تین چیف اور ایک ریاست 31-07-2011

aaj-ki-baat-new-21-aprilبہت سارے ” صاحبانِ فہم“ کے ذہنوں میں یہ خیال ابھرا اور کچھ نے اس خیال کا دبے لفظوں میں اظہار بھی کردیا کہ 29جولائی 2011ءکو سپریم کورٹ نے جو فیصلے سنائے اور جس لب ولہجے میں سنائے ان کے پیچھے کہیں نہ کہیں امریکی وزیر خارجہ ہیلری کلنٹن کا وہ فون ضرور تھا جو موصوفہ نے صدر زرداری کو کیا۔۔۔ اور شاید وہ ملاقات بھی تھی جو آرمی چیف کی وزیراعظم سے ہوئی اور جس کی بڑی ” ایمان افروز“ سی تصویر 29جولائی کے اخبارات میں شائع ہوئی۔
جیو کے کامران خان نے اپنے پروگرام میں اس نقطہ نظر کو کافی نمایاں طور پر پیش بھی کیا۔
پر اس ضمن میں لوگوں کے ذہنوں میں یہ سوال ابھرے بغیر نہیں رہ سکتا کہ متذکرہ فون اور متذکرہ ملاقات کے اثرات سپریم کورٹ کے رویوں تک کیسے پہنچ گئے۔۔۔؟
سابق وفاقی وزیر شیخ رشید نے اس سوال کا جواب کچھ یوں دیا کہ چیف جسٹس تک یہ پیغام پہنچ گیا ہو گا کہ آرمی چیف دفعہ190کے تحت کی جانے والی کسی بھی کارروائی کو خندہ پیشانی سے قبول نہیں کریں گے۔
چنانچہ سپریم کورٹ نے ضبط و تحمل اور احتیاط میں ہی عدلیہ کے وقار کے قائم رہنے کی ضمانت دیکھی۔
اس کے علاوہ ایک نقطہ نظر یہ بھی موجود ہے کہ اگر فوج کو ایک مخصوص کارروائی کرنے کی دعوت ملی تو وہ اپنا دائرہ اختیار محدود نہیں رکھے گی۔
سوال یہاں یہ اٹھتا ہے کہ ” اس ساری صورتحال کا فائدہ اگر حکومت کو نہیں تو پھر اور کس کو پہنچ رہا ہے۔۔۔؟“
سوال یہاں یہ بھی اٹھتا ہے کہ اگر جمہوری عمل کے تحفظ کا شوق ریاست کے لئے مہنگا ثابت ہوا تو زیادہ ذمہ داری کس کے کندھوں پر عائد ہوگی۔ آرمی چیف کے یا چیف جسٹس کے ؟
چیف دونوں ہیں ۔ اور ایک چیف ایگزیکٹو بھی ہے۔ لیکن اگر ریاست میں قانون کی حکمرانی ختم ہوگئی تو یہ تینوں چیف ہمارے کس کام کے رہیں گے ؟

Scroll To Top