قومی مفاہمت یا قومی فریب ؟

25-06-2017
میں نہیں جانتا کہ یہاں مجھے کون سی ترکیب استعمال کرنی چاہئے۔ خیال ہائے خام یا خام خیالیاں ؟ مگر کہنا میں یہ چاہتا ہوں کہ ِانہیں ہم نے بڑی کثرت کے ساتھ پال رکھا ہے۔ جب امریکہ اس نتیجے پر پہنچا کہ جنرل پرویز مشرف کے لئے تنہا پاکستان پر اپنی حکمرانی قائم رکھنا ممکن نہیں رہا تو ایک طرف اس نے جنرل صاحب کو اور دوسری طرف محترمہ بے نظیر بھٹو کو قائل کیا کہ اب دونوں کے سامنے آپس میں مفاہمت کرنے کے سوا اور کوئی راستہ نہیں۔ یوں نیشنل ری کنسی لی ایشن (National Reconciliation)یعنی قومی مفاہمت کی ترکیب نے جنم لیا جسے جب جنرل مشرف نے آرڈیننس یعنی فرمان کی شکل دی تو این آر او کا وجود عمل میں آیا۔ دوسری طرف محترمہ بے نظیر بھٹو نے اپنی نئی کتاب میں مفاہمت کے تصور کو ایک سیاسی فلسفے کے طور پر پیش کردیا جسے ان کی بے وقت اور المناک شہادت کے بعد جناب آصف علی زرداری نے اپنی پارٹی کی اقلیتی حیثیت کو پاکستان کے نئے حکومتی ڈھانچے میں فیصلہ کن بالادستی دلانے کے لئے بڑی مہارت کے ساتھ استعمال کیا۔
حقیقت یہ ہے کہ اپنے مروجہ مفہوم میں ” قومی مفاہمت “ ایک خیالِ خام یا خام خیالی ہی ہے جو دیگر متعدد خیال ہائے خام یا خام خیالیوں کی طرح ہماری قومی سوچ کو ایسے راستوں پر اور ایسی منزلوں کی طرف لے جانے کا باعث ہے جن سے ہماری پاکستانی شناخت کے بنیادی تقاضے مجروح ہورہے ہیں۔
ستم ظریفی کی بات یہ ہے کہ ہم اس ” گمراہ کن “ سیاسی فلسفے میں پائے جانے والے ظاہری سحر کے زیر ِاثر یہ تاریخی حقیقت بھول جاتے ہیں کہ بابائے قوم قائداعظمؒ نے قیام پاکستان کے فوراً ہی بعد پہلا اقدام ” صو بہ سرحد“ میں قائم ڈاکٹر خان کی حکومت کو برطرف کرنے کا کیا تھا۔ اگر ” نام نہاد قومی مفاہمت “کو بابائے قوم کی سوچ میں ذرا بھی اہمیت حاصل ہوتی تو وہ سرخپوشوں کے ” جمہوری“ حق ِحاکمیت کو تسلیم کرلیتے۔ ہم سب جانتے ہیں کہ ڈاکٹر خان کی حکومت ان عام انتخابات کے نتیجے میں قائم ہوئی تھی جن کی بدولت پنڈت جواہر لعل نہرو غیر منقسم ہند کے وزیراعظم بنے۔ ایک لحاظ سے ڈاکٹر خان کو جمہوری مینڈیٹ حاصل تھا لیکن قائداعظم ؒ کے پیش نظرفیصلہ کن اہمیت اس فیصلے کی تھی جو صوبہ سرحد کے مستقبل کے حوالے سے ہونے والے ریفرنڈم میں وہاں کے عوام نے دیا تھا۔ صوبہ سرحد کے عوام نے اکثریت کے ساتھ سرحدی گاندھی کے فرزند کی حکومت کو مسترد کرتے ہوئے دو قومی نظریہ اور پاکستان میں شمولیت کے حق میں فیصلہ دیا۔
اگر قائداعظمؒ چاہتے تو قومی مفاہمت کے نام پر ڈاکٹر خان کی طرف ” تعاون کا ہاتھ“ بڑھا سکتے تھے۔ لیکن وہ بجا طور پر نہیں چاہتے تھے کہ پاکستان کی عمارت ٹیڑھی بنیادوں پر کھڑی ہو۔ اس بات کو میں محض تاریخ کی ستم ظریفی ہی نہیں ، ایک قومی المیہ بھی سمجھتا ہوں کہ کل کے صوبہ سرحد اور آج کے خیبر پختونخواہ کے سرکاری دفاتر میں جو تصویر دیواروں پر آویزاں نظر آتی ہے وہ بانی ءپاکستان محمد علی جناح کی نہیں ، بھارت کے ساتھ الحاق کے حامی سرحدی گاندھی کی ہے۔
اور یہ ناقابل یقین صورتحال اُس ” قومی مفاہمت “ کے نتیجے میں ممکن ہوئی ہے جس کا راگ ہمارا موجودہ حکمران طبقہ الاپ رہا ہے۔
اگر حق اور باطل کے درمیان مفاہمت ممکن ہوتی تو آنحضرت مشرکین مکہ کی یہ مفاہمتی تجویز قبول فرما لیتے کہ ” ہم آپ کے اللہ کو مان لیتے ہیں ۔ آپ ہمارے لات و منات کو مان لیں۔“
میں نے یہاں آنحضرت کی مثال ِ مبارک اس لئے دی ہے کہ ہمیں آپ کی ذات کو ہی اپنی ہر سیاسی سوچ اورہر لائحہ فکر و عمل کا ماخذ اور سرچشمہ سمجھنا اور بنانا چاہئے۔
