ہور چُوپ !

aaj-ki-baat-new-21-aprilشکر ہے تیرا میرے رب۔۔۔
کہ تُو نے خاندان شریف کو خاندانِ سعود کی طرح بے انداز شہزادوں اور شہزادیوں سے نہیں نوازا۔۔۔عالی جاہ کی آل اولاد صرف چَار نفوس پر مشتمل ہے۔۔۔ قوم پر صرف دو شہزادوں اور دو شہزادیوں کی بے پایاں حسرتوں اور امنگوں کا بوجھ لدا ہوا ہے۔۔ ۔ اگر یہ تعداد آٹھ یا دس ہوتی تو صرف شاہی خاندان کو پروٹول دینے کے لئے پانچ دس ہزار محافظوں کی الگ فورس قائم کرنی پڑتی جس کے اخراجات شہنشاہ معظم کی منظورِ نظر ماروی میمن کی سربراہی میں اربوں کا سرمایہ ”مستحقین“ میں تقسیم کرنے والے ” بے نظیر انکم سپورٹ“ پروگرام سے کم نہ ہوتے۔۔۔
سپریم کورٹ کی قائم کردہ جے آئی ٹی کے سامنے پیش ہونے والے ” شاہی نامزد گان“ کو جس قسم کا پروٹول `سکیورٹی کے نام پر دیا جارہا ہے اس پر سعودی عرب کے بڑے بڑے شہزادوں کی اکثریت بھی رشک کئے بغیر نہیں رہے گی۔۔۔
شہر کیوں بند ہے ؟ سوال اٹھتا ہے۔۔۔
جواب ملتا ہے۔۔۔ ” یہاں سے کراﺅن پرنسس کی سواری گزرے گی۔۔۔“
” کیا سواری پورے شہر سے گزرے گی ؟ سوال اٹھے بغیر نہیں رہتا۔۔۔
جواب ملتا ہے ۔۔۔”شہر تو معمولی بات ہے پورا ملک شہزادی معظمہ کے جاہ و جلال کو سلام کرنے کے لئے بنا ہے۔۔۔ یقین نہیں آتا تو ملک بھر میں لگے ان پوسٹروں پر نظر دوڑاﺅ جن میں قوم نے کراﺅن پرنسس کے اقبال کے بلند سے بلند تر ہوتے چلے جانے کی دعائیں مانگی ہیں۔۔۔“
لگتا ہے کہ یہ قوم وجود میں ہی دعائیں مانگنے کے لئے آئی ہے۔۔۔
کروڑوں ہاتھ روزانہ اس دعا کے لئے اٹھتے ہیں کہ ”یا رب یا تو ہمیں آدابِ غلامی سکھا دے یا ہمیں غلام بنا کر رکھنے والوں کے لمبے لمبے ہاتھوں سے نجات دلا۔۔۔“
اور بہت سارے ہاتھ ایسے پوسٹر چھپوانے والوں کے بھی اٹھتے ہیں جن میں شاہی خاندان کے ایک ایک فرد کی درازی ءعمر کی دعائیں مانگی جاتی ہیں۔۔۔ اور یہ وہ بندھے ہوئے مودبانہ ہاتھ ہیں جنہیں ” با ادب با ملاخطہ ہو شیار “ رہنے کا معاوضہ باقاعدگی سے ملتا رہتا ہے۔۔۔
چار جولائی کا دن شہنشاہ معظم نے چیمپنز ٹرافی جیتنے والے کرکٹرز کی معیت میں اپنی نا آسودہ خواہشات کا ذکر کرتے گزارا جن کا تعلق کرکٹ کے کھیل سے ہے۔۔۔ مجھے یاد ہے کہ جب میں ” بالکل ہی لڑکا“ ہوا کرتا تھا تو سوتے جاگتے خوابوں میں مجھے بھی لنڈسر وغیرہ کے باﺅنسروں پر چھکے لگانے میں بڑا مزہ آتا تھا۔۔۔
میرے خیال میں تیرہ چودہ برس کی عمر تک پہنچتے پہنچتے میں نے ہزار ہا چھکے لگا ڈالے ہوں گے ۔۔۔
لیکن آنکھ کھلی تو میں کسی خود ساختہ شاہی خاندان کا حقیر سا فرد بھی نہیں تھا کہ وزارت عظمیٰ کے خواب دیکھنا شروع کردیتا ۔۔۔
اِس ساری کہانی سے جو بات ثابت ہوتی ہے وہ یہ ہے کہ دولت آدمی کو ڈان بریڈمین یا محمد رفیع بنا سکے یا نہ بنا سکے۔۔۔ وزیراعظم ضرور بنا سکتی ہے۔۔۔
آج مجھے 1991 ءکے آغاز والی سردیوں کی وہ صبح شدت سے یاد آرہی ہے جب مجھے جناب شعیب ہاشمی کا فون آیا تھا۔۔۔
” اوئے تُو نے ہی1984ءمیں نوازشریف سے کہا تھا کہ میاں صاحب دس کروڑ خرچ کریں ہم ایڈورٹائزنگ کی قوت سے آپ کو وزیراعظم بنا سکتے ہیں ۔۔۔؟“
” ہاںکہا تھا۔۔۔ “ میں نے جواب دیا تھا ۔۔۔
” تیری زبان کالی ۔۔۔۔۔وہ وزیراعظم بن گیا ہے۔۔۔۔۔۔ ہور چُوپ۔۔۔“

Scroll To Top