بات مائنڈسیٹ کی تبدیلی کی 05-08-2011

kal-ki-baatبعض خبریں اپنے عہد کے مزاج کی ایسی بھرپور عکاس بن جایا کرتی ہیں کہ کسی اضافی تبصرے کی ضرورت ہی پیش نہیں آتی۔ ایسی ہی دو خبریں آج کل آپ کی نظروں سے گزری ہوںگی۔ ایک خبر میں وزیراعظم گیلانی صاحب نے ایم کیو ایم کے ساتھ مذاکرات کرنے کے عہدِ صمیم کا اظہار کرنے کے ساتھ ساتھ قوم کو یہ بتایا ہے کہ پاکستان میں 35لاکھ افغان پناہ گزیں ہیں۔ اس کے علاوہ انہوں نے یہ بھی بتایا ہے کہ جو لوگ حوروں کے لالچ میں کارروائیاں کررہے ہیں ا ن کا ” مائنڈسیٹ“ یعنی اندازِ فکر تبدیل کرنے کی ضرورت ہے۔
غیر مربوط باتیں کرنا وزیراعظم صاحب کا خاص سٹائل ہے۔ کہنا وہ بہت کچھ چاہتے تھے مگر جو کچھ کہہ پائے اس سے ان کے ذہن میں پائے جانے والے انتشار کا پتہ چلتا ہے ۔ انہیں معلوم ہونا چاہئے کہ 35لاکھ افغان مہاجرین کا پاکستان میں قیام پذیر ہوناکوئی نئی خبر نہیں۔ اس لئے ملک کی موجودہ زبوں حالی اور مالی وانتظامی ابتری کا سبب افغان مہاجرین کوقرار دینا کوئی منطقی بات نہیں۔ انکا یہ سوچنا البتہ درست ہے کہ اگر حوریں اسی دنیا میں دستیاب ہوجائیں تو جنت کے مشکل راستے کا انتخاب کرنا عقلمندی کی بات نہیں۔ اور یہ معاملہ واقعی mindsetیعنی اندازِ فکر کا ہی ہے۔ کرپشن کی فراوانی کا تعلق بھی مائنڈسیٹ سے ہی ہے۔ ہر قسم کے مائنڈسیٹ اور اندازِ فکر میں تبدیلی کا لایا جانا ضروری ہے۔ کرپشن کی حد مقرر کرلی جائے تو بہت اچھا ہوگا۔ اگر حوروں کے دلدادہ اس دنیا میں دستیاب ایک دو حوروں پر اکتفا کرلیاکریں تو ٹھیک رہے گا۔ لیکن حرص اور ہوس دونوں کا یہ خاصہ ہے کہ انہیں کوئی حد بندی قبول نہیں۔
وزیراعظم صاحب ” حوروں “ کے معاملے کو سیاسی بحث میں نہ ہی لایا کریں تو فائدے میں رہیں گے۔
دوسری خبر یہ ہے کہ صدر صاحب نے سندھ کی پوری قیادت کو اسلام آباد بلوا کر اس سے تمام سیاسی جماعتوں سے مذاکرات کرنے کا اختیار حاصل کیا۔
درجنوں اکابرین کی کراچی سے اسلام آباد آمد پر جو اخراجات آئے ہوں گے انہیں اگر سامنے رکھا جائے تو ذہن میں یہ بات آئے بغیر نہیں رہے گی کہ اگر صدر صاحب خود اپنے خاص طیارے میں کراچی تشریف لے جاتے تو قومی خزانہ آہ و بکا کرنے کی ضرورت محسوس نہ کرتا ۔ بات ہر ایک مائنڈ سیٹ کی ہی ہے۔
بگڑے ہوئے رئیس زادوں شہزادوں اور سلطانوں کا مائنڈسیٹ تبدیل کرنے والا فرشتہ ہنوز ” عازم پاکستان “ کیوں نہیں ہوا؟

Scroll To Top