کوفے والو۔۔۔ پہچان لو مجھے۔۔۔ میں ہنری ہشتم کی بیٹی الزبتھ ہوں

aaj-ki-baat-new-21-aprilتھیٹر شیکسپیئر کے زمانے میں پورے عروج پر ہوگا تبھی تو انہوں نے درجنوں کے حساب سے ڈرامے لکھے جن میں غیرفانی شہرت کے حامل شاہکار بھی ہیں۔ تھیٹر تو قدیم یونان میں بھی اپنے عروج پر تھا ورنہ وہاں ایک ہی عہد میں ایسکائی لس ` یوری پیڈیز اور ارسٹوفنیزجیسے عظیم ڈرامہ نگار کیسے جنم لیتے۔۔۔؟
ڈرامہ نگار کا کام کردار تخلیق کرنا ` ان کے اردگر پلاٹ یا کہانی کا تانا بانا بُننا اور ان کے منہ میں فقرے یا ڈائیلاگ ڈالنا ہوتا تھا (اور اب بھی ہوتا ہے)۔۔۔ ہر کردار کسی ایکٹر کے حصے میں آتا تھا۔اُسی ایکٹر کو کردار کے وجود میں اُتر کر وہ فقرے بولنے پڑتے تھے۔ اور ایسا بھی ہوتا تھا کہ ایکٹر ہملٹ کے فقرے بولتے بولتے خود کو ہملٹ سمجھ لیتا تھا۔ اور عام زندگی میں بھی ہملٹ کی ہی طرح بولتا اور چلتا پھرتا نظر آتا تھا۔
میرا پس منظر چونکہ ” ادب“ کا ہے اِس لئے میں نے اپنے لیڈروں کے قد کاٹھ کا جائزہ لینے کے لئے مثال ”ادب“ سے ہی لی ہے۔
ہمارے لیڈروں کو بھی بولنے کے لئے فقرے دیئے جاتے ہیں۔ ہمارے وزیراعظم میاں نوازشریف کو ایسے لیڈروں میں سرفہرست سمجھا جانا چاہئے۔ ان کے پہلو میں آپ کو ” فقرے“ تخلیق کرنے والا کوئی نہ کوئی فنکار ضرور ملے گا۔ کبھی اس کا نام نذیر ناجی ہوگا ` کبھی عطا الحق قاسمی ہوگا ` اور کبھی عرفان صدیقی ہوگا۔ جہاں تک مجیب الرحمن شامی کا تعلق ہے وہ فقرے دینے والوں میں سے نہیں مشورے دینے والوں میں سے ہیں۔
” یہ ہیں وہ وسائل ۔۔۔“
یہ فقرہ آپ کے ذہن میں رچ بس چکا ہوگا۔ ٹی وی پر یہ سینکڑوں مرتبہ دہرایا گیا ہے۔ اور اگر یہ کہا جائے تو غلط نہیں ہوگا کہ یہی فقرہ میاں صاحب کی جڑوں میں بیٹھا ہے۔ اِس فقرے کا خالق کون ہوگا۔؟
اِس وقت بظاہر عرفان صدیقی کے علاوہ اور کوئی نام سامنے نہیں آتا۔
”بیرون ملک پراپرٹی رکھنا تو دور کی بات ہے میری تو۔۔۔“
یہ ” دور کی بات“ والا فقرہ بھی آپ کے ذہن میں رچا بسا ہوگا۔
گزشتہ رو ز محترمہ مریم نوازشریف نے پھر ” دُور کی بات ہے “ کو ایک اور معاملے میں دہرایا۔ ” حکومتی خزانے سے ایک پائی بھی چرانا تو دور کی بات ہے ` ہم نے تو۔۔۔“
لیکن گزشتہ روز کے جو فقرے یا ڈائیلاگ ادائیگی کے ساتھ ہی تاریخ کا حصہ بن گئے ہیں ` یہ کالم میں انہیں دہرانے کے لئے لکھ رہا ہوں۔
” کوفے والو۔۔۔“
یہ چنگھاڑ مریم صاحبہ کے جزوقتی شوہر کیپٹن صفدر کی تھی جنہوں نے جنم لیا ہی مریم نوازشریف کی اولاد کو اپنا نام دینے کے لئے تھا۔
جب بھی اور جہاں بھی یہ چنگھاڑ یا پکار گونجتی ہے تو منظر کربلا کا سامنے آجاتا ہے۔کیپٹن صفدر خدانخواستہ کس کربلا کو دیکھ کر چنگھاڑے ہیں۔؟ اور کوفے والوں میں انہیں کون کون نظر آرہا ہے ؟
ان سوالات کا جواب فقرے کے خالق کے پاس یقینا ہوگا۔
شاہی خاندان کے فقرہ نگار نے اِس خصوصی موقع پر مریم صاحبہ کو بولنے کے لئے بہت سارے فقرے دیئے۔
اور وہ سارے کے سارے فقرے بولنے کا عزمِ صمیم رکھتی تھیں ورنہ وہ سوال کرنے والے صحافیوں کو ڈانٹ کر چپ نہ کراتیں۔
” خاموش رہو۔۔۔ ابھی میری بات مکمل نہیں ہوئی۔۔۔‘ ‘
” ہاں تو میں کہہ رہی تھی۔۔۔ خوف کھاﺅ اُس وقت سے جب میا ں نوازشریف اپنی بے پایاں حب الوطنی کے باوجود وہ راز اگلنے پر مجبور ہوجائیںجو ان کے سینے میں دفن ہیں۔۔۔“
یقینی طور پر مریم صاحبہ بھی کوفے والوں کو ہی اُس وقت سے ڈرا رہی تھیں جب ” آج کے ملزم کل کے منصف ہوں گے اور آج کے منصف ملزموں کے کٹہرے میں کھڑے نظر آئیں گے ۔“
محترمہ نے کوفے کا ذکر نہیں کیا۔ مگر ان سازشوں کا ذکر دل کھول کر کیا جن کا جال کوفے والے بُن رہے ہیں۔
میرا دل عرفان صدیقی کو داد دینا چاہتا ہے جنہوں نے کمال فنکاری سے سپریم کورٹ آف پاکستان او ر جی ایچ کیو کو ” کوفے“ کا درجہ دے ڈالا ہے۔ یاد رہے کہ کوفہ حضرت علی ؓ کا دارالخلافہ تھا۔
شہزادی صاحبہ نے دوسرا جو ڈائیلاگ کمال کا بولا وہ تھا۔” روک سکتے ہو تو روک لو نوازشریف کو ورنہ وہ ` وہ سب کچھ کر گزرے گا جس سے آپ ڈرتے ہیں۔“
ایک بات طے ہے اور وہ یہ ہے کہ 5جولائی کو وزیراعظم کی صاحبزادی مکمل طور پر شہزادی کا کردار ادا کررہی تھیں۔۔۔ ان کے فقرے بھی شہزادیوں کے تھے۔۔۔ چال بھی شہزادیوں جیسی تھی۔
وہ خود کو ہنری ہشتم کی بیٹی الزبتھ سمجھ رہی تھیں۔۔۔

Scroll To Top