواد کا استعمال شروع کر دیا ہے ۔مقبوضہ جموں و کشمیر کے ضلع پلوامہ مےں 3جولائی2017 کو 24گھنٹوںکے دوران 3کشمیریوں اور4گھروں کو کیمیائی ہتھےاروں سے نشانہ بناےا ۔ شہید ہونےوالے کشمیری نوجوانوں کی لاشوں کی اس کیمیائی مواد کے استعمال سے اس قدر بری حالت تھی کہ انکو پہچاننا دشوار تھا۔ہزاروں افراد نے ان شہیدوں کے جنازوں مےں شرکت کی اور بھارتی وافوج کی طرف سے انکے خلاف کیمیائی ہتھےاروں کے استعمال پر احتجاج کیا۔ اسی طرح کا اےک واقعہ پچھلے ہفتے پام پورہ مےں بھی پےش آےا تھا جس مےں بھارتی افواج نے 3کشمیری نوجوانوں کوکیمیائی ہتھےاروں کے استعمال سے شہید کردیا جبکہ اےک گھر کو بھی تباہ کردیا ۔بھارتی افواج کے ان اقدامات کےخلاف کشمیری سراپا احتجاج ہےں اور کشمیری نوجوانوں کےخلاف کیمیائی مواد کے استعمال کی شدید مذمت کررہے ہےں۔
بھارت کا کشمیریوں کو اقوامِ متحدہ کی قراردادوں کےمطابق حق خود ارادیت کے استعمال سے روکنا نہ صرف بےن الاقوامی قوانین اوراقوامِ متحدہ کے چارٹر کی توہین ہے بلکہ اپنی بنیادی ذمہ داری سے روگردانی بھی ہے جسکا اس نے کشمیروںکےساتھ وعدہ بھی کیا تھا۔بھارت مختلف حیلوں بہانوں سے دنیا کی آنکھوں مےں دھول جھونک کر یہ باور کروانے کی کوشش کرتا آےا ہے کہ مقبوضہ جموں و کشمیر مےں حالات معمول کےمطابق اور پرامن ہےں لےکن حقیقتِ حال اسکے بالکل برعکس ہے۔ بھارت کشمیر کی آزادی کی تحریک کو دہشتگردی اور آزادی کا مطالبہ کرنےوالوں کو دہشتگرد قرار دےکر ان پر ریاستی دہشتگردی کا ہر ہتھکنڈہ اپنانے پر تلا ہوا ہے۔ برہان وانی جےسے شہیدوں کا لہو اس امر کی نشاندہی کرتاہے کہ کشمیری بھارتی غلامی سے آزادی چاہتے ہےں اور اسکے حصول کےلئے وہ اپنے خون کا آخری قطرہ تک بہانے کےلئے تےار ہےں۔ بھارت کےلئے یہ جاننا ہی کافی ہے کہ جب تک برہان وانی جےسے شہیدوں کا لہوتحریکِ آزادیِ کشمیر مےں شامل ہوتا رہےگا اس تحریک کا کاررواں اپنی منزل ےعنی بھارتی استبداد سے آزادی کی طرف بڑھتا رہےگا اور طاقت کا کوئی استعمال انکے راستے کو اب نہیں روک سکتا۔

Scroll To Top