افغان قیادت دوسروں کے ہاتھوں استعمال نہ ہو

zaheer-babar-logoآئی ایس پی آر کے مطابق آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی ہدایات کی روشنی میں پاک افغان سرحد پر مرحلہ وار باڈ لگانے کا عمل شروع ہوچکا ۔ پہلے مرحلے میں قبائلی علاقے کی حساس ایجنسیوں باجوڈ ، مہمند اور خیبر ایجنسی پر باڈہ لگانے کا عمل شروع کیا جائیگا جبکہ دوسرے مرحلے میں باقی ماندہ ایجنسیوں اور بلوچستان سے منسلک پاک اففان سرحد پر باڈ لگائی جائیگی۔ پاک فوج اور فرنیٹر کانسٹیبلری خبیر پختوانخواہ کی سرحد پر نئے بارڈر پوسٹ اور قلعہ تعمیر کررہی ہے جس کے نتیجے میں دفاع اور نگرانی مذید موثر ہوگی۔“
دراصل کابل حکومت کو سمجھنا ہوگا کہ محفوظ سرحد دونوں ملکوں کے مفاد میں ہے ۔اشرف غنی کا دہشت گردی کی ہر کاروائی کا زمہ دار پاکستان قرار دینا بالواسطہ یا بلاواسطہ طور پر ان قوتوں کو طاقتور بنا رہا جو خطے میں کشت وخون کو ہتھیار بناتے ہوئے اپنے مذموم مقاصد کی تکمیل کے لیے سرگرم عمل ہیں۔
طالبان کے بعد داعش افغانستان میں اپنے پنجے جمانے کے لیے کوشاں ہے۔ دونوں شدت پسند گروہوں کے نظریات میں کہیں نہ کہیں اختلاف ہونے کے باوجود قتل وغارت گری پر کامل اتفاق موجود ہے۔ کابل میں پالیسی ساز حضرات کو سمجھ جانا چاہے کہ داخلی اور خارجہ محاذ پر انھیں صرف اور صرف اتفاق رائے کی ضرورت ہے ۔ مذید یہ کہ پاکستان کے ساتھ محاذآرائی کے لیے اکسانے والے نہ توجنوبی ایشیاءکے امن کے لیے مثبت کردار ادا کررہے اور نہ وہ افغانستان کے دوست ہیں۔
کم یا زیادہ کے فرق کے ساتھ اس پہلو کو نظر انداز نہیں کیاجاسکتا کہ خطے میں بھارت ہی وہ واحد ملک ہے جو عدم استحکام پیدا کرنے کا خواہشمند ہے ۔ مودی سرکار کی خواہش اور کوشش اب کسی سے ڈھکی چھپی نہیں رہی کہ علاقائی ملکوں میں کسی طور پر دوطرفہ تعاون کو فروغ حاصل نہ ہوا۔ انتہاپسند پس منظر رکھنے والے بھارتی وزیراعظم پاکستان کو سفارتی سطح پر تنہاکرنے کے لیے تمام جتن کررہے ۔ بی جے پی قیادت کو اس سے کوئی سروکار نہیں کہ مخاصمت اور دشمنی پر مبنی اقدمات سے خطے میں امن اور ترقی کا عمل سست روی کا شکار ہوسکتا ہے۔جنوبی ایشیاءمیں شرح غربت سے نیچے زندگی گزارنے والے انسان لاکھوں نہیں انسان ہیں۔ تعلیم اور صحت کی سہولیات تو دور بہت سے ایسے بھی ہیںجنھیں پینے کا صاف پانی تک میسر نہیں۔ اس سوال کا جواب ڈھونڈنا زیادہ مشکل نہیں کہ اس اہم خطے میں باہم محاذآرائی اور کشیدگی کا ماحول برقرار رہا تو بہتری کی صورت کیونکر پیدا ہوگی۔
