میں اپنا ماضی پیچھے چھوڑ آیا ہوں۔۔۔۔

aaj-ki-baat-new-21-aprilمیں بھی تین مرتبہ رمضان مبارک کا آخری عشرہ مکہ اور مدینہ کی ایمان افروز فضاﺅں میں گزار چکا ہوں۔۔۔دو مرتبہ عید الفطر ` میں نے مکہ معظمہ میں اور ایک بارمدینہ منورہ میں ادا کی تھی۔۔۔
اُن لمحوں کی لذت آج بھی میری سوچوں میں اور رگ وپے میں رچی بسی ہے۔۔۔
لیکن ساتھ ہی ایک سوال بھی میرے ذہن میں اٹھتا ہے۔۔۔
کیا رمضان المبارک کا آخری عشرہ بیت اللہ شریف اور مسجد نبوی ﷺ کے سائے میں گزارنے سے میرے تمام گناہ دھل گئے تھے ۔۔۔؟
ضرور دُھلے ہوں گے اگر میں گناہ دھونے کی نیت سے وہاں گیا ہوں گا۔۔۔
اور اگر میرے وہ سفر اِس لئے تھے کہ دنیا میرے زہدو تقویٰ کا نظارہ اسی طرح کرے جس طرح 17جون 2017ءکو جوڈیشل اکیڈمی کے کمرے سے برآمد ہوتے وقت میاں شہبازشریف نے اپنے ” گیری کوپرہیٹ“ کا نظارہ کروایا `ہوسکتا ہے کہ میرے گناہ میرے نامہ ءاعمال کا انمٹ حصہ بن گئے ہوں۔۔۔
وزیراعظم میاں نوازشریف نے ایک عرصے سے رمضان المبارک کا آخری عشرہ اُن فضاﺅں میں گزارنے کی روایت قائم کررکھی ہے جہاں گناہ دھلوائے جاتے ہیں۔۔۔ صرف اللہ تعالیٰ کی ذات جانتی ہے کہ میاں صاحب کے کون کون سے گناہ دھوئے جاچکے ہوں گے۔۔۔
گنہگار ہم سب ہیں۔۔۔ اور میاں صاحب بھی بقائمی ہوش وحواس اپنے آپ کو گناہوں سے عاری قرار نہیں دے سکتے۔۔۔
حضرت عمرفاروق ؓ کا پیمانہ سامنے رکھا جائے تو انہوں نے مصر کے گورنر حضرت عمرو العاص ؓ کو لکھا تھا۔۔۔ ”میرے بھائی تم نے اپنی بے انداز دولت کا حساب تو دے دیا مگر میں اپنے اِس دل کا کیاکروں جو مانتا ہی نہیں کہ کوئی سچا مسلمان اس قدر امیر ہوسکتا ہے ؟“
خدا کرے کہ میاں صاحب اس مرتبہ جب حجاز مقّدس سے لوٹیں تو سچ بولنے کی آرزو ان کے سینے میں انگڑائیاں لینے لگی ہو۔۔۔
اور اگلی مرتبہ جب وہ سرزمین پاک پر قدم رکھیں تو کہہ اٹھیں۔۔۔
’ ’ میں اپنا ماضی پیچھے چھوڑ آیا ہوں۔۔۔“

Scroll To Top