کراچی کی مرکزی جیل میں آپریشن قابل تحسین

zaheer-babar-logoکراچی کی مرکزی جیل میں تلاشی کے دوران بڑی تعداد میں موبائیل فونز ،ٹی وی سٹیس،ایل سی ڈی، یوایس بی اور اینٹی جمیرز ڈیوائس اور جہادی مواد کے علاوہ پنکھے ، روم کولر ، بڑی تعداد میں کچن کا سامان برآمد ہوا ۔ بھٹائی سیکڑ کے رینجرز کمانڈر شاہد جاوید کے مطابق آپریشن پولیس کے مطالبہ پر کیا گیا جو کراچی جیل میں 27 سال بعد اس نوعیت کا ہونے والا آپریشن ہے۔ اس سے قبل 1990 میں کراچی جیل میں آپریشن کیا گیا۔ حکام کے مطابق جیل سے جوسر، مائیکرویواون، 100 سے زائد گیس سیلنڈر کے علاوہ 56ٹن راش بھی برآمد کیاگیا جو مخصوص قیدیوں کے کھانے کے لیے استمال کیا جاتا تھا۔ سیکورٹی اداروں نے اس خدشہ کا بھی اظہار کیا کہ گیس سیلنڈر جیل توڈنے کے لیے بھی استمال کیے جاسکتے تھے۔ جیل سے بڑی مقدار میںمنشیات ، جہادی لڑیچر کے علاوہ 33 لالکھ روپے کی نقد رقم بھی برآمد ہوئی ۔ “
یاد رہے کہ کراچی جیل میں تلاشی کی یہ کاروائی کالعدم تنظیم کے دوکارکنوں کا جیل سے بھاگ جانے کے بعد عمل میں لائی گی۔
کراچی کی سنٹرل جیل میں اس وقت بھی سیکنڑوں نہیں ہزاروں خطرناک قیدی بند ہیں۔ان میں کالعدم دہشت گرد تنظیوں کے علاوہ لسانی، سیاسی اور مذہبی جماعتوں کے لیے کام کرنے والے ایسے تربیت یافتہ مجرم بھی ہیں جن پر قتل، اقدام قتل ، اغواءبرائے تاوان اور دیگر کئی سنگین جرائم میں ملوث پائے گے۔ ساحلی شہر میں امن وامان کی موجودہ صورت حال کا کریڈٹ شہر کے قانون نافذ کرنے والے اداروں کو نہ دینا زیادتی ہوگی جنھوں نے اپنی جانوں کی پرواہ نہ کرتے ہوئے روشنی کے اس شہر کو اجالے واپس دلائے۔ یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ کراچی میں جرائم پیشہ افراد ایک مافیا کی شکل میں کام کرتے رہے۔ ایک دوسرے کے مفادات کو تحفظ دینے کے علاوہ بسا اوقات متصادم مفادات ہونے کی صورت میں ٹکراو بھی ہو تا رہا۔ کراچی میں انڈرو رلڈ دنیا کے کئی بڑے شہروں کی طرح طاقتور رہی۔ بعض حلقے تو یہاں تک دعوے کرتے ہیں کہ اب بھی شہر قائد میں جرائم پیشہ افراد کی سرگرمیاں جاری وساری ہیں مگر انھوں نے طریقہ ودارت بدل لیا ہے۔
کروڈوں کی آبادی کا شہر کراچی طویل عرصے سے محض ایک سیاسی مافیا کا یرغمال بنا رہا۔ لندن سے ایک فون کال پر پورے شہر کا بند ہوجانا خواب نہیں بلکہ حقیقت کی شکل میں ساحلی شہر کے باسیوں کی زندگی اجیرن کرتا رہا۔ یقینا اس بات کا کریڈٹ موجودہ حکومت کے علاوہ جنرل راحیل شریف کو بھی جاتا ہے جنھوں نے باہم اشتراک کے نتیجے میں اس شہر کو امن واپس لوٹایا۔
