یہ جنگ جوعدلیہ میں لڑی جارہی ہے اُس خواب کی جنگ ہے

aaj-ki-baat-new-21-aprilخواب ٹوٹ جایا کرتے ہیں۔۔۔ خواب شرمندہ تعبیر نہیں ہوا کرتے ۔۔۔ مگر خواب ضرور دیکھنے چاہئیں۔۔۔ خواب نہ ہوں تو آدمی کی زندگی ایک ایسے قبرستان کی مانند ہوتی ہے جس پر سناٹے کا راج ہو۔۔۔
ہم نے `من حیث القوم ` بڑے خواب دیکھے ہیں۔۔۔ ایک خواب ہم نے یہ دیکھا کہ ایوب خان اس ملک کے مقدر سے اندھیرے نکال باہر پھینکے گا۔۔۔
ایک خواب ہم نے یہ دیکھا کہ ذوالفقار علی بھٹو ایک ایسا پاکستان تعمیر کرے گا جس میں غریب کو روٹی بھی عزت سے ملے گی ` کپڑا بھی عزت سے ملے گا اور جس میں اس کی چھت بارش کی آواز سنتے ہی ٹپکنا شروع نہیں کرے گی۔۔۔
ہم نے ایک عمر خواب دیکھتے گزار دی ہے۔۔۔
میں27جولائی کو 78برس کا ہوجاﺅں گا۔۔۔ ” لے کر رہیں گے پاکستان “ کا نعرہ میں نے سات برس کی عمر میں بٹالہ کی گلیوں میں بلند کیا تھا۔۔۔14اگست کے روز پاکستان کو بنے 70برس ہوجائیں گے۔۔۔
لیکن وہ پاکستان جس کا خواب اس کے بانیان۔۔۔ اقبال ؒ اور قائداعظم ؒ نے دکھایا تھا۔۔۔ وہ پاکستان ہنوز ہماری پہنچ سے بہت دور ہے۔۔۔ لیکن اتنا بھی دور نہیں کہ ” اُس“ تک ہمارے خوابوں کی رسائی نہ ہوسکے۔۔۔
ہم اُس پاکستان کا خواب ضرور دیکھتے رہیں گے جس کے کھیتوں نے دہقان کو روزی میسر نہ کی تو جلادیئے جائیں گے۔۔۔ جس میں امیر کا کفن سونے چاندی کا نہیں ہوگا۔۔۔ اور جس میں غریب بے کفن دفن نہیں ہوں گے۔۔۔ اور جس کی فضائیں ہمیں حضرت عمر ؓ کے یہ الفاظ یاد دلاتی رہیں گی کہ ” اگر دجّلہ کے کنارے بھی کوئی کتا تک بھوکا سویا تو میں جوابدہ ہوں گا۔۔۔“
یہ جنگ جو آج عدلیہ میں لڑی جارہی ہے اس خواب کی جنگ ہے۔۔۔
اگر پاکستان کے عوام یہ جنگ جیت گئے تو پھر کوئی ڈاکو۔۔۔ کوئی لٹیرا۔۔۔ ان کے حصے کی دولت چُرا کر باہر نہیں لے جاسکے گا۔۔۔ اور پاکستان میں کوئی گھر ایسا نہیں ہوگا جس کی فصیلیں میلوں تک پھیلی ہوں۔۔۔
آئیں مل کر دُعا کریں کہ یہ جنگ اس ملک کی طاغوتی طاقتوں کے تابوت میں آخری کیل ثابت ہو۔۔۔۔

Scroll To Top