ہمیں حالت جنگ سے کون نکالے گا ؟

aaj-ki-baat-new-21-aprilمیں نہیں جانتا کہ پاکستان کو حالتِ جنگ میں رکھنے کا فائدہ کس کو ہے ؟ یا پھر کس کس کو ہے ؟ لیکن اس حقیقت سے انکار ممکن ہی نہیں کہ آج کا پاکستان ہر لحاظ سے حالتِ جنگ میں ہے۔
اگر ذہن میں صرف ایک اصطلاح یعنی ” دہشت گردی “کو ہی رکھا جائے تو پاکستان دہشت گردوں کی جنت بنا دکھائی دیتا ہے۔ یہ دہشت گرد کون ہیں ؟ کہاں سے آئے ہیں ؟ ان کے مقاصد کیا ہیں ؟ ان کے پیچھے کون ہیں ؟ انہیں تربیت کون دیتا ہے ؟ انہیں اسلحہ کون فراہم کرتا ہے ؟ انہیں سرمایہ کہاں سے ملتا ہے ؟ یہ وہ سوالات ہیں جو ہمارے ذہن میں اٹھے بغیر نہیں رہتے۔ کسی کے پاس کوئی ایسا جواب نہیں جس کی تصدیق ٹھوس شواہد کے ساتھ کی جاسکے۔ سوائے شاید رحمان ملک کے جو پاکستان میں امن و امان قائم رکھنے والے نظام کے کرتا دھرتا اور سربراہ ہیں۔ انہیں تو کٹی پہاڑی پر بھی ” طالبان“ نظر آگئے ۔!
وہ بھی تو دہشت گردی ہی تھی جس نے چار روز کے اندر ایک سو خاندانوں میں صف ِماتم بچھوا دی۔ اُن لوگوں کے تانے بانے کن ِلوگوں سے جاملتے ہیں جو کئی روز تک پولیس کی نظروں کے سامنے ہتھیار اٹھائے اپنے نشانے تلاش کرتے رہے ؟
پاکستان صرف ” دہشت گردی “ کے عنوان کے تحت ہی حالتِ جنگ میں نہیں۔ سیاسی طور پر بھی حالتِ جنگ میں ہے۔ ایک طرف پاکستان پیپلزپارٹی اور ایم کیو ایم نے ایک دوسرے کی بانہوں سے نکلنے کے فوراً ہی بعد ایک دوسرے پر بندوقیں تان لی ہیں ۔ اور دوسری طرف میاں نوازشریف نے حکومت گرانے کے لئے اپوزیشن کی گرنیڈ الائنس کے ممکنہ قیام کا اعلان کردیا ہے۔
جہاں تک بڑھتی ہوئی اقتصادی بدحالی اور روز بروز شدت پکڑتے ”مہنگائی کے طوفان “کا تعلق ہے ` وہ تو پوری قوم کی نظروں کے سامنے ہے۔ یہ جنگ مکمل طور پر یکطر فہ ہے۔ کیوں کہ عوام کے سامنے تو کوئی ایسی جگہ بھی نہیں جہاں جاچھپیں۔
بجلی اور توانائی کے بحران نے جو حالات پیدا کررکھے ہیں وہ بھی کسی کی نظروں سے پوشیدہ نہیں۔
اس سے زیادہ خوفناک حالتِ جنگ اور کیا ہوسکتی ہے ؟
کون چاہتا ہے کہ پاکستان اس دلدل میں مسلسل دھنستا ہی چلا جائے۔۔۔؟
اور کون ہے جو وطن ِ عزیز کو مزید تباہی سے بچانے کے لئے میدان میں اترنے کی صلاحیت رکھتا ہے؟
(یہ کالم آج سے تقریباً 6برس قبل بھی شائع ہوچکا ہے )

Scroll To Top