دشمن نے طریقہ واردات بدل لیا !

zaheer-babar-logoکوئٹہ ، پارا چنار اور کراچی میں ہونے والی دہشت گرد کاروائیاں یہ پیغام دے رہیں کہ اس سرزمین کو آگ اور خون سے نہلا دینے کے درپے گروہ نہ صرف موجود ہیں بلکہ متحرک بھی ہیں۔ جمعتہ الوداع کے مقدس دن میں درجنوں معصوم اور نہتے پاکستانیوںکو شہید کرنے والے بتارہے کہ وہ کسی طور پر بھی رحم کے مستحق نہیں۔ بلوچستان، کراچی اور فاٹا میں ایک ہی دن کی جانے والی کاروائیاں کالعدم تنظمیوںکے نئے طریقہ واردات کی نشاندہی کررہا۔ بادی النظر میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کی موثر حکمت عملی کے سبب یہ ممکن نہیں رہا کہ آئے روز قتل وغارت گری کا بازار گرم کیا جائے لہذا کسی ایک دن کو مخصوص کرکے مختلف اہداف کو نشانہ بنا کر مذموم مقاصد کی تکمیل کی جارہی۔
نائن الیون کے بعد ملک بھر میں دہشت گردی کی جو لہر اٹھی اب تک اس کا زور بڑی حد تک ٹوٹ چکا۔
جنر ل راحیل شریف نے ضرب عضب کا آغاز اس قدر موثر انداز میں کیا کہ فاٹا کے ساتھ ساتھ کراچی میں لسانی، سیاسی اور مذہبی بنیادوں پر خون کی ہولی کھیلنے والوں کو بھرپور جواب دیا گیا۔ ہمیں ان دنوں کو نہیں بھولنا چاہے کہ جب آئے روز خودکش حملے ہوا کرتے تھے۔ مساجد، امام بارگاہیں ،بازار، جنازہ گاہیں ، ہسپتال ، سکول ، یونیورسٹیاں حتی کی جنازہ گاہ بھی محفوظ نہ تھی۔ پاکستان کے بدخواہوں نے ایک نہیں درجنوں تنظیموں کو وافر تعداد میں فنڈز اور تربیت فراہم کی، مذکورہ تنظیموں کا ایک ہی مقصد تھا اور وہ یہ کہ زیادہ سے زیادہ پاکستانیوںکو خون کرکے کسی نہ کسی طرح زیادہ سے زیادہ مال بنایا جائے۔ ایسا بھی ہوتا رہا کہ دہشت گردی کی ایک ہی کاروائی کی دو یا اس سے زائد تنظمیوں نے زمہ داری قبول کی۔
بھارت کی قومی سلامتی کے مشیراجیت ڈوول کی اس وڈیو پیغام کو نہیں بھولنا چاہے جس میں وہ کھل کر کہتا ہے کہ پاکستان میں دہشت گردی کرنے والے سب ہی گروہوں کی بھرپور سرپرستی کرنا ہوگی۔ بھارتی جاسوس کلبھوشن یادو کا اعترافی بیان اجیت ڈوول کی پالیسی پر عمل درآمد کا واضح ثبوت ہے۔ کلبھوشن یادو نے تسلیم کیا کہ وہ پاکستان میںلسانی ،سیاسی اور مذہبی بنیادوںپر خون ریزی کرنے والوں کی سرپرستی کرتا رہا یعنی اس کا نیٹ ورک کراچی سے کوئٹہ تک پھیلا رہا۔
بھارت جیسے دشمن سے خیر کی توقع نہیں کرنی چاہے۔ تقسیم ہند سے لے کر اب تک پاکستان کو نقصان پہنچانے کے درپے رہنے والے ملک آخر کیونکر چاہے گا کہ اس سرزمین پر امن وسلامتی کا ماحول پروان چڑھے۔ انتہاپسند ہندو سمجھتے ہیں کہ جنوبی ایشیاءمیں ان کے لیے بڑا خطرہ پاکستان اور چین ہی ہے جن سے بھرپور طور پر نمٹنا ضروری ہے ،چین تو اپنی قوت اور بھرپور منصوبہ بندی کے باعث بھارت کے نشانے پر نہ آسکا مگر پاکستان میں کشت وخون کا سلسلہ جاری وساری ہے۔
