مسلم لیگ (ن)اور عمران خان

aaj-ki-baat-new-21-april2 اگست 2011ءکو بھی یہ کالم شائع ہوا تھا۔پاکستان مسلم لیگ )ن(کے دوسرے درجے کے لیڈروں کے اعصاب پر آج کل عمران خان سوار ہیں۔ جیسے جیسے یہ خبریں زیادہ تواتر سے آرہی ہیں کہ تحریک انصاف کے چیئرمین کی مقبولیت کا گراف بلندہورہا ہے ویسے ویسے مسلم لیگی لیڈروں کے بیانات میں تندی تیزی اور تلخی بڑھ رہی ہے۔

برادرم پرویز رشید نے فرمایا ہے کہ عمران خان کو صدر زرداری نے مسلم لیگ )ن(کے ووٹ بینک میں دراڑیں ڈالنے کے مشن پر مامور کیا ہے ’ اور وہ میاں نوازشریف پر جو تابڑتوڑ حملے کررہے ہیں ان کا واحد مقصد یہ ہے کہ پاکستان پیپلزپارٹی کی کامیابی کی راہ ہموار ہو۔
منطقی طور پر اس دلیل میں خاصا وزن نظر آرہا ہے۔ مگر بیان دینے کے جوش میں پرویز رشید بھول گئے کہ وہ بالواسط طور پر عمران خان کی روز افزوں بڑھتی سیاسی طاقت کا اعتراف کررہے ہیں۔ وہ یہ کہہ رہے ہیں کہ عمران خان اس پوزیشن میں آگئے ہیں کہ میاں نوازشریف کے ووٹ بینک میں دراڑیں ڈال سکیں۔ ا س بات کا علم چونکہ صدرزرداری کو بھی ہوچکا ہے اس لئے انہوں نے عمران خان سے درخواست کی ہے کہ وہ میاں نوازشریف کے پیچھے پڑجائیں
آپ سوچ رہے ہوں گے کہ اس قسم کی باتیں کرکے مسلم لیگ (ن)کے لیڈر کیا حاصل کرنا چاہتے ہیں۔؟ اس بات کا وہم انہیں کیسے ہے کہ پاکستان کے عوام کرپشن کے خلاف اتنی پرجوش مہم چلانے والے عمران خان اور کرپشن کے ایک مرکزی کردار کے درمیان کسی بھی نوعیت کے رابطے کا یقین کرلیں گے۔؟
حقیقت دراصل یہ ہے کہ میاں نوازشریف اور صدر زرداری کے درمیان موجودہ حکومتی مدت مکمل کرنے کا جو خفیہ معاہدہ موجود ہے اس پر سے عوام کی توجہ ہٹی رہے۔ اور وہ مسلم لیگ(ن)کے اس پروپیگنڈے کو ماننا شروع کردیں کہ میاں صاحبان صدر زرداری کے عہد اقتدار کا عرصہ تنگ کرنے کے ” مشن“ میں واقعی سنجیدہ ہیں۔ویسے اگر مسلم لیگی لیڈر واقعی یہ چاہتے ہیں کہ صدر زرداری کے ” عہد اقتدار “ کو داستان ماضی بنا دیا جائے تو میرا مشورہ انہیں یہ ہے کہ وہ عمران خان کے خلاف بیان بازی بند کرکے آگے بڑھیں اور تحریک انصاف کے پرچم تلے جمع ہوجائیں۔
اب میاں برادران کی صلاحیتوں پر عوام کا اعتماد بحال کرانا ” سعی لاحاصل “ ہوگا۔
آخر کبھی نہ کبھی تو اس مقولے کی صداقت ثابت ہونی ہے کہ مومن ایک سوراخ سے دو مرتبہ نہیں ڈسا جاسکتا۔
عوام اب ڈسے جانے کے موڈ میں ہرگز نہیں۔

Scroll To Top