انسانی جان کی حرمت ناپید کیوں

zaheer-babar-logoپاکستانیوں کے بہتے لہو پر مبنی رونما ہونے والے واقعات کو بھلانا مشکل ہورہا۔ احمدپور شرقیہ، پاراچنار اور کراچی میں جس طرح سینکڑوں شہری زندگی کی بازی ہار گے وہ ہر باضمیر شہری کا دل ہلا دینے کے لیے بہت کافی ہے۔ بہاولپور میں مفت پیڑول حاصل کرنے کی کوشش میں مرد وزن اپنی زندگیوں سے محروم ہوگے تو پارا چنار میں عید کی خریداری کرتے پاکستانی قتل وغارت گری کا نشانہ بنے۔ یقینا اس سوال کو جواب وفاقی اور صوبائی حکومتوں کو دینا ہوگا کہ اہل وطن کی جان آج اس قدر ارزاں کیونکر ہوگی۔
قبائلی علاقے میں دور اور نزدیک کے دشمن نے اپنے مذموم منصوبہ پر پوری منصوبہ مندی اور سوچ وبچار کے عمل کیا۔ ایک ہی مسلک کے لوگوں کو ایک ہی علاقے میں بار بار نشانہ بنانا بدخواہوں کی اس مکروہ سازش کا پتہ دے رہا جو کئی دہائیوں سے جاری وساری ہے۔ نہیں بھولنا چاہے کہ سیاست کا آزمودہ فارمولہ ہے تقسیم کرو اور حکومت کرو۔ آج اگر مغرب مسلم معاشروں کو باہم متصادم رکھنے کے درپے ہے تو مسلم حکمران بھی دانستہ یا غیر دانستہ طور پر اس گھناونے منصوبہ کا حصہ بن چکے۔ شام ، عراق ، لیبیا، افغانستان اور یمن میں آنے والی تباہی کا الزام صرف اور صرف ”یہود ہنود“ کے سر نہیں تھوپا جاسکتا ۔ مشرق وسطی کی بدلتی صورت حال متقاضی ہے کہ فوری طور پر اپنے ہاں معاملات کو درست کیا جائے۔ مقام شکر ہے کہ تادم تحریر مسلک اور فقہ کی بنیاد پر پاکستانی سماج کو ایک دوسرے کے خلاف استمال نہیں کیا جاسکا۔ ہر باخبر پاکستانی باخوبی آگاہ ہے کہ بعض مسلم ممالک اپنے حمایتی گروہوں کی اس انداز میں سرپرستی کررہے کہ اس کے نتیجے ارض وطن آگ وخون کا منظر پیش رہی ہے ۔ معاملہ کا حوصلہ افزاءپہلو یہ ہے کہ پاکستانیوں کی اکثریت کسی کا بھی غیر ملکی قوت کا آلہ کار بنے کی بجائے خالصتا ملک کے مفادات کو عزیز تر سمجھتی ہے۔ کسی بھی سماج میں بھی کالی بھیڑوں کی موجودگی سے صرف نظر نہیں کیا جاسکتا۔ہمارے ہاں بھی میر جعفر اور میرصادق موجود ہیں مگر وہ کسی طور اکثریت کے نمائندے نہیں۔
پاکستانی قوم کو یہ داد نہ دینا زیادتی ہوگی کہ وہ ستر سال گزرنے کے باوصف وہ لسانی ،سیاسی اور مذہبی بنیادوں پر کبھی دست وگربیاں نہیں ہوئی۔ مشرق پاکستان کی مثال دینے والوں کو نہیں بھولنا چاہے کہ اس ملک کے حصہ بکھرے کرنے میں جہاں ہزاروں میل کا فاصلہ آڈے آیا وہی ہمارے حکمران طبقہ نے زبردستی اپنے ہی مملکت کو الگ کرنے کی کامیاب سازش کی۔ اس کے برعکس آج بلوچستان ، سندھ ، خبیر پختوانخواہ اور کراچی میں لسانی بنیادوں پر سیاست کرنے والے ماضی کا حصہ بن چکے۔ خبیر تا کراچی کوئی ایک بھی لسانی اور مذہبی قوت ایسی نہیں جو فیصلہ کن سیاسی حمایت رکھتی ہوئے ملکی وحدت کے لیے خطرہ بن گی ہو۔
