یونس خان کا قابل رشک اقدام

zaheer-babar-logoسابق کپتان اور ریکارڈ ساز کرکٹر یونس خان کا وزیراعظم نوازشریف کی جانب سے دی گی ایک کروڈ روپے کی انعامی رقم فلاح اداروں کو دینے کا اعلان بلاشبہ خوش آئند ہے۔۔ وڈیو پیغام میں یونس خان نے وزیراعظم نوازشریف کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ وہ حکومت کی جانب سے دی گی انعامی رقم ملک میں کام کرنے والے فلاحی اداروں ایدھی فاونڈیشن،انڈس ہسپتال ، دی سینڑن فاونڈیشن کو یکساں طور پر عطیہ کریں گے۔ “
وطن عزیز میں درد دل رکھنے والے افراد کی کمی نہیں۔ ملک کے طول وعرض میں سینکڑوں نہیں ہزاروں ایسے ادارے ہیں جہاں غریب و مسحق لوگوں کی فلاح وبہبود کے لیے کام کررہے۔ بلاشبہ جہاں اخلاص سے مالا مال مرد وخواتین متحرک ہیں وہی جعل سازوں کی بھی کمی نہیں۔ یہ کہنا ہرگز غلط نہیں کہ آج بھی اس سرزمین پر ایسے نفوس موجود ہیں جو مختلف بہروپ اختیار کرکے خالق اور مخلوق دونوں کو جھانسہ دینے کے لیے کوشاں ہیں۔ اگرمگر کے باوجود وطن عزیز بارے یہ حقیقت نمایاں ہے کہ مسحق لوگوں کی امداد میں پاکستانی ہمیشہ پیش پیش رہے۔ ملک میں آنے والے سیلاب ہوں یا زلزلہ کی تباہ کاریاں شائد ہی کوئی موقعہ ایسا آیا جب پاکستان کے باسی اپنے ہم وطنوں کی امداد کے لیے میدان عمل میں نہ نکل آئے ہوں۔
حالیہ مردم شماری سے معلوم ہوچکا کہ پاکستان کی آبادی 20سے 22 کروڈ تک جاپہنچی۔ ملکی آبادی جس تیزی سے بڑھ رہی وسائل قطعی طور پر اس تناسب سے نہیں بڑھ رہے چنانچہ اس صورت حال کا نتیجہ خطہ غربت سے نیچے زندگی گزارنے والوں کی تعداد میں بتدریج اضافہ کی شکل میں ظاہر ہورہا۔ حالات کی سنگینی کا اندازہ یوں لگایا جاسکتا ہے کہ وزیر خزانہ اسحاق ڈار خود تسلیم کرچکے کہ چالیس فیصد پاکستانیوں کو پیٹ بھر کر کھانا میسر نہیں۔یہاں یہ سوال یقینا بنتا ہے کہ اصلاح احوال کے لیے جمہوری حکومت کا کردار کس حد تک اطمنیان بخش ہے۔سابق صدر پرویزمشرف کو مسند اقتدار سے رخصت ہوئے نوسال سے زائد کا عرصہ بیت گیا اب آمریت کو تمام برائیوں کی جڑ قرار دینے والوںکا کڑا امحتان ہے وہ جمہوری نظام کو بھوکے پاکستانیوںکو پیٹ بھر کر روٹی فراہم کرنے میںکامیابی حاصل کریںلیکن تاحال ایسا ممکن نہیںہوسکا۔
ایک نقطہ نظر یہ ہے کہ پی پی پی ہو یا پی ایم ایل این نمایاں سیاسی قوتوں سے یہ توقع رکھنا خوش فہمی کے سوا کچھ نہیں کہ وہ درپیش چیلنجز سے کامیابی سے عہدہ برا ہونے کے انقلانی اقدمات اٹھائیں گی۔ عوامی نیشنل پارٹی ، جمیعت علماءاسلام ف ، متحدہ قومی موومنٹ اور مسلم لیگ ق جیسی پارٹیاں بھی سٹیس کو برقرار رکھنے میں معاون کا کردار نبھارہیں۔ کھلے دل ودماغ سے اس حقیقت کا اعتراف کر لینا ہوگا کہ رائج نظام بدستور اپنی افادیت ثابت کرنے میںناکام ہے۔ پاکستانی جمہوریت اس لحاظ سے دنیا کی انوکھی جمہوریت ہے کہ اس میں بلدیاتی اداروں کا کوئی وجود نہیں ۔ کم وبیش سب ہی سیاسی قوتیں لوککل باڈیز نظام کو کو رائج کرنے کے لیے عملا تیار نہیں۔ اس سوال کا تسلی بخش جواب میسر نہیں کہ اگر لاکھوں نہیں کروڈوں پاکستانیوں کے مسائل ان کی دہلیز پر حل نہیں ہونگے تو وہ جمہوریت کے کیونکر گن گائیںگے ۔
ملک کے سنجیدہ حلقوں میں ماضی کی طرح آج بھی یہ سوال زیر بحث ہے کہ مسائل کو حل کرنے کی زمہ داری اہل اقتدار کے سپرد کردی جائے یا پھر عوام اپنی مدد آپ کے تحت مسائل کو حل کرنے کے لیے کوشاںہوجائیں۔ بظاہر اس سوال کا دوٹوک انداز میں جواب دینا ممکن نہیں۔ ملکی سیاسی منظر نامہ پر موجود بڑی بڑی سیاسی جماعتوں کی کارکردگی پر طائرانہ نظر یہ بتانے کے لیے بہت کافی ہے کہ زیادہ توقعات کا نتیجہ سوائے مایوسی کے کچھ نہیں نکلنے والا۔ افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ ایک طرف جمہوریت کو ملک کے روشن مسقبل کی ضمانت قرار دیا جاتا ہے تو دوسری جانب خبیر تا کراچی سیاست کو ناپسندیدہ کہنے والوں کی بھی کمی نہیں۔ اس سے انکار کرنا مشکل ہے کہ آج مملکت خداداد پاکستان میں سیاست عملا گالی بن کر رہ گی۔ دھوکہ ،چالاکی اور فراڈ کا دوسرا نام سیاست قرار دے دیا گیا۔ سوال یہ ہے کہ ایسے ماحول میں اس مقدس شعبہ میں باضمیر لوگ کیونکر آئیں گے۔ بظاہر ہمارے ہاں سیاست خدمت کی بجائے مال بنانے کا زریعہ بن چکا۔ قومی سیاست کا المیہ اس سے بڑھ کر کیا ہوگا کہ ہر کئی دہائیوں سے ہمارے ایوان ایسے باضمیر لوگوں سے تہی دامن ہیں جن کا ماضی اور حال کرپشن سے پاک ہو چنانچہ عبدالستار ایدھی جیسی شخصیات نے سیاست میں طبع آزمائی کرنے کی بجائے انسانیت کی خدمت کو اپنا مشن جانا ۔ کیا کوئی انکار کرسکتا کہ اگر عبدالستار ایدھی عمر بھر سیاست میں رہتے تو وہ دکھی انسانیت کی اس وسیع پیمانے پر خدمت کرنے میں ہرگز کامیاب نہ ہوتے ۔ قومی سیاست میں متحرک بیشتر حضرات عوام کی خدمت کرنے کی بجائے اپنے انفرادی اور گروہی مفادات کی تکمیل کے لیے سرگرداں ہیں۔ آئے روز قومی میڈیا میں کروڈوںکے نہیں اربوں روپے کے بدعنوانی کے سیکنڈل یہ بتانے کے لیے بہت کافی ہیں کہ اصل کھیل ہے کیا۔
معروف کرکڑ یونس خان کی جانب سے وزیراعظم نوازشریف کی جانب سے دیا گیا ایک کروڈ روپے کا انعام ایدھی فاونڈیش اور دیگر فلاحی اداروں کو دینے کا اعلان دراصل اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ پاکستانیوں کی صیح معنوں میں خدمت کون کررہا ہے۔ امید کرنی چاہے کہ آنے والے دنوں میں مذید نامور پاکستانی انسانیت کی خدمت کے لیے مستند فلاحی اداروں کی کھل کر امداد کریں گے۔zaheer-babar-logo

Scroll To Top