وفاقی اور صوبائی حکومتوں کو اس سچائی سے کسی طور پر صرف نظر نہیں کرنا چاہے کہ شہر میںایسے عناصر اب بھی موجود ہیںجو ہمہ وقت تاک میںہیں کہ کب اور کیسے سیکورٹی فورسز کی حالات پر گرفت ڈھیلی پڑے اور وہاں بدامنی کی نئی لہر پیدا کردیں۔ وفاقی اور صوبائی زمہ داروں کو شہر میں متحکم بنیادوں پر امن وامان بہتر بنانے کے مذید اقدمات اٹھانے کی ضرورت ہے مثلا ایک طرف کراچی پولیس کو جدید بنیادوں پر استوار کرتے ہوئے سفارش کلچر ختم کرتے ہوئے خالصتا میرٹ کی بالادستی کو یقینی بنانا ہوگا۔ شہر میں ان عناصر کے خلاف بھرپور کاروائی جاری رکھنا ہوگی جو سیاسی اور لسانی بنیادوں پر امن وامان خراب کرنے پر تلے بیھٹے ہیں۔
(دیک)کراچی جیل میں دہشت گردوں اور جرائم پیشہ افراد کو جس قسم کی سہولیات میسر تھیں وہ زمہ داروں کی آنکھٰیں کھول دینے کے لیے بہت کافی ہونے چاہے ۔ سیکورٹی فورسز کا جیل میں آپریش قابل تحیسن مگر مسقبل قریب میں قیدیوں کو ایسی سہولیات کا ایک بار پھر فراہم ہوجاتا خارج ازمکان نہیں۔(ڈیک) دراصل سندھ حکومت کو ہوش کے ناخن لینے کی ضرورت ہے ۔ امن وامان جیسی بنیادی زمہ داری سے پہلو تہی کرکے صوبائی حکومت نہ صرف اہل سندھ کی نظروں میں اپنی ساکھ کھو رہی وہی ملک بھر میںاس کا تشخص مجروع ہورہا۔
پی پی پی کو نہیں بھولنا چاہے کہ عام انتخابات ہونے کو ہیں ۔ آئینی طور پر دوہزار اٹھارہ الیکشن کا سال ہے اگر صوبائی حکومت اسی اندازہ میں اپنی بنیادی زمہ داریوں سے پہلو تہی کرتی رہی تو غالب امکان ہے کہ اس بار سندھ میںاس کے ووٹ بنک میں نمایاں کمی واقعہ ہو۔ سابق صدر آصف علی زرداری اور پی پی پی کے چیرمین بلاول بھٹو زرداری کو باور کروانا ہوگا کہ صوبے کے علاوہ ملک بھر میں ان کی اہلیت پر سوالات کھڑے کیے جارہے۔ سوال یہ ہے کہ اگر کراچی سے سب سے بڑی جیل میں حالات کئی دہائیوں سے خراب ہیں تو اس کا زمہ دار کون ہے۔ ماضی کی حکومتوں کی نااہلی اپنی جگہ مگر پی پی پی کو تواتر کے ساتھ دس سال ہونے کو ہیں۔ دوسری بار آئینی مدت پوری کرتی حکومت اگر اپنے بنیادی فرائض خوش اسلوبی سے ادا نہیں کریگی تو سوالات تو اٹھیں گے۔
کراچی کو ریجنرز کے حوالے کرکے خود بری الزمہ ہونے کی روش کب تک چلتی رہے گی کچھ نہیں کہا جاسکتا۔ حالات کا تقاضا ہے کہ سول ادارے بتدریج اپنی زمہ داریاں سنھبالے تاکہ حقیقی معنوں میں مسقل بنیادوں پربہتری کے عمل کا آغاز کیا جاسکے۔ حال ہی میں کراچی جیل سے دوخطرناک ملزموں کا بھاگ جانا بتا رہا کہ جیل میں سیکورٹی اقدمات کس قدر ناقص ہیں ۔ امید کی جارہی کہ ریجنرز کی جانب سے جیل میں ہونے والا تازہ آپریشن مسقبل میں کسی ناخوشگوار واقعہ کو روکنے میں کلیدی کردار ادا کریگا۔

Scroll To Top