ساتویں صدی سے بیسویں صدی تک 08-08-2011

aaj-ki-baat-new-21-april
تاریخ درحقیقت ایسی قیادتوں کی داستانوں کا سلسلہ ہے جنہوں نے قوموں کی تقدیر تبدیل کرڈالی اور انسانی تہذیب کو نئی جہتوں سے روشناس کرایا۔
اگر دور ِحاضر کو ہی سامنے رکھاجائے اور دور ِحاضر کو ہم بیسویں صدی تک محدود رکھیں تو جن شخصیات یا قیادتوں کی بدولت مختلف اقوام کو بالخصوص اور پوری دنیا کو بالعمول نئے موڑ ملے اور نئی منزلیں میسر آئیں ان سے ہر صاحب ِعلم اور واقف ِحال آشنا ہوگا۔
کارل مارکس کا تعلق اس صدی سے نہیں تھا مگر ان کے افکارنے اس صدی کی جہتیں متعین کرنے میں جو کردار ادا کیا وہ کسی سے پوشیدہ نہیں۔ اگر میں یہ کہوں تو نادرست نہیں ہوگا کہ کارل مارکس کے افکار نے ہی لینن کی قیادت کو جنم دیا جس کے نتیجے میں روسی انقلاب بپا ہوا اور سوویت یونین کا قیام عمل میں آیا۔
لینن کے بعد جو بڑی قیادتیں سامنے آئیں ان میں ترکی کے اتاترک اور جرمنی کے ایڈولف ہٹلر خاص طورپر قابل ذکر ہیں۔ اتاترک کی قیادت نے ترک تشخص کا بڑا ہی موثر اور بھرپور دفاع کیا اور ترکی کو مختلف یورپی قوموں کے سامراجی عزائم کا شکار بن جانے سے بچا لیا۔ اگر اتاترک نے تاریخ کے ایک نازک موڑ پر جنم نہ لیا ہوتا تو شکست و ریخت ترکی کے مقدر میں لکھی جاچکی تھی۔ آج ایک عظیم مسلم قوت کے طور پر ترکی کا شاید وجود ہی نہ ہوتا۔
جرمنی کو ہٹلر کی تاریخ ساز قیادت نے جس اوجِ ثریا سے ہمکنار کیا وہ اپنی نوعیت کا واحد کرشمہ ہے۔ معاہدہ وارسیلز کے بعد جرمنی جس زبوں حالی مایوسی انتشار اور شکست خوردگی کا شکار تھا اس کااندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ 1930ءمیں ایک امریکی ڈالر کے حصول کے لئے جرمن مارکس کی بھری ہوئی بوری بھی کافی نہیں ہوتی تھی۔ اس وقت کسی کے خواب و خیال میں بھی یہ بات نہیں آسکتی تھی کہ یہی جرمن قوم آنے والے چند برسوں میں باقی پوری دنیا کو اس انداز میں للکارے گی کہ خود تاریخ انگشت بدنداں ہو کر رہ جائے گی۔ نازی جرمنی کا ظہور اور عروج اپنی نوعیت کا پہلا اور آخری واقعہ تھا۔
اگرچہ شکست بالآخر نازی جرمنی کامقدر بنی ¾ مگر اس حقیقت سے کون انکار کرے گا کہ ہٹلر کی قوت ِآفرین قیادت نے نوآبادتی نظام کو جڑوں سے اکھاڑ پھینکا اور یورپ کی تمام سامراجی طاقتیں اپنی مقبوضہ نو آبادیوں کو وقفے وقفے سے آزاد کردینے پر مجبور ہوگئیں۔ ؟ چرچل نے دوسری جنگ عظیم پر اپنی شہرہ آفاق تصنیف کا اختتام ان الفاظ کے ساتھ کیا۔
” ہٹلر کی تمام تر خرابیوں اور وحشتوں کے باوجود یہ حقیقت مغربی تہذیب کے مورخوں کے شعور میں ہمیشہ چبھتی رہے گی کہ تاریخ کی اس سب سے زیادہ تباہ کن اور ہلاکت آفرین ِجنگ میں ہلاکتوں کا تناسب ایک جرمن کے مقابلے میں پانچ اتحادی فوجی تھا۔ جب میں یہ سوچتا ہوں کہ اکیلے نازی جرمنی نے امریکہ سوویت یونین اوربرطانیہ کی اجتماعی طاقت کو کس طرح ناکوں چنے چبوائے توایک جھرجھری سی آئے بغیر نہیں رہتی۔“