افسوس صد افسوس کہ سیاسی جماعتیںدہشت گردی کے خطرے کا پوری زمہ داری سے ادارک کرنے میں ناکام ہیں۔ سانحہ پشاور کے بعد قومی ایکشن پلان ترتیب دیا گیا، وزیراعظم نوازشریف اور ان کے رفقاءنے بڑے بڑے دعوے بھی کیے مگر عملا اس پر عمل درآمد نہ ہوسکا ۔ سوال یہ ہے کہ آخر کیا وجہ ہے کہ وفاقی اور صوبائی حکومتیں انتہاپسندی کو نظریاتی بنیادوں پر شکست دینے کے لیے پوری زمہ داری سے میدان عمل میں نکل نہیں پائیں یعنی ان پر خوف یا مصلحت میںسے کون سا جذبہ زیادہ بھاری ثابت ہوا۔ ایک تجزیہ یہ ہے کہ پی پی پی ہو یا مسلم لیگ ن دونوں سیاسی جماعتیں ملک کا کوئی ایک مسلہ بھی حل کرنے میںناکام ثابت ہوئیں۔ مہنگائی ، اشیاءخردونوش میں ملاوٹ، سرکاری اداروں میں رشوت ستانی کا تدارک، ٹریفک کا نظام درست کرنا، تعلیم وصحت کے شعبہ کو بہتر بنانا ، صفائی کا انتظام ، مقامی حکومتوں کو فعال کرنا غرض کوئی ایک بھی شعبہ ایسا نہیں جس میں دونوں ”تجربہ کار“ سیاسی جماعتوں نے اپنی صلاحتیوںکا لوہا منوایا ہو۔ اس پس منظر میں یہ کہنا غلط نہیں کہ دونوں سیاسی جماعتیں قومی مسائل حل کرنے کی نہ تو اہلیت رکھتی ہیں اور نہ ہی نیت۔
بطور قوم اس سچائی کو دل وجاں سے تسلیم کرنا ہوگا کہ فوج تن تنہا دہشت گردی کا خاتمہ کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتی۔ پاکستان کو جس دشمن کا سامنا ہے اس کی شناخت کرنا آسان نہیں۔ یہ جنگ سرحدوں کے باہر نہیں بلکہ ملک کے اندر لڑی جارہی۔ دشمن ہماری زبان بولتاہے۔ ہمارے جیسا لباس پہنتا ہے اور سب سے بڑھ ہمارے درمیان ہی رہتا ہے۔ لازم ہے کہ نظام عدل اور پولیس جیسے اہم محکمہ میں انقلابی تبدیلیاںلائی جائیں۔ پوچھا جارہا ہے جو نظام عام شہری کے روز مرہ مسائل کو حل کرنے میں مسلسل ناکام ثابت ہورہا اس سے یہ توقع کیونکر کی جائے کہ وہ دہشت گردی جیسے عالمی مسلہ کو حل کرنے میںاپنی ایلیت ثابت کریںگا۔
ستم ظریفی یہ ہے کہ قومی منظر نامہ پر موجود سیاسی شخصیات کی قابل زکر تعداد اپنے انفرادی اور گروہی مفادات سے آگے دیکھنے کی اہلیت ہی نہیں رکھتی۔ کئی دہائیوںسے سیاست کو کاروبار سمجھنے والوں سے یہ توقع رکھنا عبث ہے کہ وہ خالصتا ملکی مفاد کے لیے کچھ کر گزریںگے۔ پرنٹ والیکڑانک کے علاوہ سوشل میڈیا کا دباو ہی ہے جو کہیں نہ کہیں کسی نہ کسی شکل میں بہتری دکھائی دے رہی چنانچہ اگر مگر کے باوجود سچ یہی ہے کہ مسقبل قریب میں دہشت گرد کاروائیوں کا فی الفور ختم ہونے کے امکانات خاصے مخدوش ہیں۔

Scroll To Top