یہ مگرمچھ ڈائنوسار سے بھی زیادہ خطرناک تھا!

cرازانا کے نوک دار دانتوں کی لمبائی 15 سینٹی میٹر تھی جو شکار کےلیے اس کا اہم ترین ہتھیار تھے۔ (فوٹو: نیچرل ہسٹری میوزیم، میلان)

میلان: اٹلی کے ماہرین نے بڑے مگرمچھ جیسے ایک قدیم جانورکی باقیات کا ایک بار پھر جائزہ لے کر بتایا ہے کہ شاید یہ اپنے زمانے میں زمین پر رہنے والا سب سے خونخوار جانور تھا جو ڈائنوسار تک کا شکار کیا کرتا تھا۔

چند سال پہلے مڈغاسکر سے ایک معدوم جانور کی کھوپڑی اور دانتوں کے رکازات (فوسلز) دریافت ہوئے تھے جسے Razanandrongobe sakalavae یا مختصراً ’’رازانا‘‘ کا نام دیا گیا۔ کھوپڑی کی باقیات اور دانتوں کی بنیاد پر اندازہ لگایا گیا کہ یہ جانور کسی بہت بڑے مگرمچھ جیسا رہا ہوگا جبکہ یہ آج سے 17 کروڑ سال پہلے موجودہ مڈغاسکر کے علاقے میں پایا جاتا تھا۔

مزید تخمینہ جات سے پتا چلتا ہے کہ رازانا کی جسامت 23 فٹ تک تھی اور اس کا وزن 1760 پاؤنڈ سے 2200 پاؤنڈ تک تھا، یعنی ہم اسے ہاتھی سے بھی بڑا مگرمچھ قرار دے سکتے ہیں۔

اب نیچرل ہسٹری میوزیم، میلان کے ماہرین نے رازانا کے دانتوں پر مزید باریک بینی سے تحقیق کے بعد بتایا ہے کہ ان کی مضبوطی اور نوک دار بناوٹ سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ گوشت خور تھا اور آج سے 17 کروڑ سال پہلے خشکی پر اسی کا راج تھا۔

اس کے نوک دار دانت 15 سینٹی میٹر لمبے تھے جو دیوقامت گوشت خور ڈائنوسار ’’ٹی ریکس‘‘ کے دانتوں سے مماثلت رکھتے ہیں جبکہ اس کی کھوپڑی آج کے مگرمچھ جیسی ہے۔ ان معلومات کو سامنے رکھتے ہوئے ماہرین نے اندازہ لگایا ہے کہ رازانا اگرچہ گوشت خور اور شکاری جانور تھا لیکن یہ ٹی ریکس کی طرح سامنے آ کر حملہ نہیں کرتا تھا بلکہ اونچی اونچی جھاڑیوں کی آڑ میں چھپ کر بیٹھا رہتا تھا اور موقعہ ملتے ہی اپنے شکار پر جھپٹ پڑتا تھا۔

اس تحقیق کی تفصیلات ریسرچ جرنل ’’پیئر جے‘‘ کے تازہ شمارے میں شائع ہوئی ہیں۔

Scroll To Top