چچڑی کے لعاب میں امراضِ قلب کا علاج؟

hچچڑی کے لعاب میں 3000 پروٹین ہوتے ہیں جن میں سے چند بہت مفید بھی ہیں۔ (فوٹو: فائل)

لندن: برطانوی ماہرین نے عام چچڑی کے لعاب میں پروٹین کی ایک ایسی قسم دریافت کر لی ہے جو دل کی مختلف بیماریوں کا علاج کرنے میں مددگار ثابت ہوسکتی ہے۔

پروٹین کی یہ قسم جسے ’’ایواسین‘‘ (evasin) کہا جاتا ہے، اس لحاظ سے اہمیت رکھتی ہے کیونکہ اسے استعمال کرتے ہوئے چچڑی کسی جانور کی کھال میں خارش اور جلن پیدا کیے بغیر اس کے ساتھ کئی دن تک مسلسل چپکی رہتی ہے۔

یہ تحقیق آکسفورڈ یونیورسٹی میں شومو بھٹاچاریا اور ان کے ساتھیوں نے انجام دی ہے اور اس کے نتائج ریسرچ جرنل ’’نیچر سائنٹفک رپورٹس‘‘ کے تازہ شمارے میں شائع ہوئے ہیں۔

اس رپورٹ سے معلوم ہوتا ہے کہ دل میں بعض مرتبہ مضر کیمیائی مرکبات اور وائرس کی وجہ سے ’’مایوکارڈیٹیس‘‘ نامی ایک کیفیت ظاہر ہوجاتی ہے جس سے دل اور متعلقہ رگوں کے پٹھوں میں سختی ہونے لگتی ہے اور تکلیف پیدا ہو جاتی ہے جس کا نتیجہ دل کے دورے اور دھڑکنیں اچانک رک جانے کی صورت میں نکل سکتا ہے اور یہ جان لیوا بھی ہو سکتا ہے۔

واضح رہے کہ چچڑی کے لعاب میں 3000 مختلف پروٹینز شامل ہوتے ہیں جن میں سے ایواسین کو شناخت کرنے میں خاصا وقت لگ گیا لیکن اب ماہرین کا کہنا ہے کہ پیٹری ڈش میں کیے گئے تجربات کے دوران ایواسین نے دل میں درد اور اینٹھن (پٹھوں میں سختی یا تکلیف) کی وجہ بننے والے خلیات کو ناکارہ بنا دیا اور امید ہے کہ انسانی تجربات میں بھی اس کی یہی خصوصیات سامنے آئیں گی۔

شومو بھٹاچاریا کہتی ہیں کہ مستقبل میں ایواسین پر مشتمل دوا سے دل کے مریضوں کے علاوہ رگوں میں اینٹھن اور اندرونی سوزش جیسی تکلیف دہ شکایات کا خاتمہ بھی کیا جاسکے گا۔

اب تک چچڑیوں کی شہرت صرف بیماریاں پھیلانے اور خون چوسنے تک تھی لیکن مذکورہ تحقیق سے ثابت ہوا ہے کہ قدرت نے مضر جانداروں تک میں ہمارے لیے بہت سے فوائد چھپا رکھے ہیں۔

Scroll To Top