” یہ ٹھگنا وزیراعظم کس ملک کا تھا ڈیئر ڈاٹراِن لائ۔۔۔؟“

aaj-ki-baat-new-21-aprilقیامت خیز منظر تھا۔۔۔ احمد پور شرقیہ میں ہونے والے ہولناک واقعے کا نہیں ` بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کے امریکی صدر ٹرمپ سے گلے ملنے کا ۔۔۔ نریندری مودی کا منہ ٹرمپ کے سینے میں چھپا ہوا تھا اور ٹرمپ بے بسی اور لطف اندوزی کے ملے جلے احساس سے غالباً اپنے کسی نائب کی طرف دیکھ رہے تھے۔۔۔
پنجابی میں ایسے ملنے کو کہتے ہیں۔۔۔ ” ٹھنڈپڑ جانا “ اس کا اُردو ترجمہ ہے ” سکون پالیا“۔۔۔
میاں نوازشریف کو بھی اس وقت ٹھنڈ پڑتی ہے جب وہ مودی میاں سے بغلگیر ہوتے ہیں۔۔۔ صاف لگتا ہے کہ سچے دوست گلے ملے ہیں۔۔۔ ایسا موقع میاں صاحب کو کم کم ہی ملتا ہے کیوں کہ مودی میاں اور میاں صاحب کے درمیان ظالم سماج حائل ہے۔۔۔ اب ہر روز تو میاں صاحب کی کسی نواسی یا نواسے کی تقریب عروسی نہیں ہوتی کہ مودی میاں کو بلائیں اور دوستی نبھانے کے قول و اقرار کریں۔۔۔
دونوں کے ایک سجن `جندال بھی ہیں۔۔۔ دونوں کے درمیان پیغام رسانی کا کام انجام دیتے ہیں۔۔۔ میاں صاحب یہی پیغام بھجواتے ہوں گے کہ میں دشمنوں میں گھِرا ہوا ہوں۔۔۔ ایک طرف وردی والے ہیں۔۔۔ دوسری طرف ترازو والے ہیں اور سامنے مّوا عمران کھڑا گرجتا برستا رہتا ہے۔۔۔
کوئی نہیں جانتا کہ مودی میاں اپنے جگری یار میاں صاحب کی مدد کیسے کرسکتے ہیں۔۔۔ مگر میاں صاحب کی دنیا بہرحال امید پر قائم ہے۔۔۔
ایک افواہ گزشتہ دنوں یہ اڑی کہ میاں صاحب مدینہ سے لندن ایک روز کے لئے گئے ہی اس لئے تھے کہ وہاں سے ان کا ٹیلیفونی رابطہ مودی میاں سے ہوجائے۔۔۔ کسی اورجگہ سے تو بات چیت ہو نہیں سکتی۔۔۔ آئی ایس آئی والوں کے کان گزگز لمبے ہوتے ہیں ۔۔۔ ان زبانوں سے بھی لمبے جن کے سپرد میاں صاحب نے عمران خان کی ” خبر لیتے “ رہنے کی ذمہ داری کررکھی ہے۔۔۔
واپس اب ٹرمپ اور مودی کی بغلگیری کی طرف آتا ہوں۔۔۔ مودی میاں نے صلاح الدین کو تو دہشت گرد قرار دلوا ہی لیا مگر یہ نہیں معلوم کہ وہ میاں صاحب کی مدد کرنے کا کوئی وعدہ لے پائے ہیں یا نہیں۔۔۔ اگر وعدہ لے بھی لیا ہو تو سوچنے کی بات یہ ہے کہ ” ٹرمپ کی تو اپنی سپریم کورٹ اس کے بس میں نہیں ` ہماری سپریم کورٹ پر اُن کا کون سا ” ٹویٹ“ کارگر ہوگا۔۔۔؟“
ویسے بغلگیری ` پکّی پہچان نہیں دوستی کی۔۔۔ عین ممکن ہے کہ آج کل ٹرمپ اپنی بہو سے پوچھ رہے ہوں۔۔۔ ” یہ جوٹھگنا وزیراعظم اپناتُھوک میرے کپڑوں کے ساتھ مَل کر گیا تھا کس ملک کا تھا؟“
” اوہ نو ڈیر فادراِن لائ۔۔۔ وہ مودی صاحب تھے۔۔۔ انڈیا والے ۔۔۔“
”اچھا اچھا ۔۔۔ یاد آگیا ۔۔۔ میں بھی تو مُوڈی ہوں۔۔ ۔ چاہوں تو یاد رکھوں ۔۔۔ چاہوں تو بھول جاﺅں۔۔۔ یہ پاکستان کا وزیراعظم کیوں پریشان ہے۔۔۔؟“
” آپ کو کیسے پتہ ڈیئر فادراِن لائ۔۔۔؟ اُن کا بھی تو نام آیا تھا پاناما میں ۔۔۔“
” اوہ پاناما۔۔۔ مجھے یہ نام کبھی اچھا نہیں لگا۔۔۔ اوباما کی وجہ سے۔۔۔ میری کوئی کمپنی پاناما میں نہیں۔۔۔“
” آپ کو کمپنی کی کیا ضرورت ہے ڈیئر فادراِن لائ۔۔۔ پورا امریکہ اب آپ کی کمپنی ہے ۔۔۔“
e ڈیئر ڈاٹراِن لائ۔۔۔ یہ بات کانگریس اور میڈیا کو بھی سمجھاﺅ۔۔۔“ well said

Scroll To Top