ارباب اختیار کو شہریوں کی جان کی پرواہ نہیں

zaheer-babar-logoسانحہ احمد پور شرقیہ میں تادم تحریر 180 افراد زندگی کی بازی ہار گے ۔بعض زخمیوں کی حالت اب بھی تشویشناک ہے۔ تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق حادثہ کی زمہ دار پولیس اور دیگر مقامی سرکاری عہدیدار ہیں۔ رپورٹ کے مطابق حادثہ موٹر وے پولیس کی نااہلی کی وجہ سے رونما ہوا یعنی اگر موٹروے پولیس بروقت علاقے کو سیل کردیتی تو یہ سینکڑوں مرد وزن حتی کے بچے جل کر نہ مرتے ،حد تویہ ہوئی کہ اسٹنٹ کمشنر شرقیہ اور مقامی ایس ایچ او بھی ایک گھنٹہ تاخیر سے پہنچا۔
وطن عزیز میں اب تک دہشت گردی اور حادثات کی شکل میں کئی واقعات رونما ہوچکے۔ بشیتر سانحات زمہ دار افراد کی غلطیوں کے سبب ہی ظہور پذیر ہوئے۔ ستم ظریفی یہ ہے کہ کسی ایک سے بھی نہ سیکھا گیا یعنی افسوس اور مذمتی بیانات سے آگے بات نہ بڑھ سکی۔ گماں یہی ہے اہل اقتدار نے طے کررکھا ہے کہ وہ کسی طور پر بدلے گے نہیں۔ آئے روز بنے والے کمیشن اور تحقیقاتی کمیٹوں سے باشعور پاکستانی بیزار ہوچکا۔ وہ یقین کرنے میں حق بجانب ہے اس سے کچھ بھی نہیں بدلنے والا۔
آبادی کے اعتبار سے ملک کے سب سے بڑے صوبہ کی حالت کسی صورت تسلی بخش نہیں۔ جنونی پنجاب کا علاقہ احمد پور شرقیہ کا ہو یا مظفر گڑھ ہر جگہ غربت اور مسائل کا راج ہے۔ میاں نوازشریف کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے میاں شبہاز شریف کا کہنا تھا کہ ٹینکڑ حادثہ میں جل کرکے مرجانے والے ستر سال سے جاری غربت کے شکار ہوئے“۔ یقینا وزیراعلی پنجاب سے یہ سوال پوچھا جاسکتا ہے کہ قومی سیاست میں ان کا خاندان کم وبیش 35سال سے فعال ہے، مسائل ختم کرنے میں خود ان کا کردار کیا ہے۔
بادی النظر میں سانحہ شرقیہ قانون کی حکمرانی نہ ہونے کے سبب رونما ہوا۔ غربت اور استحصال کے مارے عوام پیڑول برتنوں میں تیل اس لیے جمع کرتے رہے کہ چند روپوں کا ہی سہی بہرکیف فائدہ ہوجائے۔ جنوبی پنجاب میں پائی جانے والی غربت کا مشاہدہ کرنے والے ہر شخص گواہ ہے کہ مسائل کا انبار ہے جنھیں حل کرنے کو کوئی بھی تیار نہیں۔ ناقدین کے بعقول پورے صوبے کا بجٹ محض صوبائی درالحکومت پر لگانے والے مضر اقدمات کے اثرات سے لاپرواہ ہیں۔ بلوچستان کے بعض علاقے ہی نہیں ۔ سندھ اور پنجاب کے کئی شہر بھی غربت اور احساس محرومی کے مارے ہیں۔
افسوس کہ رائج نظام ان خامیوں کو دور کرنے کو تیار نہیں جو اپنی پورے بدصورتی کے ساتھ نمایاں ہے۔ اشرافیہ کا خیال ہے کہ شائد اقتدار میں آنے جانے کا نام ہی جمہوریت ہے۔ جوابدہی اور سب سے بڑھ کر مسائل شکار عوام کی اکثریت کی زندگیوں میں بہتر لانا ان کے فرائض منصبی میں شامل ہی نہیں۔ مملکت خداداد پاکستان کا اصل مسلہ ہی قانون کی حکمرانی ہے۔ سیاست دان ہی نہیں ہر طاقتور گروہ خود کو قانون سے ماوراءتصورکرتا ہے۔ منتخب نمائندوں کے تنقید کا نشانہ بنے کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ وہ ووٹ کے زریعہ منتخب ہوئے۔ اپنے اپنے انتخابی حلقے کے عوام سے انھوں نے پرامن بہتر اور محفوظ زندگی گزرنے کا وعدہ کیا ۔اس نقطہ کو سمجھنا ہوگا کہ ہر خاص وعام کے لیے قانون پر عمل درآمد وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے زمہ داری ہے جس سے عملا پہلو تہی کی جارہی ۔ سوال یہ ہے کہ کیا یہ سچ نہیں کہ آج اہل اقتدار ہی سب سے زیادہ قانون شکن واقعہ ہوئے یعنی آئینی حکومتیں ہی آئینی شکنی کی مرتکب ہورہیں۔ آج صورت حال یہ ہوچکی کہ حکومت پر تنقید کرنے والے ہر شخص کو ”جمہوریت“کا مخالف کہہ کر پکارا جارہا۔موجودہ انتظام کے حامی اپنے قول وفعل سے یہ تاثر دینے کے لیے کوشاں ہیں کہ ملکی جمہوری نظام میں تنقید کی ہرگز گنجائش نہیں۔ ادھر جاری حکمت عملی کا پہلا نقصان یہ ہورہا کہ باشعور شہری جمہوریت سے ہی بیزار ہورہا۔یہ سب کچھ اس کے باوجود ہورہا کہ عصر حاضر میں جمہوریت سے بہتر نظام تاحال تشکیل نہیں دیا جاسکا۔
سانحہ احمد پور شرقیہ کو ماضی کے دیگر سانحات کی طرح فراموش کردینے کا روشن امکان ہے۔سانحہ قصور، سانحہ ماڈل ٹاون غرض لاتعداد ایسے دلخراش واقعات ہیں جنھیں زمہ داروں نے عملا فراموش کردیا ۔ حادثات سے سبق سیکھنے کا رواج ہمارے ہاں موجود ہی نہیں۔ ملک کے طول وعرض میںایسے دانشور بھی ناپید ہیں جو علم وحکمت سے کام لیتے ہوئے اہل اقتدار اور عوام دونوں کی یکساں رہنمائی کا فریضہ سرانجام دے سکیں۔ اس پس منظر میں پرنٹ ، الیکڑانک اور سوشل میڈیا کی اہمیت اپنی جگہ مگر سنجیدگی و پختگی تاحال اپنی معراج کو نہیں پہنچی ۔
اہل فکر ونظر کو توجہ مبذول کرنا ہوگی کہ آخر کیا سبب ہے مملکت خداداد پاکستان میں جان کی حرمت کا تصور بحال نہیں ہوسکا۔ وہ کون سی وجوہات ہیں جنھوں نے بطور قوم ہمیں اپنے ہی شہریوں کے بہتے ہوئے لہو سے لاتعلق کردیا۔ایک تبصرہ یہ ہے کہ جس ملک میں کم وبیش ستر ہزار شہری اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہکار وافسران جان سرعام شہید کردیے گے وہاں 180افراد کا جل مرنا کیا معنی رکھتا ہے۔
ادھر سانحہ احمد پور شرقیہ سے قبل پاراچنار میں دو خودکش حملے ہوئے ۔ عید کی خریداری میں مصروف درجنوں مرد ، خواتین اور بچے زندگیوں سے محروم کردیے گے۔ پاراچنار میں متاثرین کئی روز سے دھرنا دیے ہوئے ہیں۔ ان کا مطالبہ ہے کہ وزیراعظم نوازشریف سمیت زمہ دار شخصیات ان کے پاس آئے اور ان کے مطالبات سنیں ۔ عیدالفطر کے موقعہ پر رونما ہونے والی دہشت گردی اور حادثات اہل پاکستان کو بڑی حد تک سوگوار کرے گے۔ وفاقی اورصوبائی حکومتوں کی آئینی ، قانونی، مذہبی اور اخلاقی زمہ داری ہے کہ وہ اپنے شہریوں کے جان ومال کے تحفظ کو ہر قیمت پر یقینی بنائے۔

Scroll To Top