فاٹا میں آئینی اصلاحات کا مطالبہ زور پکڑگیا

zaheer-babar-logoجنرل قمر جاوید باجوہ کا کہنا ہے کہ پارا چنار میں مظاہرین پر فائرنگ کرنے والے کمانڈٹ کو تبدیل کردیا گیا ہے اور ان کے خلاف انکوائری کا آغاز بھی ہوچکا۔ یاد رہے کہ پاراچنار میں 23 جون کو ہونے والے دھماکوں میں 70سے زائد افراد جان بحق جبکہ درجنوں زخمی ہوگے ۔ اس پر لواحقین گذشتہ آٹھ روز سے دھرنا دیے ہوئے تھے۔مظاہرین کا مطالبہ تھا کہ چیف آف آرمی سٹاف خود ان سے ملاقات کریں تاکہ وہ اپنے مطالبات پیش کرسکیں۔ جمعہ کو جب سپہ سالار اور مظاہرین کے نمائندے وفد کی ملاقات کے بعد مظاہرین پرامن طور پر منشتر ہوگے۔اس موقعہ پر چیف آف آرمی سٹاف نے اہل پارا چنار کے لیے اہم اعلانات کیے ۔ مثلا سپہ سالار کا کہنا تھا کہ پاراچنار کے متاثرین کو بھی وہی امدادی پیکیج دیا جائیگا جو ملک میں دہشت گردی کے دیگر متاثرین کو دیا جارہا ، پاراچنار میں فوج کے ریگولر دستوں کو تعینات کیا جائیگا تاکہ سیکورٹی مذید بہتر بنائی جاسکے،اس کے علاوہ رضا کاروں کو بھی چیک پوسٹوں پر تعینات کیا جائیگا، فوج فاٹا میں ٹروما سنیڑ قائم کریگی جبکہ مقامی سول ہسپتال میں سہولیات کو بہتر بنایا جائیگا، مذید یہ کہ فوج فاٹا کو مکمل قومی دھارے میںلانے کی حمایت کرتی ہے تاکہ یہ جلد تکمیل امن میں معاون ثابت ہو۔ “
چیف آف آرمی سٹاف کا یہ کہنا اہم ہے کہ دشمن ہمیں فرقہ وارنہ کشیدگی میں الجھانے کے درپے ہے۔ پاکستان کے بدخواہوں کے لیے یہ ہرگز گوارہ نہیں کہ اس سرزمین پر تمام مسلک کے لوگ مل جل کر صرف اور صرف پاکستانی بن کررہیں۔ بلاشبہ یہ پہلی بار نہیں کہ مملکت خداداد پاکستان میں مسلک کی بنیاد پر اختلاف پیدا کرنے کی مذموم کوشش کی گی ۔ مقام شکر ہے کہ خبیر تا کراچی کہیں بھی عوام کی اکثریت نے ایسی کسی بھی گھناونی سازش میں آلہ کار بنے سے انکار کردیا۔ اس میں شبہ نہیں کہ ملک کے طول وعرض میں ایسے افراد یا گروہ موجود ہیں جو اپنے ذاتی مفادات کے لیے ملک وملت کا مفاد داو پر لگانے میں ہرگز ہچکچاہٹ کا مظاہرہ نہیں کرتے مگر عام پاکستانی دہائیوں سے باہم شیر وشکر ہے۔ مشرق وسطی میں تیزی سے بدلتی ہوئی صورت حال میں یہ ناممکنات میں سے نہیں کہ بعض مسلم ممالک پاکستان میں اپنے حمایتی گروہوں کی سرپرستی کا فریضہ سرانجام دیں۔ بدقسمتی سے پاکستان میںفرقہ وارنہ قتل وغارت گری کا تاثر کئی دہائیوں سے دیا جارہا۔ ایسا بھی ہوا کہ جب جب قانون نافذ کرنے والے اداروں نے قتل وغارت گری میں ملوث گروہ پر ہاتھ ڈالا تو معلوم ہوا کہ وہ مختلف مسالک کے لوگوںکو نشانہ بنا کر عوام کو باہم دست وگریباں کرنے کی مذموم سرگرمیوں میںملوث ہیں۔
