کلبھوشن یادو کا معاملہ طول پکڑے گا ؟

zaheer-babar-logoآئی ایس پی آر نے بھارتی جاسوس کلبھوشن یادو کی ایک نئی وڈیو جاری کی ہے جس میں بھارتی نیوی آفیسر اس بات کا پھر اعتراف کررہا کہ اس نے پاکستان میں دہشت گردی کی کاروائیاں سپانسر کیں تاکہ سی پیک کو نقصان پہنچے اور کراچی و بلوچستان میں حالات خراب کیے جائیں۔ کلبھوشن یادو نے وڈیو میں آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سے رحم کی اپیل بھی کی ۔ “
وطن عزیز میں لسانی ، سیاسی اور مذہبی دہشت گردی میں بھارت کا کردار ہرگز خفیہ نہیں رہ گیا۔ تشویش کا پہلو یہ ہے کہ بھارت کی زمہ دار شخصیات پاکستان میں گڑبڑ کا اعتراف کرنے میں ہرگز تامل کا مظاہر ہ نہیں کرتیں۔ کانگریسی حکومت کے برعکس بھارتیہ جتنا پارٹی کی سرکار میں یہ خرابی شدت کے ساتھ نمایاں ہے کہ وہ پاکستان کے ساتھ بدترین تعلقات کو اپنی کامیابی تصور کرتی ہے۔نئی دہلی میں مودی سرکار کے آتے ہی یہ بھی دیکھنے کو ملا کہ امن پسند قوتیں کمزور ہوئیں۔ انتہاپسندی کے شور میں بھائی چارے کے حامیوں کا دب جانا صورت حال کی سنگینی کو ظاہر کررہا۔
پاکستان اور بھارت کے ایٹمی قوت بن جانے کے بعد امید کی گی کہ اب پڑوسی ملکوں کے پاس سوائے امن کے کوئی آپشن نہیں رہ گیا۔ اٹل بہاری واجپائی کی لاہور آمد نے بھی دونوں ملکوںمیں دوستانہ تعلقات کا خواب دیکھنے والوں کو حوصلہ بخشا۔ اس وقت کے وزیراعظم نوازشریف بھی کئی دہائیوں سے کشیدگی ختم کرنے کے ہر قربانی دینے کو تیار ہوگے مگر پھر کارگل کا معاملہ ہوگیا۔ درست ہے کہ کارگل کے پہاڈ عملا دونوں ملکوں میں پائے جانے والے اختلافات ختم کرنے میں رکاوٹ بن گے ۔ مگر ماضی کو ایک طرف رکھتے ہوئے آج بے جے پی قیادت سمجھ لے کہ جلسے جلوسوں میں پاکستان کے نفرت انگیز تقریریں کرکے اقتدار حاصل تو کرنا آسان ہے مگر اپنے دعووں کو عملی شکل دینا مشکل ہی نہیں ناممکن بھی ٹھرا۔
افسوس صد افسوس کہ اکسیوں صدی میں رہنے کے باوجود بھارتی جمہوریت سے مودی کی شکل میں ایسا ”رہنما“ برآمد ہوا جو امن کی اہمیت کا ادارک نہیں کرپارہا۔ بے جے پی کے دور میں اسلام ، پاکستان اور مسلمان سے دشمنی پر محض زبانی جمع خرچ ہی نہیں حقیقی معنوں میں اس پر عمل کیا جارہا۔ دراصل کئی دہائیوں سے بھارتی سیاست اور میڈیا میں پاکستان دشمنی فروغ پارہی۔ پڑوسی ملک میں تادم تحریر ایسی سوچی سمجھی کوشش نہیں کی گی کہ پاکستان مخالف جذبات کو کنڑول کیا جائے۔ بھارتی پالیسی اس حقیقت کو فراموش کررہے کہ حقیقی معنوں میںاس وقت تک تعمیر وترقی کا خواب شرمندہ تعبیر نہیں ہوسکتا جب تک علاقائی سطح پر تعمیری کردار ادا نہ کیا جائے۔