کیا یہ حقیقت نہیں کہ آپ نے ”غزوات “ کو ” مفاہمت “ پر ترجیح دی ۔؟
یہ درست ہے کہ ” غزوات “ کے پہلو بہ پہلو حکمت تدبر اور سفارت کا عمل بھی جاری رہا۔ لیکن بنیادی مقصد اور حتمی منزل ہمیشہ ” اللہ کی جماعت “ کی فتح کو ہی سمجھا گیا۔
فتح مکہ کے ساتھ ہونے والے ” اعلان ِمعافی “ کو مفاہمت کے زمرے میں نہیں ڈالا جاسکتا۔ کیوں کہ یہ اگر مفاہمت تھی تو یک طرفہ تھی۔ مشرکین مکہ اور منکرین اسلام کے سامنے ایک ہی راستہ باقی رہ گیا تھا۔ ہتھیار ڈال دینے کا راستہ ۔۔۔
اگر ایک ” قطرہ ءخون“ کے بہائے جانے کے بغیر خالد بن ولیدؓ کی قیادت میں اسلامی لشکر کے ہر اول دستے کا مکہ میں داخلہ کسی مفاہمت کا نتیجہ ہوتا تو آنحضرت سب سے پہلے خانہءخدا کا رخ نہ کرتے اور بیت اللہ شریف میں داخل ہو کر وہاں سے جھوٹے خداﺅں کے بت نکال باہر نہ پھینکتے۔
میں چاہتا ہوں کہ ” مفاہمت “ جیسے گمراہ کن نعروں کو فروغ دینے یا ان کا اثر قبول کرنے والے لوگ چشم ِ تصور سے وہ مناظر دیکھیں جن میں کعبہ شریف کے اندر سے سینکڑوں بت نکال کر باہر پھینکے اور توڑ دیئے گئے۔
ہماری تاریخ کے دو فیصلہ کن موڑ ہیں۔ ایک موڑ وہ تھا جب ایک تاریک رات کے کسی مبارک پہر کو آنحضرت اپنا گھر اور شہر چھوڑ کر ایک ایسے سفر پر نکلے جس نے بنی نوع انسان کی تاریخ کو تبدیل کرکے رکھ دیا۔
اور دوسرا موڑ وہ تھا جب چند ہی برس بعد آپ ایک عظیم لشکر کی قیادت کرتے ہوئے فاتحانہ شان کے ساتھ اسی شہر میں داخل ہوئے جس کے حاکموں نے آپ کی نبوت کی پہلی پوری دہائی کو آپ کے لئے مصائب و آلام کی دہائی بنائے رکھا تھا۔
میں نہیں جانتا کہ جب آپ کعبہ شریف کو اپنے مبارک ہاتھوں کے ساتھ بتوں سے پاک کررہے تھے تو ابو سفیان اور ان کی اہلیہ ہندہ کے دل پر کیا بیت رہی تھی۔ مگر میں یہ ضرور جانتا ہوں کہ مشرکین مکہ کے اس سردار نے ایک روز قبل ہی آپ کے حضور پیش ہو کر اسلام قبول کرلیا تھا۔
دلوں کے حال خدا جانتا ہے مگر شواہد بتاتے ہیں کہ حضرت ابو سفیانؓ فتح مکہ سے پہلے ہی اسلام کی سچائی اور آپ کی نبوت کی طرف مائل ہوچکے تھے ¾ مگر ان کے اندر اس اخلاقی جرا¿ت کی کمی تھی جس کا مظاہرہ کچھ ہی ماہ قبل حضرت خالد بن ولیدؓ اور حضرت عمر والعاصؓ نے مدینہ پہنچ کر اسلام قبول کرکے کیا تھا۔
یہ ذکر مفاہمت کے موضوع کے ضمن میں اتفاق سے نہیں قصداً آیا ہے۔
” قبول ِ اسلام “ دراصل ایک ایسے لمحے کا نام ہے جس میں آدمی اپنے تمام پرانے رشتوں ¾ عقائد اور وفاداریوں سے قطع تعلق کرکے ایک نئی دنیا میں داخل ہوتا ہے جس میں ایک ذات کے سوا کسی دوسری ذات کے سامنے سجدہ جائزنہیں ہوتا۔ اور جس میں ایک ہادی )یعنی آپ (کے علاوہ کسی دوسرے ہادی کی ہدایت قبول نہیں ہوتی۔
اس ایک لمحے میں آدمی اپنے پورے ماضی سے اپنا تعلق توڑ لیتا ہے۔ اس کے لئے اس کے رنگ اور اس کے حسب نسب کا کوئی وجود نہیں رہتا۔ صرف ایک شناخت کے علاوہ اس کی اور کوئی شناخت باقی نہیں رہتی۔
علامہ اقبال ؒ نے اس کیفیت کو صرف ایک مصرعے میں سمو دیا تھا۔
اسلام ہمارا دیس ہے،ہم مصطفویٰ ہیں
میں یہاں جس لمحے کی بات کررہا ہوں وہ حضرت عمر فاروق ؓ کی زندگی میں بھی آیا تھا ، اور وہ بوسفیان ؓ کی زندگی میں بھی آیا۔
جب ایک مرتبہ آدمی کی زندگی میں یہ لمحہ آجائے تو پھر باقی سب کچھ ماضی بن جاتا ہے۔
ہمیں سوچنا یہ ہے کہ ہماری زندگی میں یہ لمحہ آیا ہے یا نہیں۔ ہم سے مراد یہاں ہمارے وہ اکابرین بھی ہیں جو قومی مفاہمت کے نام پر قوم کو بھی اور خود اپنے آپ کو بھی دھوکہ دیتے ہیں۔
(یہ کالم 18-07-2011 کو بھی شائع ہوا تھا )
Scroll To Top