سپہ سالار کا دو ٹوک انداز میں کہنا تھا کہ پاکستان سب پاکستانیوںکا ہے چاہے ان کا تعلق کسی بھی مذہب یا مسلک سے ہو۔“
بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح کے فرمودات اس حقیقت کو پوری طرح بے نقاب کرتے ہیں کہ دو قومی نظریہ کی بنیاد پر بنے والی اس ریاست میں کسی مذہب یا مسلک کے لوگوں سے امتیاز نہیںبرتا جائیگا۔ پاکستان کی پہلی کابینہ میں موجود شخصیات قائدا عظم کی سیاسی فہم وفراست کا پتہ دیتی ہیں جس میں مسلمان ، ہندو، قادیانیوں کے علاوہ مختلف مسالک کے وزراءکا انتخاب عمل میں لایا گیا۔کوئی نہ بھولے کہ عصر حاضر میں دشمن کی حکمت عملی بدل چکی۔ آج دو بدو جنگوں کی بجائے حریف ریاست کو اندرونی طور پر کمزور کرنے کے پالیسی پر عمل کیا جارہا۔ سیاسی ومذہبی قیادت کے علاوہ عام پاکستانی بھی سمجھ لے کہ باہم تقسیم ہوکر ہم اس دشمن کا کام آسان کرسکتے ہیں جو ہم میں سے ہر کی جان کے درپے ہے اپنے دورے میں چیف آف آرمی سٹاف نے پاراچنار کو اسلام آباد اور لاہور کی طرح سیف سٹی بنانے کا بھی اعلان کیا۔ خیال کیا جارہا ہے کہ آنے والے دنوں میں فاٹا میں قیام امن کے لیے ایسے اقدمات اٹھائے جاسکتے ہیں جس کے بعد دہشت گردی کے واقعات میں نمایاں حد تک کمی رونما ہوجائے۔
بظاہر جس صورت حال کا سامنا آج پارا چنار کو کرنا پڑرہا اس سے ملتے جلتے حالات ماضی میں کوئٹہ کی ہزارہ برداری کو درپیش تھے۔ ان دنوں ایسا بھی ہواکہ ایک ہی دن میں سو سو لوگ شہید کردیے گے مگر صوبائی درالحکومت میں حالات بڑی حد تک بہتر ہوچکے۔ سیکورٹی فورسز کی بھرپورکاروائیوںکے نتیجے میں دہشت گردی کے وہ اڈے ختم ہوچکے جو آئے روز دلخراش واقعات کا سبب بنتے ۔ قوی امکان ہے کہ آنے والے دنوں میںپارا چنار اور اس کے ملحقہ علاقوں میں ابھی ایسے آپریشنز کیے جائیں۔ جنرل قمر جاوید باجوہ نے ایک بار پھر فاٹا میں آئینی اصلاحات کا مطالبہ بھی کیا۔ عسکری قیادت باخوبی سمجھتی ہے کہ ضرب عضب ہو یا ردالفساد قیام امن کی ہر کوشش اسی وقت کامیابی سے ہمکنار ہوسکتی ہے جب سیاسی عمل ساتھ ساتھ آگے بڑھے۔
مسلم لیگ ن اب تک فاٹا میں اپنی آئینی زمہ داری پوری کرنے میںکامیاب نہیںہوسکی۔ فاٹا کو خبیر پختوانخواہ میں ضم کرنے کے حوالے سے سب ہی سیاسی جماعتوں کا اتفاق رائے ہے مگر مولانا فضل الرحمن اور محمود خان اچکزئی اس کی راہ میں رکاوٹ ڈال رہے۔ وزیراعظم نوازشریف بھی نامعلوم وجوہات کی بنا پر اپنے دونوں اتحادیوں کو ناراض کرنے کا خطرہ مول نہیں لے رہے ۔ اب قوی امکان ہے کہ پاراچنار میں دہشت گردی کے حالیہ واقعات کے بعد وفاقی حکومت پر فاٹا اصلاحات پر عمل درآمد کے لیے دباو بڑھے۔ اس سلسلے میں چیف آف آرمی سٹاف کی جانب سے وزیراعظم کوبھی باضابطہ طور پر درخواست بھی کی جاسکتی ہے۔

Scroll To Top