اگر ” موساد“ ایک ہِٹ لِسٹ رکھنے میں حق بجانب ہے تو ایک ہِٹ لِسٹ آئی ایس آئی کے پاس بھی ہونی چاہئے

aaj-ki-baat-new-21-aprilامریکہ کو جمہوریت بے حد عزیز ہے۔ وہ دنیا میں ہر جگہ جمہوریت دیکھنا چاہتا ہے۔ خصوصی طورپر پاکستان میں جہاں صوبائی عصبیتوں اور علیحدگی پسندانہ رحجانات کے فرو غ کے لئے اسے جمہوریت کی بے پناہ شدت کے ساتھ ضرورت ہے۔ جب بھی یہاں فیوڈل لارڈز کی سربراہی میں چلنے والی جمہوریت کی بداعمالیوں سے فائدہ اٹھا کر فوجی آمر برسراقتدار آئے امریکہ نے انہیں بھی یہی مشورہ دیا کہ جمہوریت کا لباس پہن لیں کیوں کہ جمہوریت نہیں ہے تو کچھ بھی نہیں ہے۔
مگر جمہوریت امریکہ کو ایسی چاہئے جیسی اسے پاکستان میں ملتی رہی ہے۔ ایسی جمہوریت پاکستان میں امریکہ کے لئے سوہانِ روح ہوگی جس میں عوام کا کوئی حقیقی لیڈر ابھر کر سامنے آئے۔ امریکہ پاکستان میں ایران اور حماص جیسا تجربہ دیکھنا نہیں چاہتا۔ضروری نہیں کہ امریکہ کے مقاصد صرف جمہوریت سے ہی پورے ہوتے ہوں۔ امریکی مقاصد کے لئے ایسی بادشاہتیں اور ایسی امارات بھی پوری طرح قابلِ قبول ہیں جو امریکی خوشنودی کو اپنی حکمت عملیوں کا بنیادی اصول بنائے رکھتی ہوں۔
اور اسرائیل تو امریکہ کو بہت ہی زیادہ قابل ِقبول ہے۔ یہ دنیا کا واحد ملک ہے جو چوالیس برس سے اپنے پڑوسی ممالک کے علاقوں پر قبضہ جمائے ہوئے ہے ` کسی بین الاقوامی قرارداد کی پرواہ نہیں کرتا مگر امریکہ کا منظور نظر ہے!
اور کون نہیں جانتا کہ اسرائیل کی خفیہ ایجنسی ” موساد“ نے ان لوگوں کے ساتھ کیا سلوک روا رکھا ہے جو ” ناپسندیدہ“ افراد کی فہرست میں شامل کئے جاتے رہے ہیں۔
کوئی پیرس کے کسی ہوٹل میں مردہ پایا گیا۔
کسی کو لندن کے کسی موڑ پر گولی ماری گئی۔
کسی کو برازیل سے اٹھا کر تل ابیب پہنچایا گیا۔
یوں ہی مجھے خیال آیا ہے کہ پاکستان کی آئی ایس آئی پاکستان کے غداروں کے ساتھ ایسا ہی سلوک کرنے میں حق بجانب کیوں نہیں ہوگی؟
اگر ” موساد“ ایک ہِٹ لِسٹ رکھنے میں حق بجانب ہے تو ایک ہِٹ لِسٹ آئی ایس آئی کے پاس بھی ہونی چاہئے ۔

Scroll To Top