ٹرمپ و مودی کی قربت اور پاکستان

zaheer-babar-logoامریکی صدر ٹرمپ اور بھارتی وزیراعظم مودی کی مشترکہ پریس کانفرنس میں چھپا ہوا پیغام کسی طور پر پاکستان کے لیے سمجھنا مشکل نہیں ہونا چاہے۔ دونوں شخصیات نے امریکہ اور بھارت کے مسقبل کے تعلقات بارے جس جوش وخروش کا اظہار کیا وہ بڑی حد تک حقیقت کا روپ دھار سکتا ہے۔ وائٹ ہاوس سے جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا کہ دونوں رہنماوں نے اس پر اتفاق کیا کہ وہ جیش محمد اور لشکر طیبہ سمیت شدت پسند تنظیموں سے لاحق خطرات سے نمٹنے کے لیے بھی تعاون کریں گے۔ صدر ٹرمپ اور نریندر مودی نے یہ بھی مطالبہ کیا پاکستان 2008کے بمبئی حملوں اور 2017 میں پٹھان کوٹ پر حملے کرنے والوں کو قانون کے کٹہرے میں لاکر سزا دے۔ دوسری جانب امریکہ نے حزب المجاہدین کے سربراہ محمد یوسف شاہ عرف سید صلاح الدین کو خصوصی طور پر نامزد کردہ عالمی دہشت گرد قرار دے ڈالا ۔یہ اعلان وائٹ ہاوس میں امریکی صدر ٹرمپ اور بھارتی وزیراعظم نریندری مودی کی ملاقات سے چند گھنٹے قبل کیا گیا۔
جنوبی ایشیاءمیں جس تیزی سے صورت حال بدلی اس پس منظر میں امریکہ اور بھارت کے درمیان بڑھتی ہوئی قربت ہرگز حیران کن نہیں۔ صورت حال کا باریک بینی سے جائزہ لینے والے مبصرین یہ پیشنگوئی پہلے ہی کرچکے کہ خطے میں چین کا کردار کم کرنے کے لیے امریکہ بھارت کی بھرپور سرپرستی کرسکتا ہے۔ یاد رہے کہ متحدہ ہائے امریکہ کی طرف سے بھارت کو نوازنے کاعمل کلنٹن دور سے ہی شروع ہوچکا تھا۔ امریکی صدر بش اور بارک اوباما بھی کسی نہ کسی شکل میں بھارت سے تعلقات کو فروغ دیتے رہے۔ حالیہ سالوں میں امریکہ اوربھارت کے درمیان دوطرفہ تعاون کی بڑی وجہ چین کا ون بیلٹ ون روڈ کا منصوبہ بھی ہے۔ چین دراصل جنوبی ایشیاءکے سب ہی ممالک کے مابین تجارتی روابط کا فروغ چاہتا ہے۔ چینی قیادت کا فلسفہ ہے کہ سیاسی معاملات کو معاشی تعلقات کی روشنی میں باخوبی آگے بڑھایا جاسکتا ہے۔ بادی النظر میں اس وقت چینی منصوبہ کا سب سے بڑا ناقد بھارت ہے۔ مودی سرکار اس پر اعلانیہ اپنی ناپسندیگی کا اظہار کرچکی۔ بھارت کے بعقول ون بیلٹ ون روڈ کا منصوبہ اس لحاظ سے ناقابل عمل ہے اس میں شامل ملکوں پر قرضوں کا بوجھ بڑھ جائیگا۔ بھارت کو اس پر بھی اعتراض ہے کہ اس منصوبہ میں پاکستان کو خاطر خواہ اہمیت دی گی یعنی سی پیک کا راستہ آزاد کشمیر اور شمالی علاقہ جات سے ہوکر گزرتا ہے جو بھارت کے بعقول متازعہ ہیں۔