شومئی قسمت سے افغان قیادت اب بھی اپنے مسائل کو دوسروں کی نظر سے دیکھنے کی حکمت عملی پر کاربند ہے۔ اشرف غنی حکومت میں یہ احساس بیدار ہوتا نظر نہیں آتا کہ اسے دوسروں کے ہاتھوں میں کٹھ پتلی بنے کی بجائے خالصتا اپنے قومی مفادات کو ملحوظ خاطر رکھنا چاہے۔ یہ بتانے کی ضرورت نہیں کہ بھارت صرف اور صرف مخصوص مقاصد کے حصول کے لیے افغانستان کو استمال کررہا اسے اس بات کی ہرگز کوئی پرواہ نہیں کہ ایک دہائی قبل کی طرح آج بھی کابل محفوظ نہیں۔ افسوس کہ کبھی طالبان اور کبھی داعش معصوم اور نہتے افغانوں کو نشانہ بنا کر اپنی طاقت دکھانے کی روش پر گامزن ہے۔ بھارت اگر کسی بھی شکل میں افغانستان کا طرف دارہوتا تو جنگ سے تباہ حال ملک میں قیام امن اس کی پہلی ترجیح ہوتا مگر باجوہ ایسا نہیں۔
افغانستان کی تعمیر وترقی کا خواب اسی وقت شرمندہ تعبیر ہوگا جب افغان قیادت اپنی زمہ داریوں کو محسوس کریگی۔ دوسرے کے اشاروں پر ناچنے کی صورت میں پڑوسی ملک میں بہتری کا ظہور پذیر ہونا ہرگز ممکن نہیں۔ حیرت انگیز طور پر تاحال اففانستان میں خود انحصاری پر مبنی سوچ فروغ نہیں پاسکی۔ بعض حلقوں کے مطابق اس خرابی کا بنیادی سب دہشت گردی کا وہ خوف ہے جس نے ہمہ وقت افغان پالیسی سازوں کو گھیر ے میںلے رکھا ہے۔ طالبان کے بعد داعش کی شکل میں انھیں ایسے عفریت کا سامنا ہے جس کا توڈ کم ازکم ان کے پاس ہرگز موجود نہیں۔درست ہے کہ جب دارلحکومت تک میں افغان حکومت کی رٹ حقیقی معنوں میں بحال نہیں ہوسکی تو پھر ملک بھر میں اس کی حاکمیت قائم ہونا خواب سے زیادہ اہمیت نہیں رکھتا۔
افغانستان کے ساتھ اچھے تعلقات کا معاملہ پاکستان کے لیے بھی کسی چیلنج سے کم نہیں۔پڑوسی ملک میں بھارت کا اثر رسوخ تلخ حقیقت سہی مگر سوال یہ ہے کہ ہم اس کا توڈ کرنے میںکیونکر کامیاب نہیں ہوسکے۔باشعور پاکستانی یہ سوال کرنے میں حق بجانب ہے کہ آخر کب تک بھارت کو اپنی تمام تر کمزوریوں کا زمہ دار سمجھا جاتا رہیگا۔ پوچھا جارہا ہے کہ اگر افغانستان میں بھارت اپنا اثررسوخ بڑھانے میں کامیاب ہوچکا تو ہم اپنے پرانے تعلقات کی تجدید کیونکر نہیں کرسکتے۔پاکستان نے افغانستان کے لیے بے تحاشا قربانیاں دی ہی نہیںبلکہ اب بھے دے رہا ہے ۔ ملک کے مختلف علاقوں میں بدستور لاکھوں افغان مردوزن موجود ہیں۔ ایسے بھی لاکھوں میں ہونگے جنھوں نے پاکستانی شناخت کارڈ بنا کر یہاں جائیداد بنا لی۔ زمہ داروں کو افغان پالیسی پر تنقیدی نگاہ ڈالنا ہوگی۔ ان خرابیوںکو ہنگامی بنیادوں پر دور کرنا ہوگا جو دونوں ملکوں کے بہتر تعلقات کے حوالے سے رکاوٹ بن چکیں۔ چیف آف آرمی سٹاف کی جانب سے پاک افغان بارڈر پر باڈ لگانے کا فیصلہ خوش آئند مگر منتخب حکومت کو بھی آگے بڑھ کر پیش رفت دکھانا ہوگی تاکہ خطے میں پاکستان کے دوستوں کی تعداد دشمنوں سے بڑھ جائے ۔

Scroll To Top