کرکٹ کو عمران خان بہت پیچھے چھوڑ آئے ہیں ۔۔۔۔

aaj-ki-baat-new-21-aprilآج میں ایک حقیقت بڑی وضاحت اور اپنے قلم کی پوری قوت کے ساتھ بیان کرناچاہتا ہوں۔۔۔ اور وہ یہ کہ عمران خان تحریک انصاف کے سربراہ اور پاکستان میں تبدیلی کے ایجنڈے کے داعی اور پرچم بردار اس لئے نہیں ہیں کہ ان کی قیادت میں پاکستان نے مارچ1992ءمیں ورلڈ کپ جیتا تھا۔۔۔ وہ پاکستان کے ایک بہت بڑے اور بڑھتے ہوئے ووٹ بنک کے مالک اِس لئے ہیں کہ وہ عمران خان ہیں۔۔۔ ایک ایسا فرد جس کو قدرت نے ایسی شخصی صلاحیتوں سے نوازا ہوا ہے جو لاکھوں مداحوں کو ان کی طرف کھینچتی ہیں اور شاید لاکھوں ہی مداحوں کو ان کے مخالفین کے پیچھے کھڑا کرتی ہیں۔۔۔
مارچ1992ءکا ورلڈ کپ جیتنے اور مارچ 2007ءمیں شروع ہونے والی لائرز موومنٹ کے درمیان پندرہ برس کا فاصلہ ہے۔۔۔ جو عمران خان آج ملک کے روایتی حکمرانوں کے لئے درد ِ سر بنا ہوا ہے وہ ورلڈ کپ جیتنے والا عمران خان نہیں۔۔۔ وہ ایک ایسا ” ویژنری“ ہے جس نے پہلے شوکت خانم میموریل ہسپتال کا خواب دیکھا۔۔۔ پھر نمل یونیورسٹی کا خواب دیکھا۔۔۔ اور اِسی دوران پاکستان کا مقدر تبدیل کرنے کے خواب کو بھی اپنے اندر سینچتا رہا۔۔۔اگر کوئی بڑی ٹرافی جیتنے والا کھلاڑی تبدیلی کے ایجنڈے کا علمبردار اور میدان سیاست کا ایک بڑا شہسوار بن سکتا تو میاں نوازشریف بجا طور پر سوچتے کہ سرفراز احمد کی شکل میں انہوں نے عمران خان کا ” توڑ “ پالیا ہے۔۔۔ اس سے پہلے یونس خان پاکستان کی سیاست میں ہلچل مچا ہوچکے ہوتے۔۔۔ میں یہاں سکوائش اورہاکی کے لیجنڈز )جہانگیر خان ` جان شیر خان ` سمیع اللہ اور شہناز و شہباز وغیرہ(کا ذکر نہیں کروں گا کیوں کہ کرکٹ کے کھیل کو بہرحال بڑی ہمہ گیر اور وسیع مقبولیت حاصل ہے۔۔۔
میں سمجھتا ہوں کہ عمران خان کو موجودہ مقام تک لانے میں کرکٹ نے محض ایک راستے کا کردار ادا کیا ۔۔۔اورسچی بات یہ ہے کہ میں بھی 2008ءتک عمران خان کو محض ایک بڑا اور مہان کرکٹر سمجھتا رہا۔۔۔ میں نے ان کی ” سیاست“ کو ایک عرصے کے بعد سنجیدگی سے لیا۔۔۔ یہ 2009ءکی ایک ملاقات کی بات ہے جس میں عمران خان نے بڑے شکایتی انداز میں کہا تھا۔۔۔ ” لوگ میرے دوست تو بن جاتے ہیں مگر اِس خواب میں میرا ساتھ دینے کے لئے تیار نہیں ہوتے جو میں اپنے وطن کے مستقبل کے بارے میں دیکھتا ہوں۔۔۔ کیا پاکستان کو اِسی طرح بے رحم طالع آزماﺅں کے رحم و کرم پر رہنا چاہئے۔۔۔؟“
مجھے عمران خان کا یہ انداز اچھا لگا۔۔۔
” آج سے میں آپ کا صر ف دوست نہیںہوں۔۔۔“ میں نے جواب دیا تھا۔۔۔
یہ درست ہے کہ تحریک انصاف اب تحریک سے زیادہ سیاسی جماعت بن چکی ہے۔۔۔ مگر میں جانتا ہوں کہ جو عمران خان تحریک انصاف کا سربراہ ہے اس کے اندر جو عمران خان ہے وہی حقیقی عمران خان ہے۔۔۔
تاریخ سے میں نے ایک سبق یہ بھی سیکھا ہے کہ لوگوں کی عظمتوں کا تعین وہ راستے نہیں کرتے جن پر وہ چلتے ہیں ` وہ منزلیں کرتی ہیں جہاں پہنچ کر وہ دنیا سے مخاطب ہوتے ہیں۔۔۔

Scroll To Top