ہلکی پھلکی باتیں 25-08-2011

kal-ki-baatآج میں کچھ ہلکی پھلکی باتیں لکھنا چاہتا ہوں۔ بالکل ان بیانات کے انداز میں جو ہمارے ” سدا مسکراتے “ رحمان ملک بڑی روانی اور بڑے تسلسل کے ساتھ دیتے رہتے ہیں۔مجھے کم ازکم چھ سات ایسے بیانات یاد ہیں جو لوگوں کے ذہن میں اٹک گئے ہوں گے اور اس حکومت کی رخصتی کے بعد بھی دیر تک اٹکے رہیں گے۔ مثال کے طور پر وہ بیان جس میں موصوف نے انکشاف کیا تھا کہ کچھ ہلاکتیں تو واقعی ٹارگٹ کلنگ کا نتیجہ ہوں گی مگر بہت سارے کیس ایسے بوائے فرینڈز اور گرل فرینڈزکے ہیں جو ایک دوسرے سے پیچھا چھڑانا چاہتے تھے۔ انہوں نے کہا کچھ اور ہوگا مگر جوالفاظ ان کے منہ سے نکلے وہ یہی کچھ بیان کررہے تھے۔
رحمان ملک صاحب کی خوبی ہی یہی ہے کہ جو کچھ انہیں کہنا اور کرنا چاہئے وہ نہ تو کہہ پاتے ہیں اور نہ ہی کر پاتے ہیں لیکن جو کچھ انہیں نہیں کرنا اور نہیں کہنا چاہئے وہ ان سے بے اختیار ہوجاتا ہے یا منہ سے نکل جاتا ہے۔
اسے خوبی میں اس لئے کہہ رہا ہوں کہ بلڈ پریشر سے بچنے کا بہترین طریقہ یہی ہے کہ سنجیدگی کا روگ نہیں نہ پالا جائے۔
اس حکومت نے ہنوز اس روگ کو پالنے سے خاصی کامیابی کے ساتھ اجتناب کیا ہے۔ اس کی بہترین مثال وہ سرکاری بیان ہے جس میں حکومت سندھ نے 23اگست کے روز کراچی کے تمام قاتلوں بھتہ خوروں اور بدمعاشوں کو مشورہ دیا کہ وہ اگر اپنی بھلائی چاہتے ہیں تو کراچی چھوڑ کر چلے جائیں۔
تمہید بڑی لمبی ہوگئی ہے۔ میں جو ہلکی پھلکی باتیں لکھنا چاہتا تھا وہ لکھ ہی نہیں پایا۔ مجھے یہ بھی یاد نہیں رہا کہ میں اس مست ہاتھی کے بارے میں لکھنا چاہتا تھا جو اکثر ٹی وی چینلز پر دیگر شرکاءکو خوفزدہ کرتا نظر آتا ہے۔ یا پھر اس دانشور کے بارے میں جسے بشارت ہوئی ہے کہ پاکستان نظریہءپاکستان کی وجہ سے ٹوٹا تھا ۔ ایک بات طے ہے کہ ہمارے ٹی وی اینکرز کو آگ پر تیل چھڑکنے میں مہارت حاصل ہوچکی ہے۔ آگ لگی ہوئی ہو تو اس پر تیل ہی چھڑکا جاناچاہئے ۔اگر نہ لگی ہوئی ہو تو دیا سلائی آپ کی پہنچ سے دور نہیں ہونی چاہئے۔
قارئین کرام۔۔۔ کل جمعتہ الوداع ہے۔ آپ نے کبھی سوچا ہے کہ ماہ رمضان میں کیا کچھ ہوا ؟
قرآن حکیم کا نزول۔ غزوہ بدر کی صورت میں باطل کے خلاف حق کا اعلان ِجنگ۔ اور پھر قیام ِپاکستان ۔
کل جمعتہ الوداع کے موقع پر یہ دعا ضرور مانگیں کہ پاکستان ماہ رمضان کی لاج رکھے!

Scroll To Top