چرچل کا ذکر آیا ہے تو یہ کہنا میں ضروری سمجھتاہوں کہ اپنی تمام تر لیاقت اور قابلیت کے باوجود چرچل اپنا شمار تاریخ ساز قیادتوں میں نہیں کراسکے۔ کون نہیں جانتا کہ جنگ کے ہیرو ہونے کے باوجود انہیں عام انتخابات میں شکست کا سامنا کرنا پڑا ؟
اوپر نو آبادتی نظام کے خاتمے کا ذکر ہوا ہے ۔ اور اس ضمن میں جو عہدِ آفرین اور تاریخ ساز قیادتیں سامنے آئیں ان میں بھارت کے گاندھی کانام بڑی ” اہمیت “ کا حامل ہے لیکن ان سے زیادہ اہمیت پاکستان کے بانی قائداعظم محمد علی جناح ؒ کی ہے۔ تاریخ میں آپ کو کتنے نام ملیں گے جن سے آپ نئی مملکتوں کا قیام منسوب کرسکیں ؟ اسی ضمن میں یہاں میں مفکرِ پاکستان علامہ اقبال ؒ کا ذکر کروں گا۔ اقبال ؒ نے اگرچہ عملی سیاست سے اپنے آپ کو الگ تھلگ رکھا مگر ہم سب جانتے ہیں کہ ” دو قومی نظریے “ کے حقیقی خالق وہی تھے۔ اگر پاکستان کے قیام کی جڑیں تلاش کی جائیں تو پہلی جڑ 1930ءکے اس خطبے میں ملتی ہے جو مسلم لیگ کے الہ آباد والے اجلاس میں علامہ اقبال نے دیا۔ اور دوسری جڑ 1940ءکی لاہور والی قرارداد میں ملتی ہے جس کے ساتھ محمد علی جناح ؒ کا نام جڑا ہوا ہے۔ بیسوی صدی کی بڑی قیادتوں کی کہانی یہاں ختم نہیں ہوتی۔ انڈونیشیا کے سوئیکارنوکا نام بھی اس فہرست میں شامل ہے مگر سب سے بڑا نام ماﺅزے تنگ کا ہے جن کی عہدِ آفرین قیادت نے جو بنیادیں تلاش اور تعمیر کیں ان پر آج کا عظیم الشان چین پوری شان و شوکت کے ساتھ کھڑا ہے۔
یہاں میں فیڈل کاسٹرو اور شی گویرا کا نام بھی لوں گا جن کے ساتھ انقلاب ِآفرین جدوجہد کا تصور منسوب ہے۔ یہاں میں سنگاپور کے لی یو اورملائیشیا کے مہاتیر محمد کا نام بھی لوں گا جنہوں نے کھوکھلی نظر آنے والی ریاستوں کو ترقی اور کامیابی کی داستانوں میں تبدیل کرکے رکھ دیا۔
پاکستان کے ذوالفقار علی بھٹو اس عظیم کلب میں شامل ہوتے ہوتے رہ گئے۔ ان کی کرشماتی قیادت نے انقلاب کی ایک تحریک کو جنم تو ضرور دیا اور آگے بھی بڑھایا لیکن ان کا ” وژن“ بس یہاں تک ہی محدود تھا۔ وہ اپنے ہاتھوں سے جلائے ہوئے چراغوں کو طوفانوں سے بچانے کی صلاحیت سے محروم تھے۔ بلکہ میں تو یہ کہوں گا کہ چراغ بھی انہوں نے خود جلائے اور انہیں گل کردینے والے طوفان بھی خود کھڑے کئے۔
بہرحال ان کی سحر انگیزیوں سے انکار نہیں کیاجاسکتا ۔ ان کی ذات میں لیاقت کا ایندھن ضرور موجود تھا مگر اس ایندھن کو ایسی توانائی میں تبدیل کرنے کی صلاحیت ان میں مفقود تھی جو ملکوں اور معاشروں کو آگے کی طرف دوڑالے جایا کرتی ہے۔ ایسا کیوں تھا ؟ اس سوال کا ایک ہی جواب میری سمجھ میں آتا ہے ۔ ان کی ذات اخلاقی اقدار سے ملنے والی توانائی سے عاری تھی۔
عجیب بات یہاں یہ ہے کہ بھٹو کے دور کے بعد عظیم قیادتوں کی داستان یکایک دم توڑتی دکھائی دیتی ہے۔ چین میں ماﺅزے تنگ کی فراہم کردہ قیادت کا تسلسل ضرور ملتا ہے۔ مگر باقی دنیا میں اور کوئی نام ہمیں نظر نہیں آتا جسے ہم تاریخ ساز قیادتوں کی کلب میں شامل کرسکیں۔ مجھے یہاںفرانس کے چارلس ڈیگال کا ذکر ضرور کردینا چاہئے مگر ان کا دور بھی 1960ءکی دہائی کے وسط تک قائم رہا۔
