اب مسلم لیگ ن عوام کے پاس جائیگی ؟

zaheer-babar-logoبظاہر جے آئی ٹی سپریم کورٹ کی جانب سے دی جانے والی 10جولائی کی ڈیڈ لائن کو زیادہ دن نہیں رہ گے۔ پانچ جولائی کو وزیراعظم نوازشریف کی صاحبزادی مریم نواز بھی کم وبیش دو گھنٹے تک جے آئی ٹی کے سوالات کا جواب دیتی رہیں۔مریم نوازکی آمد کے موقعہ پر عملا جوڈشیل اکیڈمی اور اس کے ملحقہ علاقوں میں سیکورٹی کے ایسے انتظامات کیے گے جون کسی طور پر شہریوں کے لیے سہولت کا باعث نہ تھے۔ سوشل میڈیا پر تو ایسی تصاویر اور وڈیوز بھی گردش کرتی رہیں جس میں اسلام آباد ایکسپریس وے کے زریعہ اسلام آباد آنے والے بھی شہری مشکلات کا شکار نظر آئے۔ کہنے کو وزیراعظم نوازشریف کی صاحبزادی کے پاس کوئی باضابطہ سرکاری عہدہ موجود نہیں مگر امور حکومت میں ان کی رائے کو نظرانداز کرنا کسی کے لیے بھی ممکن دیکھائی نہیں دیتا۔ زیادہ پرانی بات نہیں جب وزیراعظم نوازشریف بائی پاس کے لیے لندن کئی دن تک قیام پذیر رہے تو ان کی عدم موجودگی میں مریم نوازشریف ملکی وغیر ملکی شخصیات ملاقاتیں اعلانیہ ملاقاتیںکرتی رہیں۔ اس پس منظر میں جے آئی ٹی میں ان کی آمادہ بھی توقعات کے عین مطابق ثابت ہوئی ۔ وزیراعظم ہاوس سے وہ دس گاڈیوں کے قافلہ میں جوڈشیل اکیڈمی کی جانب روانہ ہوئیں جہاں اسلام آباد پولیس کی خاتون آفسیر نے مریم نوازکا زمین پر ان کا گرا قلم اٹھا کر پیش کرتے سیلوٹ سے استقبال کیا۔ ایک پاکستانی شہری اور سب سے بڑھ کر خاتون ہونے کی حثیثت سے مریم نوازکا احترام لازم ہے مگر جے آئی ٹی میں پیشگی کے موقعہ پر وفاقی وزراءاور دیگر سرکاری حکام کی جانب سے دیا جانے والا پروٹوکول کسی طور پر انصاف کے تقاضے پر پورا نہیں اترتا۔
اب اس میں کسی طور پر دو آراءنہیں کہ وزیراعظم نوازشریف کی سیاسی جانیشن مریم نواز ہی ہونگی لہذا مسلم لیگ ن کی وفاقی اور صوبائی قیادت برملا طور پر اس کا اعتراف کرنے میں ہرگز پس وپیش سے کام نہیں لی رہیں۔ جے آئی ٹی میں پیشی کے بعد وزیراعظم نوازشریف کی صاحبزادی نے بڑی حد پی ایم ایل این کی مسقبل کی سیاسی حکمت عملی بارے کھل کر اظہار خیال کیا۔ مریم نواز شریف کا کہنا تھا کہ اس وقت سے ڈرو جب نوازشریف عوام کے پاس جاکر ان رازوں پر سے پردہ اٹھا دیںگے جن کو ان کے سینے میں دفن ہیں۔ مریم نوازشریف کا یہ بھی کہنا تھا کہ ”ذاتی کاروبار پر نہ سوال کیا جاسکتا ہے اور نہ جواب دینا ضروری ہے۔ انھوں نے میڈیا کے سامنے یہ دلچیسپ انکشاف بھی کیا کہ جے آئی ٹی کے اراکین اس بات سے بھی آگاہ نہیں کہ ان پر الزامات کیا ہیں ؟۔ اپنے والد وزیراعظم نوازشریف ، بھائیوں حسن اور حسین سمیت حکمران جماعت کے دیگر اراکین کی طرح مریم نواز شریف بھی بین الاقوامی مالیاتی سیکنڈل پانامہ لیکس کو ”سازش “قرار دیتی رہیں۔
