دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے تنازعات اور سماجی پسماندگی کا خاتمہ ناگزیر ہے، پاکستان

نیویارک: اقوام متحدہ میں پاکستان کی مستقل مندوب ملیحہ لودھی کا کہنا ہے کہ پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف کثیر الجہتی حکمت عملی اپنا رکھی ہے تاہم دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے تنازعات، سیاسی، معاشی اور سماجی پسماندگی کا خاتمہ بھی ناگزیر ہے۔

بین الاقوامی دہشت گردی کے خاتمے کے لئے اقدامات پر اقوام متحدہ میں مباحثہ کے دوران اقوام متحدہ میں پاکستان کی مستقل مندوب ملیحہ لودھی کا کہنا ہے تھا پاکستان دہشت گردوں کے خلاف فوجی کارروائی اور جامع نیشنل ایکشن پلان پر عمل پیرا ہے، پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف کثیر الجہتی حکمت عملی اپنا رکھی ہے تاہم دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے تنازعات، سیاسی، معاشی اور سماجی پسماندگی کا خاتمہ بھی ناگزیر ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ نقصانات سے دہشت گردی کے خلاف لڑنے کا ہمارا عزم متزلزل نہیں ہوا لہذا ملک سے دہشت گردوں کے خاتمہ تک جنگ جاری رکھیں گے جب کہ پاکستان بیرون ملک سے اسپانسرڈ دہشت گردی کا شکاررہا ہے۔

ملیحہ لودھی نے مغرب میں اسلام فوبیا کو ہوا دینے والوں پر کڑی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ جان بوجھ کر نفرت پھیلانے والوں کے خلاف کارروائی کیوں نہیں کی جا رہی جب کہ دنیا متفق ہے کہ دہشت گردی کو کسی مذہب کے ساتھ منسلک نہیں کیا جا سکتا لیکن مغرب میں انتہائی دائیں بازو کی جماعتوں اسلام فوبیا کو ہوا دے کر سیاسی فائدہ حاصل کررہی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ دہشت گردی کا پھیلاؤ روکنے کےلیے دیرینہ تنازعات کے حل کی ضرورت ہے لیکن عالمی برادری دہشت گردی کی وجوہات بننے والے عوامل پر توجہ نہیں دے رہی، دنیا سخت اقدامات کے باوجود دہشت گردی کو شکست نہیں دے پا رہی.

مباحثے میں مقبوضہ کشمیر کی صورتحال پر اظہار خیال کرتے ہوئے ملیحہ لودھی نے کہا کہ کشمیری عوام پر بھارتی مظالم ریاستی دہشت گردی ہے جب کہ اس مسئلے پر اقوام متحدہ کے چارٹر کی خلاف ورزیوں کو نظر انداز نہیں کیا جانا چاہیے۔

Scroll To Top