اگر آدمی کے ذہن میں جھوٹ کو رجسٹر کرنے والا کوئی میکینزم ہوتا۔۔۔!

aaj-ki-baat-new-21-aprilکسی نے شراب کو ام الخبائث بنا دیا تو کسی نے جوئے کو۔۔۔ ہربرائی۔۔۔ ہر بدی اپنی جگہ عظیم ہوا کرتی ہے اور اپنے اپنے انداز میں آدمی سے کوئی نہ کوئی خراج ضرور وصول کرتی ہے۔۔۔ مگر میں سمجھتا ہوں کہ ام الخبائث ہونے کا امتیاز صر ف جھوٹ کو دیاجانا چاہئے۔۔۔
یہ وہ برائی ہے جس کی کوکھ سے ہر برائی جنم لیتی ہے۔۔۔ آدمی جب پہلا جھوٹ بولتا ہے تو وہ درحقیقت اپنی پوری زندگی جھوٹ کی نہ ختم ہونے والی شاہراہ پر ڈال دیتا ہے۔۔۔
ایک جھوٹ پر پردہ ڈالنے کے لئے دوسرا جھوٹ بولنا پڑتا ہے۔۔۔ اور دوسرے جھوٹ کو سہارا دینے کے لئے تیسرے جھوٹ کا سہارا لینا ناگزیر ہوجاتا ہے۔۔۔ جھوٹ بولنے والے شخص کو یہ بھی یاد نہیں رہتا کہ اس نے اپنا آخری سچ کب بولا تھا۔۔۔ اور ستم ظریفی کی بات یہ ہے کہ اسے اپنے بولے ہوئے سچ کی صداقت پر خود بھی یقین نہیں ہوتا۔۔۔ اس کے دل میں کہیں نہ کہیں یہ شبہ ضرور ہوتا ہے کہ اس نے جو بات سچ سمجھ کر کہی ہے اس میں بھی کہیں نہ کہیں جھوٹ کی ملاوٹ ضرور ہوگی۔۔۔
جھوٹ دراصل اس کا مذہب بن چکا ہوتا ہے۔۔۔ اور جھوٹ بولنا اس کے نزدیک عقیدے کا درجہ اختیار کر جاتا ہے۔۔۔
ہمارے دینی اکابرین اس بات پر متفق ہیں کہ حلال اور حرام میں بنیادی فرق سچ اور جھوٹ کا ہوتا ہے۔۔۔ جس رزق کے بارے میں آدمی کو جھوٹ نہ بولنا پڑے وہ حلال ہی ہوتاہے۔۔۔اور جس دولت کے بارے میں آدمی کو جھوٹ کا سہارا لینا پڑے وہ حرام ہوا کرتی ہے۔۔۔
یہ جو پامانا کیس ہے یہ درحقیقت سچ اور جھوٹ کے تصادم کی ہی کہانی ہے۔۔۔ اس کہانی کا جائزہ غور سے لینے والوں کی سمجھ میں ایک بات ضرور آگئی ہوگی کہ آدمی کا حافظہ جھوٹ کو سو فیصد کامیابی سے رجسٹر نہیں کرتا۔۔۔ کہیں نہ کہیں فائل کرپٹ ہوجاتی ہے۔۔۔ کہیں نہ کہیں منہ سے بے اختیار نکل جاتا ہے۔۔۔ ” الحمدللہ۔۔۔ سب کچھ ہمارا ہی ہے۔۔۔ ہم نے ہی خریدا ہے۔۔۔“
اگرآدمی کے دماغ میں جھوٹ رجسٹر کرنے والا کوئی میکینزم ہوتا تو آج شریف خاندان کے اتنے سارے باعزت نفوس کو جے آئی ٹی کے سامنے پیش نہ ہونا پڑتا۔۔۔

Scroll To Top