بھارت اسرائیل گٹھ جوڑ تشویشناک

zaheer-babar-logoبھارتی وزیراعظم کا دورہ اسرائیل بجا طور پر ایسی پیش رفت ہے جس پر پاکستان کے نقطہ نظر سے غور وفکر کرنا لازم ہے،ادھر اسرائیل جاکر نریندرمودی پہلے بھارتی وزیراعظم بن چکے جنھوں نے باضابطہ طورپر اسرائیل کا دور ہ کیا۔ اعداد وشمار کے اعتبار سے بھارت اور اسرائیل میں سفارتی تعلقات 1992میں قائم ہوئے مگر حقیقی قربت میں بھارتیہ جتنا پارٹی کے دور حکومت میں نظر آئی، 1999کارگل کی جنگ کے دوران بھارت اور اسرائیل کے تعلقات میں گرم جوشی دیکھنے کو ملی۔ بتایا گیا کہ ان دنوں اسرائیل نے بھارت کو گولہ بارود بھیجنے میں خاطر خواہ مدد کی۔حقیقت یہ ہے کہ بھارت طویل عرصہ تک تنازعہ فسلطین کا حامی رہا ہے جس کے سبب اس نے دانستہ طور پر اسرائیل سے اپنا فاصلہ برقرار رکھا۔بظاہر اس کی وجہ یہ بھی رہی کہ بھارت کو خدشہ تھا کہ کہیں اسرائیل سے اس کے قریبی تعلقات اس کے عرب دوستوں کو ناراض نہ کردیں مگر شائد اب زمینی حقائق بدل چکے۔ حالیہ سالوں میں بھارت تیزی سے اسرائیل کے قریب آیا جو اس کی بدلی ہوئی خارجہ پالیسی کا برملا ثبوت ہے۔مبصرین کے خیال میں ایک وجہ یہ بھی ہے کہ نئی دہلی میں کانگریس نہیں بھارتیہ جتنا پارٹی کی حکومت ہے جو اسلام ، مسلمان اور پاکستان سے نفرت کی بنیاد پر ووٹ لینے پر یقین رکھتی ہے۔ ماضی میں اسرائیل کو مسلم ممالک کی اکثریت جس نگاہ سے دیکھتی ہے وہ کوئی راز نہیں، مگر حالیہ سالوں میں اسرائیل کے مصر اور اردن جیسے مسلم ممالک سے تعلقات قائم ہوئے ہیں، حد تو ہوئی کہ اب اعلی سعودی شخصیت کے اسرائیل کے خفیہ دورے کی اطلاع سامنے آچکی، دراصل یہی وہ حالات ہیں جنھوں نے مودی کو حوصلہ دیا کہ وہ کسی بھی دباو کو خاطر میں نہ لاتے ہوئے اسرائیل کا دورہ کرڈالے۔ قبل ازیں بھارت خواہش کے باوجود اسرائیل سے قریبی تعلقات قائم کرنے میں پس وپیش سے کام لیتی رہا، وجہ تنازعہ فلسطین کے سبب عرب دنیا کی ناراضگی کا ڈر اور بھارتی مسلمانوں کے جذبات کا احساس بتایا جاتا رہا۔ اسرائیل اور بھارت کے درمیان بڑھتے ہوئے تعلقات پر تبصرہ کرتے ہوئے معررف بھارتی اخبار کے مطابق مودی کا دورہ اسرائیل دونوں ملکوں کا ”روایتی تعلقات سے باہر نکلنے کا باضابطہ اعلان ہے “۔
نریندری مودی کے دورہ اسرائیل خاص بات یہ رہی کہ دنیا کے دیگر سربراہان مملکت کے باعث بھارتی وزیراعظم فلسطینی اتھارٹی کے غیر اعلانیہ درالحکومت رملہ نہ گے۔ بھارتی وزیراعظم سوشل میڈیا پر اپنے دورے اسرائیل کے پس منظر میں کہہ چکے کہ وہ اسرائیلی وزیراعظم نتن یاہو سے وسیع البنیاد مذاکرت کریں گے اور دونون کے درمیان دہشت گردی جیسے مشترکہ موضوعات زیر بحث آئیں گے۔“
