برہان وانی شہید کی پہلی برسی

zaheer-babar-logoahمقبوضہ وادی میں نوجوان کمانڈر برہان وانی کی برسی قریب آتے ہی قابض بھارتی فوج کی کاروائیوں میں اضافہ دیکھنے میں آرہا ۔ آل پارٹیز حریت کانفرنس نے حزب الماجدین کے نوجوان حریت پسند کی شہادت کو ایک سال ہونے پر پورا ہفتے ان کی برسی منانے کا اعلان کیا ہے۔ ادھر بھارتی فوج نے حریت رہنماوں کو نظر بند کرنے کی پالیسی پر عمل کرتے ہوئے عام شہریوں کی نقل وحرکت بھی محدود کردی ہے۔ اے ایف پی کے مطابق جنوبی کشمیر کا ایک پولیس اسٹیشن نوجوانوں کی قبضہ کی گی موٹر سائیکوں سے بھر گیا ہے جبکہ مقبوضہ وادی کے کئی علاقوں میں ابھی سے موبائیل فون سروس معطل ہونا شروع ہوچکی۔
انگریزی کا ایک سوال ہے کہ ٰ.Is one man”s Terrorist Another man”s freedom fighter ? دراصل کچھ ایسی ہی صورت حال برہان وانی کے بارے میں بھی ہے۔ بھارتیہ جتنا پارٹی کی حکومت کے لیے اس سے زیادہ تکلیف دہ بات کوئی نہیں کہ پاکستان اور کشمیر سمیت دنیا بھر میں جہاں جہاں باضمیر افراد بستے ہیں وہ برہان وانی کو دہشت گرد تسلیم کرنے کو تیار نہیں۔ تسلیم کہ بھارت مقبوضہ وادی میں کئی دہائیوں سے ظلم ستم کا بازار گرم کیے ہوئے ہے ۔ اب تک سینکڑوں نہیں ہزاروں حریت پسند کشمیری نوجوانوں کو شہید کیا جاچکا مگر برہان وانی کی شہادت اس لحاظ سے منفرد رہی کہ اس کے نتیجے میں تحریک آزادی کشمیر کو نیا جوش اور ولولہ ملا۔ وہ کشمیری جو اب تک تحریک میں کھل کر سامنے نہیں آرہے تھے وہ بھی مجبور ہوئے کہ بھارتی استبداد کے سامنے سیہ پلائی دیوار بن جائیں۔ آج تحریک آزادی کشمیر مقبوضہ وادی کے کونے کونے میں پھیل چکی۔ کشمیری ہی نہیںدنیا کے غیر جانبدار حلقے بھی یہ کہنے پر مجبور ہیں کہ وادی میں جاری تحریک آزادی خالصتا مقامی ہے اور اسے کہیں سے بھی مدد نہیں مل پارہی۔
اس میں دوآراءنہیں اگر بھارتیہ جتنا پارٹی کی نئی دہلی میں حکومت نہ بنتی تو مقبوضہ کشمیر میں حریت جاری لہر اس شدت سے سامنے نہ آتی۔ سیاست کا ہر طالب علم جانتا ہے کہ جب جب کسی بھی پرامن تحریک کو
بندوق کے زور پر دبانے کی کوشش کی گی تو ردعمل میں نئی قوت پید ا ہوئی۔ نریندر مودی کا پس منظر گواہی دے رہا کہ انتہاپسند ہندو رہنما کسی طور پر اسلام اور مسلمان کو کوئی رعایت دینے پر آمادہ نہیں۔ بھارتی وزیراعظم کی اب تک کی کامیابیوں نے اسے یہی سبق پڑھایا ہے کہ پاکستان ،اسلام اور مسلمان کو کسی قسم کی کوئی رعایت نہ دی جائے۔ اکھنڈ بھارت کے فلسفے پر یقین رکھنے والے پرتشدد گروہ سے انصاف اور امن پسندی کی امید رکھنا خام خیالی ہے۔ بے جے پی نے مقبوضہ وادی کے مسائل کو حل کرنے کے لیے جس پرتشدد حکمت عملی کا سہارا لیا اس کا نتیجہ کشمیر میں جدوجہد آزادی میں تیزی کی شکل میں ہی نکلنا تھا۔ اہل کشمیر یہ تسلیم کرنے میں حق بجانب ہیں کہ آج اگر انھوں نے کھل کر بھارتی مظالم کی مذمت نہ کی تو ہمیشہ کے لیے انھیں اپنے حقوق سے دستبردار ہونا ہوگا۔آج اہل کشمیر اپنی بقا کی جنگ لڑ رہے جس کے لیے وہ اب ہر قربانی دینے کوتیار ہیں،یہ بتانے کی ضرورت نہیں ہونی چاہے کہ کسی بھی شخص کے لیے اس کی جان سے بڑھ کر کچھ قیمتی نہیں۔ مقبوضہ وادی میں اب تک لاکھوں کشمیری آزادی کے لیے اپنی جانوں کا ندازنہ پیش کرچکے، ہزاروں خواتین بے آبرو ہوچکیں ، کشمیر کی صورت حال کو چیخ چیخ کر بتارہی کہ وادی کے باسی آزادی سے کم کسی چیز پر راضی نہیں ہونے والے۔
درج بالا پس منظر میں یہ سوال اور بھی اہمیت اختیار کرجاتا ہے کہ تحریک آزادی کشمیر کے ان فیصلہ کن لمحات میں پاکستان کا کردار کس حد تک تسلی بخش ہے یعنی حزب اقتدار اور حزب اختلاف کس حد تک کشمریوں کا مقدمہ عالمی فورمز پر اجاگر کرنے میں کامیاب ہوئے۔افسوس کہ ساتھ اس حقیقت کو تسلیم کیے بغیر چارہ نہیں کہ تنازعہ کشمیر کے لیے ایک مربو ط اور متحرک پالیسی کا فقدان پایا جاتا ہے۔ وزیراعظم نوازشریف بارے میں عام تاثر یہی ہے کہ وہ بھارت کے ساتھ دوستانہ تعلقات کی بڑی سے بڑی قمیت دینے کو تیار ہیں۔ حالات کی سنگینی کا اندازہ یوں بھی لگایا جاسکتا ہے کہ تادم تحریر وزیراعظم پاکستان کی زبان سے کلبھوشن یادو کی کھل کر مذمت نہیںسنی گی۔ چند ماہ وزیراعظم کے مشیر برائے امور خارجہ قوم کو تسلی دیتے رہے کہ میاں نوازشریف جلد کلبھوشن یادو کے کرتوں کی مذمت کرینگے۔ مسلم لیگ ن کے مخالفین کا کہنا ہے کہ حکومت جس طرح دیگر شبعوں میں بدترین کارکردگی کی مرتب ہوئی ہے اسی طرح خارجہ امور میں بھی تاحال اسے کوئی بڑی کامیابی نہیں مل سکی۔ سی پیک کے علاوہ سرکار کے پاس بیچنے کے لیے کچھ بھی نہیں۔ پاک چین اقتصادی راہدادی منصوبہ بارے بھی خیال یہی ہے کہ خالصتا دوست ملک چین کا منصوبہ ہے جس پر پی پی پی کے دور حکومت میں خاطر خواہ پیش رفت ہوچکی تھی۔ مسلم لیگ ن ہمہ وقت سی پیک کی کامیابی کا ڈھونڈرا پیٹنے میں مصروف ہے مگر درحقیقت یہ منصوبہ کئی دہائیوںکے بعد عام پاکستانی کے لیے سودمند ثابت ہوسکتا ہے۔ حکمران جماعت کو زمینی حقائق کا ادراک کرنا ہوگا۔ مبقوضہ وادی سے اہل پاکستان کی جہاں جذباتی وابستگی ہے وہی سچ یہ بھی ہے کہ قائد اعظم کشمیر کو پاکستان کی شہ رگ قرار دے چکے جو کسی بھی صورت میں دشمن کے ہاتھ نہیں دی جاسکتی۔

Scroll To Top