اس می دوآراءنہیں کہ جنوبی ایشاءکے اس بدلے ہوئے ماحول میں جو ملک چین کا اثررسوخ کم کرنے کے لیے امریکہ سے بھرپور تعاون کرسکتاہے وہ بجا طور پر بھارت ہے۔ تاریخی طور پر بھارت اور چین کے تعلقات تبت اور سرحدی امور کو بنیاد بنا کر پہلے ہی کشیدہ ہیں۔ بھارتی پالیسی ساز برملا اقرار کرتے ہیں کہ ان کا مقابلہ پاکستان سے نہیں چین سے ہے۔ دراصل چین اور بھارت دونوںعلاقائی طاقت بنے کی دوڈ میں شامل ہیں۔ دونوں ملک بین الاقوامی سطح پر بھی ایک دوسرے کا اثر کم کرنے کے جتن کرتے رہتے ہیں۔ پاک بھارت کشدیگی کے پس منظر میں قدرتی امر ہے کہ پاکستان کا جھکاو چین کی طرف رہے۔ سی پیک کے اعلان کے بعد جہاں پاک چین تعاون ہر شعبہ میں فروغ پذیر ہے جس سے بھارت کی پریشانی یقینا بڑھ چکی۔
مودی سرکار کو مقبوضہ وادی میں بھی مشکل صورت حال کا سامنا ہے۔ بے جے پی سرکار یہ بات تسلیم کرنے کو تیار ہی نہیں کہ اس کی جانب سے تحریک آزاد کشمیر کو طاقت سے دبانا مسائل بڑھا رہا۔ بھارتیہ جتنا پارٹی کی سیاست کی بنیاد ہی اسلام ، مسلمان اور پاکستان دشمنی پر ہے۔ انتخابات کے دوران نریندر مودی کانگریسی قیادت کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے رہے کہ وہ پاکستان بارے جارحانہ حکمت پر کاربند نہیں۔ بے جے پی قیادت سرعام دعوی کرتی رہی کہ وہ برسر اقتدار آکر پاکستان کو اینٹ کا جواب پتھر سے دیں گے۔ اس کے برعکس پاکستان میں مسلم لیگ ن کی قیادت کی امید لگائی بیٹھی تھی کہ اٹل بہاری واجپائی کی طر ح مودی بھی بالاآخر مذاکرت کا راستہ اختیار کریں گے۔
وائٹ ہاوس میں ڈونلڈ ٹرمپ کا آنا نریندری مودی کے لیے کسی طور پر نعمت سے کم نہیں۔ نئے امریکہ صدر کے اسلام اور مسلمانوں کے خلاف نظریات ہی تھے جو نریندر مودی کا ان کے قریب لے گے۔ دراصل ہمارے پالیسی سازوں کو سمجھ لینا چاہے کہ ٹرمپ کی صدارت کے دوران پاکستان کے لیے کسی قسم کی خیر کی توقع نہیں۔ حزب الماجدین کے سربراہ سید صلاح الدین کو نامزد کردہ دہشت گرد قرار دینا ابتدا ہے۔ آنے والے دنوں میں قوی امکان ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ بھارت کو خوش کرنے کے لیے پاکستان کے لیے انواع واقسام کی مشکلات کھڑی کرے۔ سوال یہ ہے کہ اس بدلتی ہوئی صورت حال میں ہم نے کیا تیاری کررکھی ہے۔ ملکی خارجہ پالیسی شدید مسائل سے دوچار ہے۔ اس حقیقت کو تسلیم کیے بغیر چارہ کار نہیں کہ بھارت ہمسایہ ملکوں پر تیزی سے اثر انداز ہورہا ہے۔ ایک طرف افغانستان اور بنگہ دیش ہم سے نالاں ہیں تو اب ایران کے ساتھ بھی خوشگوار تعلقات نہیں رہے۔ حال ہی میںسعودی عرب اور قطر کے درمیان پیدا ہونے والا تنازعہ بالواسطہ یا بلاواسطہ طور پر پاکستان کے لیے مذید مشکلات کھڑی کرسکتا ہے۔ آج ضرورت ہے کہ حزب اقتدار اور حزب اختلاف کے علاوہ ریاست کے تمام ستونوں کو حالات کی نزاکت کا ادراک کرتے ہوئے متفقہ پالیسی اختیار کریں۔

Scroll To Top