یقینا اندر اور باہر موجود دشمن ماضی میں کامیاب نہیں ہوا تو مسقبل قریب میں بھی اس کی فتح کا امکان نہیں۔ گزرے ماہ وسال کے برعکس آج پاکستانیوں کا سیاسی شعور بہتری کی جانب گامزن ہے۔ ایسے افراد اور گروہ باخوبی پہچانے جاچکے جو دوسروں کے اشاروں پر یہاں بدامنی پھیلانے کے مرتکب ہورہے۔ برطانوی شہریت کا حامل ایم کیوایم بانی آج عبرت کی جیتی جاگتی مثال ہے۔ ایک فون کال پر پورے کراچی کو بند کردینے والا شخص آج گمنامی کے اندھیروں میں ڈوب چکا۔ کبھی بلوچستان میں نام نہاد قوم پرستوں کو کوئی چیلنج کرنے والا نہ تھا مگر اب ان کا کردار کبھی کبھار اکا دکا معصوم اور نہتے شہریوں کو شہید کرنے تک رہ گیا ۔
بلاشبہ یہ سب علامات اس بدلے ہوئے پاکستان کی ہیں جس کا کم وبیش پندرہ سال قبل کوئی وجود نہ تھا ۔ الیکڑانک اور سوشل میڈیا کی بدولت سچ چھپانا بڑی حد تک ممکن نہیں رہا۔ جو کوئی جیسا ہے ویسا ہی دکھائی دے رہا۔ اگرسیاست دان ہے خود کو کٹہرے میں کھڑا محسوس کرتے ہیں تو اہل مذہب، نظام عدل، عسکری حکام ، میڈیا ، بیوروکریسی کسی کو بھی استثناءحاصل نہیں رہا۔ بلاشبہ دہشت گردی سے پاک ملک ہی پاکستانیوں کا مقدر ہے۔ آج نہیں تو کل وہ وقت دور نہیںجب خبیر تا کراچی قوم کو امن نصیب ہو۔ اس میں بھی کسی کو شک نہیں کہ مملکت خداداد پاکستان کا مسقبل جمہوریت سے وابستہ ہے مگر موجودہ سیاسی جماعتوں کو بدلنا ہوگا یعنی سیاست انفرادی اور گروہی مفادات کے حصول کا آلہ کار سمجھنے کی بجائے عوام کی خدمت کا زریعہ بنانا ہوگا۔
سانحہ احمد پور شرقیہ محض المناک واقعہ میں کئی سبق پوشیدہ ہیں۔ درجنوں دیہاتیوں نے کیونکر ایک دو لیڑ پیڑول کے لیے اپنی زندگیاں داو پر لگائیں اس پر سوچ وبچار کرنا ہوگی۔ سوال ہے کہ کہیں ایسا تو نہیں کہ امیر وغریب اور عام وخاص میں دوسروں کے مال پر ہاتھ صاف کرنے کا مرض لاحق ہوچکا۔ یہ خیال بھی موجود ہو سکتا ہے کہ جب آج تک کروڈوں اربوں روپے لوٹنے والا پکڑ میں نہیں آیا تو ہم کیونکر گرفت میں آئیںگے۔ ادھر ہزاروں لیڑ پیڑول لے جانے والے ٹینکر بارے نت نئی خبریں سامنے آنے کا سلسلہ جاری وساری ہے۔ ایک طرف آئل ٹینکر ڈرائیور کی غفلت بتائی گی تو دوسری جانب آئل کمپنی کا طے شدہ اصولوں پر عمل درآمد نہ ہونے کی شکایات بھی سامنے چکیں۔ معلوم ہوچکا کہ جائے حادثہ سے عام شہریوں کو دور رکھنے کے لیے جہاں موٹروے پولیس نے لاپرواہی برتی وہی ایس ایچ او اور ڈپٹی کمشنر بھی بروقت نہ پہنچ سکے۔

Scroll To Top