اس میں دو آراءنہیں کہ مملکت خداداد پاکستان میں طاقتور اور کمزور کے لیے الگ الگ قوانین ہیں۔ حقیقت تو یہ ہے کہ کمزور شخص کو اس قابل ہی نہیںسمجھا جاتا کہ اس کی داد رسی کی جائے۔ نظام انصاف ہوں یا سرکاری محکمہ عام شہریوں کی تذلیل آمیز سلوک ہرگز حیران کن نہیں رہا، یہی وجہ ہے کہ اب تک پورے وثوق سے کہا جاسکتا ہے کہ کوئی بھی بااثر شخص قانون کی گرفت میں نہیں آیا۔ مسلم لیگ ن کم وبیش 35سال سے ملکی سیاست میں متحرک ہے۔ میاں نوازشریف دو مرتبہ وزیراعلی پنجاب رہنے کے بعد اب تیسری مرتبہ وزرات عظمی کے منصب پر فائز ہیں ۔ عام تاثر یہی ہے کہ کئی دہائیوں سے ملک کے سب سے بڑے صوبے میں راج کرنے والی پی ایم ایل ایل این نے ہر اہم شعبہ میں اپنے حمایتوں کو اس انداز میں سمو دیا کہ وہ اس کے لیے آسانیان پیدا کرنے میںملوث پائے جاتے ہیں۔ ہوسکتا ہے کہ پانامہ لیکس میں وزیراعظم نوازشریف کے خلاف فیصلہ دینے والے سپریم کورٹ کے فاضل جج صاحب کے مدنظر یہی حقیقت ہو جس کے سبب انھوں نے اپنے فیصلوں میں گاڈ فادر جیسے الفاظ استمال کیے گے۔
ایک نقطہ نظر یہ ہے کہ تیسری دنیا سے تعلق رکھنے والے پاکستان سے یہ توقع رکھنا ہی خلاف حقیقت ہوگا کہ یہاں ایسی سیاسی قیادت قومی منظر نامہ پر آموجود ہو جس کے دل ودماغ میں صرف اور صرف ملک وملت کا مفاد ہی ہو۔ یہ بھی سمجھ لینا چاہے کہ جمہوریت ایک نظام کا نام ہے جس کے ثمرات اس کے تسلسل ہی وابستہ ہیں۔ اگر سسٹم چلتارہیگا تو یقینا اس کے نتیجے میں ایسے لوگوں کا ایوانوں میں پہنچ جانا ناممکنات میں سے نہیں جو حقیقی معنوں میں عوام کی خدمت کے جذبہ سے سرشار ہوں۔ سابق صدر پرویز مشرف کی رخصتی کے بعد پی پی پی حکومت کی بدترین کارکردگی ہی رہی جس نے بھٹو کی پارٹی کو آج اس نہج پر پہنچا دیا۔ بعض سیاسی مبصرین کے مطابق پاکستان مسلم لیگ ن کی اب تک کی چار سالہ کارکردگی بھی کسی طور پر قابل رشک نہیں۔ایک طرف لوڈشیڈنگ کے خاتمہ کی شکل میں عام آدمی کا دیرینہ مطالبہ پورا نہیں کیا جارہا تو دوسری طرف کسی بھی سرکاری محکمے کی کارکردگی بہتر نہ ہوئی۔ستم بالا ستم یہ ہے کہ پاکستانی جمہوریت بنیادی حکومتوںکے نظام سے تہی دامن ہے۔بیشترسیاسی ومذہبی جماعتیں صبح وشام جمہوریت کی دہائی دیتی ہیں مگر عملا عام آدمی کو لوکل باڈیز سسٹم کی شکل میں شریک اقتدار کرنے کو تیار نہیں۔ مریم نوازکی جانب سے مسلم لیگ ن کا عوام کے پاس جانے کا اشارہ خوش آئند مگر اس کا نتیجہ حکمران جماعت کے لیے کس حد تک بہتر ثابت ہوگا کچھ کہنا مشکل ہے۔

Scroll To Top