بات نوٹس لینے کی 12-08-2011

kal-ki-baatہمارے پاکستان نے شاید ہر شعبے میں ” ترقیءمعکوس “ کرنے کا تہیہ کررکھاہے مگر ایک شعبہ ایسا ہے جس میں ہمارے لیڈر شب و روز کامیابی کے جھنڈے گاڑتے نظر آتے ہیں۔
یہاں ایک روایت ` ایک عادت اور ایک کلچر نے جتنی کامیابی کے ساتھ جس قدر گہری جڑیں پکڑی ہیں وہ اپنی مثال آپ ہے۔
ہماری قومی قیادت نوٹس لینے کے فن میں کمال حاصل کرتی نظر آرہی ہے۔
اس بات کی تازہ ترین مثال اخبارات میں شائع ہونے والی یہ شہ سرخی ہے کہ ” وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی نے غیر علانیہ لوڈشیڈنگ کا نوٹس لے لیا ہے۔“
یہ وہ نوٹس ہے جو وہ ماضی میں بھی کئی بار لے چکے ہیں۔
کچھ عرصہ پہلے تک نوٹس لینے کا کام صرف صدرِ مملکت اور ان کے وزیراعظم نے سنبھال رکھا تھا ` اب وزراءصاحبان بھی تواتر کے ساتھ نوٹس لینے لگے ہیں۔ بالخصوص رحمان ملک صاحب نے تو نوٹس لینے کے فن کو ” کمال “ تک پہنچا دیا ہے ۔
کہیں گولی چلتی ہے تو وہ نوٹس لے لیتے ہیں ۔ اور کراچی میں تو اس قدر کثرت کے ساتھ گولیاں چلتی ہیں کہ رحمان ملک صاحب کو سانس تک لینے کی فرصت نہیں ملتی اور وہ ” نوٹس در نوٹس “ لیتے چلے جاتے ہیں۔
کہیں کوئی ظلم کی کہانی سامنے آتی ہے تو صدر زرداری نوٹس لے لیتے ہیں۔ یہ اور بات ہے کہ وہ صرف اس کہانی کا نوٹس لیتے ہیں جو ان کے مشیرانِ کرام ان کے علم میں لاتے ہیں۔
مجھ سے کسی دل جلے نے پوچھا ” ملک اقتصادی بدحالی اور بدامنی و لاقانونیت کے آخری کنارے تک پہنچ چکاہے اس کانوٹس کوئی کیوں نہیں لے رہا ۔ ؟“
” اس کانوٹس زرداری صاحب اور گیلانی صاحب اس لئے نہیں لے پا رہے کہ حکومت ان کی اپنی ہے ۔دوسرا کوئی ہے نہیں جو نوٹس لے ۔ “ میں نے مسکرا کر جواب دیا۔ وہ تلملا کر بولے۔
” ہے کیوں نہیں ؟ کیا باقی سارے ادارے اور ان کے کرتادھرتا فوت ہوچکے ہیں ؟ “
میں اس بات کا کیا جواب دیتا ؟

Scroll To Top