قومی سلامتی سے متعلق خبر: ’ذمہ داروں کے خلاف کارروائی ہوگی‘

نواز شریف اور راحیل شریف (فائل فوٹو)

وزیر اعظم پاکستان محمد نواز شریف نے چند روز قبل قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس میں ہونے والی گفتگو کے حوالے سے شائع ہونے والی خبر کا نوٹس لیتے ہوئے کہا ہے کہ اس کے ذمہ داران کے خلاف سخت کارروائی کرنے کے لیے ان کی نشاندہی کی جائے۔

وزیراعظم ہاؤس سے پیر کو جاری ہونے ایک بیان میں کہا گیا کہ جنرل راحیل شریف نے آئی ایس آئی کے سربراہ جنرل رضوان اختر کے ہمراہ محمد نواز شریف سے ملاقات کی۔

 

اس ملاقات میں وزیر خزانہ اسحاق ڈار، وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان اور وزیر اعلیٰ پنجاب شہباز شریف بھی موجود تھے۔

وزیر اعظم ہاؤس کے پریس آفس کی طرف سے سول اور فوجی قیادت کے درمیان ہونے والی ملاقات کے بارے میں جو بیان جاری کیا گیا اس میں گذشتہ ہفتے ملک کے مقتدر ترین اخبار ڈان میں ذرائع کے حوالے سے شائع ہونے والی خبر کو من گھڑت قرار دیتے ہوئےاس پر شدید تشویش کا اظہار کیا گیا۔

بیان میں کہا گیا کہ اجلاس کے شرکاء اس بات پر مکمل طور پر متفق تھے کہ یہ خبر قومی سلامتی کے امور کے بارے میں رپورٹنگ کے مسلمہ اصولوں کی کھلی خلاف ورزی ہے۔

بیان میں مزید کہا گیا کہ اس غلط اور گمراہ کن مواد جس کا قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس میں ہونے والی گفتگو سے کوئی تعلق نہیں تھا کی اشاعت سے قومی مفاد کو خطرہ لاحق ہوا ہے۔

پی ایم ہاؤسImage 
Iملاقات میں وزیر خزانہ اسحاق ڈار، وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان اور وزیر اعلیٰ پنجاب شہباز شریف بھی موجود تھے

اجلاس کے شرکا نے اس بات پر بھی اتفاق کیا کہ قومی پریس کو قومی سلامتی اور ملکی مفاد سے تعلق رکھنے والے امور پر قیاس آرائیوں اور مفروضے پر مبنی خبروں کی اشاعت سے اجتناب کرنا چاہیے۔

بیان کے آخر میں کہا گیا کہ وزیر اعظم نے اس کا سختی سے نوٹس لیتے ہوئے کہا کہ اس کے ذمہ داران کے خلاف سخت کارروائی کرنے کے لیے ان کی نشاندھی کی جائے۔

اسلام آباد میں نامہ نگار شہزاد ملک کے مطابق وزیر اعظم ہاؤس کی طرف سے جاری ہونے والے بیان میں میاں نواز شریف نے ہدایت کی ہے کہ اس خبر کے ذمہ داروں کا سراغ لگا کر اُن کے خلاف سخت کارروائی عمل میں لائی جائے تاہم اس بیان سے یہ واضح نہیں ہے کہ یہ ہدایات سرکاری اہلکاروں کے لیے ہیں جنھوں نے یہ معلومات لیک کی تھیں یا جس صحافی نے یہ خبر دی تھی۔

Scroll To Top