خاموش تماشائی بنے رہنا کہاںکی حب الوطنی ہے ؟ 09-07-2011

kal-ki-baatحکومت نے کراچی کے بے بس شہریوں کو موت برسانے والے عفریتوں کے رحم و کرم پر کیوں چھوڑ دیا ہے ؟
ایک ایسے موقع پر جب حکومتی اتحاد میں زبردست دراڑیں پڑتی نظر آرہی ہیں ` اور ملک کا تیزی سے زور پکڑتا ہوا سیاسی عدم استحکام قوم کے سیاسی منظر نامے کو بالکل نئے انداز میں قلم بند کرتا دکھائی دے رہا ہے ` کرائے کے قاتلوں کو کن طاقتوں نے کن مقاصد کے لئے ہلاکت آفرین ہتھیار ہاتھوں میں پکڑوا کر کراچی کے معصوم شہریوں پر چھوڑ دیا ہے ؟
ہم انگشت ِ الزام بھارتی تخریبی کار ایجنسی ” را“ کی طرف اٹھانے کے عادی رہے ہیں ۔ اور اب تو ” را“ کی مدد کے لئے سی آئی اے بھی میدان عمل میں کود چکی ہے۔
مگر آج انگشت ِ الزام نہ تو صرف ” را “ پر ٹھہر رہی ہے اور نہ ہی صرف ” سی آئی اے “ پر ۔ حالات و واقعات یہ بھی کہتے دکھائی دے رہے ہیں کہ یہ خونی کھیل صرف غیر ملکی ایجنٹ نہیں کھیل رہے۔۔۔ خود ہماری صفوں میں ڈاکوﺅں لٹیروں اور قبضہ مافیاﺅں نے اس قدر محفوظ کمین گاہیں بنالی ہیں ` اور ان کمین گاہوں میں ایسے مورچے تیار کرلئے ہیں کہ اب اگر ملک کو کوئی طاقت تباہی اور بربادی سے بچا سکتی ہے تو وہ صرف خدا کی ذات ہے ۔ وہی چاہے اور وہی فیصلہ کرلے تو خاموش تماشائی بنے ہوئے کچھ ایسے ذہنوں میں احساسِ فرض اور حمیت ڈال سکتا ہے جو خون ِ آدم کو اس قدر بے دردی کے ساتھ بہانے والوں کے ہاتھ کاٹنے کا اختیار کھتے ہیں۔
خاموش تماشائی بنے رہنا کہاں کی حب الوطنی ہے ۔۔۔

Scroll To Top