اس میں شک نہیں کہ بھارت کے برعکس پاکستان امن کا زیادہ متمنی ہے۔ نائن الیون کے بعد دہشت گردی کے خلاف جنگ میں اب تک ہزاروں پاکستانیوں کی قربانی دی جاچکی۔ ملکی معیشت کو اربوں ڈالر کا نقصان ہوا۔ آج لاکھوں نہیں کروڈوں پاکستانی غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزرانے پر مجبور ہیں۔ قرضوں میں جکڑی پاکستانی معیشت کے لیے ممکن ہی نہیں کہ وہ بھارت سمیت کسی بھی دوسرے ملک کے ساتھ محاذآرائی جاری رکھے۔دراصل یہ وہ حقائق ہیں جنھوں نے بھارت کو دلیر کررکھا چنانچہ مودی سرکار مسلسل اس پالیسی پر کاربند ہے کہ پاکستان کو دباو میںلاکر من مانی شرائط پر تنازعات کو حل کرلیا جائے۔
دوسری جانب بھارت یہ تاثر دینے کے لیے بھی کوشاں ہے کہ مقبوضہ وادی میں جاری تحریک آزادی کے درپردہ پاکستان کا کردار ہے۔ مودی حکومت اس بات کو کسی طور پر تسلیم کرنے کو تیار نہیں کہ مقبوضہ وادی میں جاری تحریک نہ صرف مقامی ہے بلکہ اس میں بھارتی سرکار کی جانب سے طاقت کے زور پر کشمیریوںکی آواز دبانا بھی بنیادی کردار ادا کررہا ۔ کسی دانشور نے خوب کہا کہ زندگی دوسروں کی خامیوں کی بجائے اپنی خوبیوںکے سہارے ہی بسر کی جاسکتی ہے۔ دراصل یہ قول فرد اور قوم دونوں پر یکساں لاگو کیا جاسکتا ہے۔
پاکستان کے ساتھ حقیقی معنوں میں بہتر تعلقات قائم کرنے کی بجائے بھارت کلبوھشن یادو جیسے کرداروں کے زریعہ مسائل کو بڑھا رہا ہے۔ حال ہی میں جب فوجی عدالت کی جانب سے بھارتی جاسوس کو پھانسی کی سزا دی گی تو وزیر خارجہ سشما سوراج نے اسے دھرتی کا بیٹا قرار دیا۔ آج بھارت اپنے جاسوس کو بچانے کے لیے عالمی عدالت انصاف تک جا پہنچا۔ یہ بھی اطلاعات ہیں کہ پاکستان پر مختلف حوالوں سے دباو ڈالا جارہا کہ وہ بھارتی جاسوس کو سزائے موت دینے سے باز رہے۔ یقینا آج کے حالات میں بھارتی جاسوس کو باآسانی چھوڈ دینا مشکل ہوچکا۔ کلبوھشن یادو کے تازہ وڈیو بیان میں ایک طرف وہ پاکستانی سرزمین پر اپنے گھناونے جرائم کا اعتراف کررہا تو دوسری طرف چیف آف آرمی سٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ سے رحم کی اپیل کی جارہی۔
ماضی کے برعکس آج کے پاکستان میںممکن نہیں رہا کہ کوئی بھی حکومتی ادارہ باآسانی کلبوھشن یادو کے معاملہ میں بھارت سے تعاون کرڈالے۔ مسلم لیگ ن کے لیے بھی بھارتی جاسوس بارے موقف میں نرمی اختیار کرنا خاصا مشکل ہوچکا۔عام انتخابات میں اب زیادہ وقت نہیں رہ گیا۔ وزیراعظم نوازشریف کے مخالفین پہلے ہی ان پر یہ الزام عائد کرچکے کہ وہ بھارت بارے خطرناک حد تک نرم گوشہ رکھتے ہیں۔zaheer-babar-logo پانامہ لیکس کے معاملہ پر الجھی پی ایم ایل این کے لیے کسی طور پر آسان نہیں کہ مسقبل قریب میں بھارتی جاسوس بارے اعلانیہ موقف بدل لے۔ بادی النظر میںقوی امکان ہے کہ کلبھوشن یادو کی سزائے موت پرعمل درآمد نہ ہونے کے باوجود وہ طویل عرصہ تک پاکستان میں جیل کی سلاخوں کے پچھے رہے۔)

Scroll To Top