مجھے یاد ہے کہ 1980ءکی دہائی کے آخر میں ہفت روزہ ٹائم نے ایک تحقیقی مقالہ شائع کیا تھا جس میں یہ ثابت کرنے کی کوشش کی گئی تھی کہ ” بڑے لیڈروں کا دور اختتام پذیر ہوچکا۔ اب انسانی تہذیب مختلف امور میں مہارت رکھنے والے پیشہ ور منتظمین یا منیجروں کے عہد میں داخل ہوچکی ہے۔ اب ڈینگ تو پیداہوتے رہیں گے مگر ماﺅ شاید کبھی پیدا نہ ہو۔۔۔“
میں اس نقطہ نظر سے اتفاق نہیں کرتا۔
تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ ہر عہد اپنی ضرورت کے مطابق اپنا مسیحا پیدا کرلیا کرتا ہے۔
یہاں میں امریکہ کی مثال دوں گا۔
امریکہ نے ابراہم لنکن کے بعد کوئی تاریخ ساز قیادت پیدا ہی نہیں کی۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ امریکہ کے اپنے اندر قوت اور توانائی کا اتنا بڑا ذخیرہ موجود رہا کہ اسے کسی مسیحا کی ضرورت ہی محسوس نہیں ہوئی۔ 1860ءکے زمانے میں امریکہ اپنی ریاستی شناخت کھو دینے کے بحران میں مبتلا تھا کہ ابراہم لنکن نے اسے تاریخ ساز قیادت فراہم کی۔ جنوب پر فیصلہ کن یلغار کرنے کا فیصلہ کوئی معمولی فیصلہ نہیں تھا۔ ابراہم لنکن نے یہ ” اندرونی جنگ “ اگر فیصلہ کن انداز میں نہ لڑی ہوتی تو امریکہ کبھی سپر پاور نہ بنتا۔
اس موضوع کو آگے بڑھانے کے لئے صفحات در صفحات درکار ہیں مگر میرا مقصد یہاں صرف اپنا یہ موقف بیان کرنا ہے کہ بڑی تبدیلیاں ” عوامی شعور “ سے نہیں ” عہد آفرین قیادت “ سے رونما ہوا کرتی ہیں۔ وجہ اس کی یہ ہے کہ ” عوامی شعور “ بیدار ہونے کے لئے کسی نہ کسی قیادت کا منتظر یا مرہون منت رہتا ہے۔
میں نے اپنی اس سوچ کی وضاحت کے لئے بیسویں صدی کی قیادتوں کو سامنے اس لئے رکھا ہے کہ ساتویں صدی کے بعد تاریخ میں کبھی کسی صدی نے ایک ساتھ اتنی عہد آفرین قیادتیں فراہم نہیں کیں۔
آپ سمجھ گئے ہوں گے کہ ساتویں صدی کا ذکر میں نے کس حوالے سے کیا ہے۔ 622 میں پیغمبر اسلام نے مکہ سے مدینہ تک کا وہ عظیم سفر اختیار کیا جسے ہجرت کہتے ہیں او ر جس نے ربع صدی کے اندر اندر دنیا کا نقشہ تبدیل کرکے رکھ دیا۔
یہ پوری صدی اسلامی فتوحات کی صدی تھی۔ اگر یہ کہاجائے تو زیادہ مناسب ہوگا کہ یہ صدی انسانی تہذیب کی تاریخ میں گلوبلائزیشن (Globaliaztion)کی پہلی صدی تھی۔
اس گلوبلائزیشن کے پیچھے اگرچہ اسلامی نظام کی آفاقیت کا تصور تھا لیکن کیا اس تصور کا آفاقی بن جانا آنحضرت کی ذات مبارکہ سے ابھرنے والی انقلاب انگیز قوت آفرینی کے بغیر ممکن ہوتا۔؟
دنیا آج جہاں کھڑی ہے وہاں اسے حضرت ابراہیم ’ حضرت موسی ٰ اور حضرت محمد نے پہنچایا ہے ۔یہ رجال عظیم محض پیغمبران ِ خدا نہیں تھے ’ خلقِ خدا کو اخلاقی ’ روحانی ’ عمرانی ’ معاشی معاشرتی اور سیاسی قیادت فراہم کرنے والے عظیم لیڈر بھی تھے۔
حضرت محمد کی قیادت ہمیں آج بھی میسر ہے ’ تاقیامت حاصل رہے گی ۔ مگر اس قیادت کے سحر کے سانچے میں ڈھل کر مسیحائی کامقام پانے والے بطلِ جلیل کا ہمیں بڑی شدت سے انتظار ہے۔
اگر دیکھاجائے تو تمام قوموں کی تاریخ ایسے ہی انتظار کی داستان ہواکرتی ہے۔

Scroll To Top