مودی کے دورہ اسرائیل میں دنوں ملکوں میں سیکورٹی اور اقتصادی تعلقات کو مذید بہتر بنانے کے لیے کئی معاہدوں پر دستخط ہونے کی توقع ہے۔ مثلا دفاع، سیکورٹی ، زراعت، تجارت اور پانی کے انتظامات جیسے معاملات سرفہرست رہیں گے۔ یہ زکر کرنا بھی اہم ہے کہ اسرائیل میں کم وبیش پانچ ہزار بھارتی مقیم ہیں جن سے نریندر مودی کے خطاب کی توقع کی جارہی۔
وطن عزیز زمہ دار حلقوں کو بھارتی وزیراعظم کے دورے اسرائیل پر آنکھیں کھلی رکھنے کی ضرورت ہے،ایسے میں جب عرب دنیا کے حکمران طبقہ میں اسرائیل کے لیے مخاصمت میں کمی آرہی پاکستان کو چوکنا رہنا ہوگا۔ بلاشبہ اسے مودی کی کامیاب سفارت کاری کہنا مناسب ہے کہ ایک طرف اس کے امریکی صدر ٹرمپ کے ساتھ گرم جوش تعلقات دیکھنے کو مل رہے تودوسری جانب اسرائیل میں اس کا پرتپاک استقبال کیا گیا۔ بھارت کی پاکستان دشمنی کسی سے ڈھکی چھپی نہیں۔ بدقسمتی سے بھارتیہ جتنا پارٹی کے حالیہ دورے اقتدار میں دونوں ملکوں میں پائی جانے والی کشدیگی میں اضافہ ہوا ، مودی سرکار پاکستان اور کشمیر دونوں بارے طاقت کے استمال پر یقین رکھتی ہے۔ بھارتی وزیراعظم جس انداز میں اپنی انتخابی مہم میں پاکستان کے خلاف دھکمی آمیز رویہ اختیار کرتے رہے اب حکومت میں آنے کے بعد اسی تعصب سے پر پالیسی پر گامزن ہے۔ افسوس صد افسوس کہ دو ایمٹی قوتوں کے درمیان پائی جانے والی مسلسل کشیدگی عالمی اداروں کو اپنی زمہ داریوںکا احساس دلانے پر مجبور نہیں کرسکی۔
ٹھیک کہا جاتا ہے کہ بین الاقوامی تعلقات میں اخلاقیات کا کچھ لینا دینا نہیں۔ جس کی لاٹھی اس کی بھینس کو عملا سچ ثابت کرتے ہوئے طاقتور ممالک عملا اپنے مفادات کے اسیر ہیں، اس پس منظر میں مسلم دنیا جن بحرانوں کا شکار ہے بدلے ہوئے حالات کے تناظر میں یہ امید خوش فہمی کے سوا کچھ نہیں کہ مسقبل قریب میں مسائل پر قابو پالیا جائے۔ بھارت کی اسرائیل بارے پالیسی میں تبدیلی اس تاثر پر مہر تصدیق ثبت کررہی کہ آنے والے دنوں میں مشرق وسطی میں بالخصوص اور عالمی سطح پر بالعموم اسرائیل کا کردار بڑھے گا۔ عراق، شام اور لیبیا کی صورت حال نے عملا مسلم اشرافیہ کو خوف ذدہ کردیا ۔ نسل درنسل چلے آنے والے بادشاہ یہ سوچنے پر مجبور ہو چکے کہ ان کا اقتدار صرف اسی صورت قائم و دوائم رہ سکتا ہے جب وہ امریکی خوشنودی کے سامنے سر تسلیم خم کریں،ا دھر امریکہ مسلم ریاستوںکے باہمی تنازعات کو ہوا دے کر نت نئے بحران پیدا کررہا،حال ہی میں سعودی عرب اور قطر کے درمیان تنازعہ اس کی تازہ مثال ہے۔ اگر یہ درست ہے کہ طاقتور اسرائیلی لابی اہم امریکی فیصلوں کی پشت پر ہے تو پھر امریکہ ، اسرائیل اور بھارتی گٹھ جوڈ پاکستان کے لیے یقینا تشویش کا باعث ہونا چاہے۔

Scroll To Top