فکسڈ میچ اور تیسرا آپشن 15-08-2011

kal-ki-baatمیاں نوازشریف نے فرمایا ہے کہ روز روز لانگ مارچ کرنا مناسب نہیں اور حکمرانوں کو شہید کہلانے کا موقع ہر گز نہیں دیا جائے گا۔ البتہ مسلم لیگ (ن)پارلیمنٹ میں اپوزیشن کا کردار بھرپور انداز میں کرتی رہے گی۔
یہ بات کوئی بہت بڑا راز نہیں کہ ماضی میں کسی بھی حکومت کو ایسی دوستانہ اور بے ضرر اپوزیشن کا سامنا کرنا نہیں پڑا۔ موجودہ دور کی اپوزیشن کے رویوں کو دیکھ کر بے اختیار علامہ اقبال کایہ شعر ذہن میں گونجتا ہے۔
”گفتار کا تووہ غازی ہے
کردار کا غازی بن نہ سکا“
میں سمجھتا ہوں کہ عمران خان کے اس الزام میں بڑی جان ہے کہ دونوں بڑی جماعتوں کی قیادتیں فِکسڈ میچ کھیل رہی ہیں ` اور دونوں کا بنیادی مقصد موجودہ پارلیمنٹ کی آئینی مدت پوری کرانا ہے۔
دونوں کے مفادات موجودہ نظام کے تسلسل میں رچے بسے ہیں۔ کیوں کہ دونوں کو یہ احساس ہے کہ اگر وہ حقیقی معنوں میں ایک دوسرے کے لئے خطرہ بنے تو جی ایچ کیو حرکت میں آئے بغیر نہیں رہے گا۔
صدر زرداری کا تو ایمان ہی یہ ہے کہ اصل مقصد حکومت میں رہنا ہے اور اس مقصد کی تکمیل کے لئے ہر فرد اور ہر جماعت سے مفاہمت جائز ہے۔ مفاہمت کے اس فارمولے کی افادیت کا اندازہ میاں صاحب کو بھی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جب وہ صدر زرداری پر گرج برس رہے ہوتے ہیں تب بھی لاہور اور اسلام آباد کے درمیان خفیہ بیک چینل ” بقائے باہمی “ کے اصول کے تحت کام کررہا ہوتا ہے۔
مفاہمت کے اس ملک گیر کھیل میں سب سے بڑے loser(یعنی شکست کھانے والے) عوام ہیں۔ انہیں مفاہمت اور ” جمہوریت کے تحفظ“ کے نام پر مکمل طور پر disempowerکردیا گیا ہے۔ اقتدار میں عدم شرکت کے احساس نے ہی عوام کو ہر تیسرے آپشن کی طرف پُر امید نگاہوں سے دیکھنے پر مجبور کردیا ہے۔
ایک تیسرا آپشن عمران خان کی پاکستان تحریک انصاف ہے۔ عوامی جائزوں میں عمران خان کی روز افزوں مقبولیت عوام کے رحجان کی بڑی صحیح عکاسی کرتی ہے۔
دوسرا ” تیسرا آپشن “ عدلیہ ہے۔
اور تیسرا ” تیسرا آپشن“ فوج ہے۔
میاں نوازشریف کوئی لانگ مارچ کریں یا نہ کریں اب عوام کے لئے یہ بات بے معنی ہوچکی ہے۔
عوام کو مایوسی اور بے بسی کی موجودہ دلدل سے نکلنے کے لئے تیسرے آپشن کی ضرورت ہے۔

Scroll To Top